انسان کی قیمت

انسان کی قیمت
ایک ادبی اور اصلاحی محفل میں ایک مقرر نے ہزار روپے کا نیا کڑکڑاتا نوٹ جیب سے نکال کر حاضرین کے سامنے لہراتے ہوئے پوچھا :
” کون ہے جو یہ ہزار روپے کا نوٹ لینا چاہے گا…؟ “
حاضرین میں سے لگ بھگ سب ہی لوگوں نے اپنے اپنے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے نوٹ لینے کی خواہش کا اظہار کیا…
مقرر نے کہا… ٹھیک ہے نوٹ تو ایک ہی ہے اور میں صرف ایک ہی شخص کو دونگا لیکن کچھ مراحل سے گزرنے کے بعد اور ساتھ ہی اس نے نوٹ کو مسل کر چڑمڑ کیا، ہتھیلی پر رگڑ کر گولا بنایا اور پھر پوچھا :
” کون ہے جو نوٹ کو اس حال میں بھی لینا پسند کرے گا…؟ “
لوگوں کی طلب میں کوئی بھی کمی نہیں آئی تھی، سب نے یہی کہا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا وہ نوٹ اس حال میں بھی لینا چاہیں گے…
اگلی بار مقرر نے نوٹ کو زمین پر پھینک کر اپنے جوتوں سے مسل دیا، مٹی سے لتھڑے بے حال نوٹ کو واپس اٹھا کر حاضرین سے پوچھا :
” کیا وہ نوٹ کو اس حال میں بھی لینا چاہیں گے…؟ “
اور اس بار بھی نوٹ لینے والوں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اور لوگوں کے ہاتھ ویسے ہی اٹھے ہوئے تھے۔
مقرر نے نوٹ واپس اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا کہ” یہ نوٹ تو میں تم لوگوں کو نہیں دوں گا مگر ایک سبق ضرور دینا چاہتا ہوں جو ابھی ابھی ہم نے اخذ کیا ہے اور وہ سبق یہ ہے کہ پیسوں کے ساتھ چاہے جو بھی سلوک کر لو اُن کی قدر میں کوئی کمی نہیں آتی… اُن پیسوں کے طلبگار اور لینے والے ویسے ہی رہتے ہیں…
میرا نوٹ نیا نکور اور کڑکڑاتا ہوا ہزار روپے کا تھا میں نے اُسے مسل کے گول کر دیا، جوتوں کے تلوے سے مسل دیا، مٹی میں لت پت ہو کر بھی وہ ہزار روپے کا ہی رہا، اس کی قیمت میں کہیں سے کوئی کمی نہیں آئی، ہم انسان بھی تو اسی طرح کئی بار حالات کے منجھدار میں پھنس کر اپنا توازن کھوتے اور گر پڑتے ہیں، کئی بار پریشانیوں کے کیچڑ اور غموں کے تعفن میں لتھڑ جاتے ہیں، کئی بار اپنے غلط فیصلوں کے ہاتھوں ناکام ہو کر زمین پر جا گرتے ہیں اور اسباب کی کمی کی بنا پر چڑمڑ ہو کر رہ جاتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہماری کوئی قدر نہیں اور نہ ہی ہماری کوئی قیمت ہے مگر ایسا ہرگز نہیں ہے…
میرے معزز دوستوں ! یاد رکھئیے کہ حالات جیسے بھی ہو جائیں آپ کی قدر و قیمت میں کہیں سے بھی کوئی کمی نہیں آنی چاہیے، آپ کو اپنی ہمت برقرار رکھتے ہوئے مضبوط اور توانا رہنا ہوگا، اپنی لغزشوں اور غلطیوں کو ہرگز اپنے اوپر سوار نہ ہونے دیجئے اور مت دھندلانے دیجیئے اپنے خوابوں کو اپنی ناکامیوں کی پرچھائیوں کے نیچے دب کر…
بھول جائیں اپنی نامرادیوں اور مایوسیوں کو، آپ کی اصل قیمت وہی ہے جو آپ نے خود مقرر کرنی ہے اور یاد رکھیئے اپنی قدر کو کبھی کم مت کیجیئے اور نہ ہی اپنی قیمت کبھی کم لگائیں، بالکل اس نوٹ کی مانند جسے آپ میں سے ہر شخص نے ہر حال مين لينا كى خواهش ركهتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *