حکومت کاٹن کی پیداوار کے اضلاع میں شوگر ملز لگانے پر پابندی عائد کرے۔میاں جاوید طارق
بورے والا(چوہدری اصغر علی جاوید سے)پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین میاں جاوید طارق نے کہا ہے کہ حکومت کاٹن کی پیداوار کے اضلاع میں شوگر ملز لگانے پر پابندی عائد کرے اور پہلے سے موجود شوگر ملوں کی پیداوار ی صلاحیت بڑھانے پر پابندی لگائی جائے کپاس کی زیادہ پیداوار ہی ملک اور کسانوں کو خوشحال بنا سکتی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ملت فوڈ انڈسٹری کے ایم ڈی حافظ عبید اللہ،میاں محمد شہزاد(چیئرمین)کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے انہوں نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کیا کہ ٹیکسٹائل اور سپننگ ملوں کی طرح جننگ انڈسٹریز سے بھی سیلز ٹیکس ختم کر کے جنرز کے تحفظات کو ختم کریں جننگ انڈسٹری بھی ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ ہے اس کے علاوہ بجلی کے نرخ بھی کم کئے جائیں انہوں نے کہا کہ ملک میں کاٹن کی پیداوار کی کمی سے پاکستان کی ایکسپورٹ صرف 17بلین ڈالر رہ گئی ہے جبکہ ایکسپورٹ کا ٹارگٹ 25بلین ڈالر تھا جو کہ لمحہ فکریہ ہے انہوں نے کہا کہ بی ٹی کاشت کو فروغ دیا جائے اور اس کی فراہمی کے لئے مونسینٹو(Monsento) سے معاہدہ کیا جائے تاکہ موسمی حالات کو مدِ نظر رکھ کر کاٹن کی کاشت کو فروغ دیا جائے انہوں نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی 2005میں کل پیداوار 4کروڑ 1.5ملین بیلز تھی جو کہ 2015میں بی ٹی کاٹن سیڈ کی وجہ سے بڑھ کر تقریباً 4کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔