آج کی منتقم عورت

تحریر: صبیحہ گیلانی ۔ بورے والا

آج کی منتقم عورت!

زندگی کی دوڑ میں بے شمار مسائل نے انسان کو تھکا دیاہے۔جنت کے مزے لوٹنے والا سزا یافتہ انسان آ ج بھی ان گزرے شب و روز کو تلاش کرتا ہے اب جن کا حصول موت کے بعد کی زندگی تک موخر ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قدرت کی نافرمانی کا مرتکب انسان خود بھی اپنی زمینی زندگی کو ایکدوسرے پہ تنگ کیے ہوئے ہے،گویا سزا در سزا کا یہ سلسلہ انسان ،اپنے جیسے انسان سے روا رکھے ہوئے ہے۔اس کی مثال یوں ہے جیسے جیل میں قیدی آپس میں دست و گریباں ہو کر اپنی سزا و قید کو مزید مشکلات سے دوچار کر لیں۔زمین کی اس اجتماعی قید میں عورت آسان ہدف تصور کی جاتی ہے۔ترقی یافتہ انسان کے بہت سے ثقافتی ضابطوں ،رسم و رواج نے زمینی زندگی کو بدنما اور گھٹن زدہ کر دیا ہے،گھٹن کا یہ ماحول عورتوں کو سونپ کر،مرد خود بھی ان کے نتائج سے نبرد آزما ء ہے۔
موجودہ دور کے تقاضوں کی بات کی جائے تو گھریلومہارتوں سے نکل کر عورت نے اپنی بقا کی جنگ تعلیمی میدان میں لڑی ،اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ یہاں عورت نے مرد کو چاروں شانوں چیت کیا۔احساس ذمہ داری کے سبب ہر شعبے میں عورت کو ملازمت کے لئے ویلکم کیا گیا۔معاشی طور پہ مستحکم بیٹی ماں باپ کی سپوٹر اور رشتہ لینے والوں کی اولین ترجیح بنتی چلی گئی۔اس ،،رحجان ساز،، دوڑ میں چارو ناچار لڑکیوں کے مستقبل کے متعلق فکر مند والدین کود پڑے۔اعلی تعلیم کے لئے یونیورسٹی اور ہوسٹلز کی قیام گاہیں دھڑادھڑ بھرنے لگیں،یہی وجہ ہے کہ ہر یونیورسٹی میں لڑکیوں کی تعداد ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ہے۔ ملازمتوں میں بھی یہی ریشوہے۔
تعلیم اور ملازمت کے سلسلہ میں دیگر شہروں کا رخ کرنے والی خواتین میں ،ایسی خواتین میں بھی شامل ہوئیں جو باصلاحیت نہ تھیں یا گھریلو مسائل کے باعث بے صبری تھیں ،لہذا تعلقات کے شارٹ کٹ سے آگے آئیں اور اپنا اندر خالی کر بیٹھیں۔بڑوں شہروں کاکریز بھی لڑکیوں کی واپسی میں مانع ہوایا ان پڑھ خاندان میں ان پڑھ لڑکے پلے پڑ جانے کے خوف نے ،گھرواپسی کی راہیں مسدودکر دیں۔
میں نے قریب سے ایسے واقعات دیکھے کہ پڑھی لکھی لڑکیاں اپنا تشخص تک گنوا بیٹھی ہیں جن کی وجہ بے پناہ مسائل تو تھے ہی ،نام نہاد سہانے مستقبل کے خوابوں ،سرابوں کے پیچھے بھاگنا اور غیر حقیقت پسندانہ سوچ بھی ہے۔حیران کن بات ہے بہت سی ایسی بھی ہیں کہ جو لمحہ موجود میں اپنی حالت سے بے خبر ہیں۔پیزا ڈلیور کروانے والے مردوں کے ہاتھوں اپنا تشخص مجروح کرواتی خواتین گویادائرے میں سفر کر رہی ہیں۔اگر یہ کہا جائے یہ عجیب و غریب صورتحال عورت کا اپنی محرومیوں کا سوسائٹی سے بدلا ہے توغلط نہ ہو گا،لیکن دوسری جانب سمجھا جائے تو یہ عورت کا اپنے وجود سے بھی انتقام ہے ،جو اس کے ظاہر کو مضبوط اور اندر کو کمزور کر رہا ہے اس امتزاج سے جنم لینے والی جنریشن کیا ہو گی ؟ایک مرتبہ پھر غیر متوازن سوسائٹی کا قیام!
بقا کی جنگ لڑنے والی خواتین کو چاہئے کہ وہ خود پہ انحصار کریں۔ایسے فائدے پہ لعنت بھیج دیں جن کے درپردہ ان کا استحصال ہو!
پھر سوسائٹی سے عورت کا یہ انتقام کرب کی صورت اسے چاٹ جائے گا۔اگر تمام وسائل پہ قابض ہو کر عورت انتقام کی روش اختیا ر کرے گی تو میں سمجھتی پھر متوازن معاشرے کا قیام ہمیشہ کے لئے خواب بن جائے گا!!اور عورت کا محبت بھرا وجود سوالیہ نشان!
اگر آج کی عورت اپنے انتقامی رویے سے باہر نہ آئی تو عین ممکن ہے؟آج جن سوالات کی زد پہ مرد ہے کل کو عورت ان سوالات کی زد پہ ہو!۱

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *