پولیس چوکی انچارج کی گنڈا گردی،طالبعلم کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا
بورے والا(نیوز ڈیسک)پولیس چوکی انچارج نے پولیس گردی کی انتہا کر دی،جرائم پیشہ شخص کے ایماء پر غریب کسان کے کمسن طالبعلم بیٹے کو گرفتار کرنے کیلئے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا،6 گھنٹے تک تھانے میں محبوس کیے رکھا کسان کی بیوی تھانیدار کے آگے واسطے دیتی رہی لیکن شیر جوان اسے گھسیٹتے ہوئے تھانے لے گئے،متاثرہ خاندان کا آئی جی پنجاب سے پولیس گردی کا نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق نواحی گاﺅں 453 (ای بی) کے غریب کسان محمد نواز سیکنڈ ائیر کے طالبعلم محمد شہزاد نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ گذشتہ روز وہ اپنی والدہ کے ہمراہ گھر پر موجود تھا کہ انچارج چوکی پولیس 457 (ای بی) حسن سجاد پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے دیواریں پھلانگ کر ہمارے گھر داخل ہو گیا اور مجھے گر فتار کر کے تھانے لیجانے لگے میری والدہ نے وجہ پوچھی اور منت سماجت کی تو اس کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اور گھسیٹتے ہوئے گاڑی میں ڈال کر تھانے لے گئے اور چھ گھنٹے تک بلاجواز چوکی پولیس457 (ای بی) میں بند کیے رکھا رات گئے مجھے رہا کیا وجہ عناد یہ ہے کہ اسی علاقہ کا جرائم پیشہ شخص نثار احمد لوہار مجھے اپنے ساتھ ملکر وارداتیں کرنے پر مجبور کرتا تھا میرے انکار پر اس نے انچارج چوکی حسن سجاد سے ملکر میرے ساتھ پولیس گردی کروائی ہے اس نے آئی جی پنجاب سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔