خطرناک ملزم سرفراز عرف سپھا اپنے ہاتھ سے گن کا فائر لگنے سے ہلاک

بورے والا(چوہدری اصغر علی جاوید سے)پولیس کی زیر حراست دہشت کی علامت انتہائی خطرناک ملزم سرفراز عرف سپھا کانسٹیبل سے گن چھین کر فرار ہونے کی کوشش میں دوران کشمکش فائر لگنے سے ہلاک ہو گیا،ملزم سرفراز سپھا نے ڈیڑھ سال قبل جغتائی لیب سٹیڈیم روڈ پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 445 (ای بی) کی بیوہ خاتون کے اکلوتے بیٹے بی اے کے طالبعلم شہزاد امین کے قتل سمیت پنجاب مختلف شہروں میں دوران قتل،اقدام قتل،ڈکیتی اور راہزنی جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث تھا ملزم سرفراز عرف سپھا کو ایس ڈی پی او محمد عمر فاروق کی زیر نگرانی تین تھانوں پر مشتمل ٹیم ریکوری کیلئے لے جا رہی تھی کہ رستے میں ملزم نے فرار ہونے کیلئے کانسٹیبل سے گن چھیننے کی کوشش کی دوران کشمکش اس کے اپنے ہاتھ سے گن کا فائر لگنے سے وہ ہلاک ہو گیا ملزم سرفراز ضلع وہاڑی سمیت پنجاب کے مختلف تھانوں میں 38 سے زائد دوران ڈکیتی قتل،اقدام قتل،ڈکیتی اور راہزنی سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث تھا اور دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا یاد رہے اس سفاک قاتل کے ہاتھوں شہید ہونے والا نوجوان شہزاد اپنی ماں کا دنیا میں واحد سہارا تھا جس کے چھن جانے کے بعد لاچار ماں اپنے لخت جگر کی اس المناک جدائی کے صدمے میں ذہنی توازن بھی کھو چکی تھی۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے