سوزش۔ ورم۔ قروح معدہ اور ایچ پائیلوری ہیلیکو بیکٹر سوزش معدہ۔۔Gastritis۔۔

سوزش۔ ورم۔ قروح معدہ اور
ایچ پائیلوری ہیلیکو بیکٹر

سوزش معدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Gastritis
اسباب۔۔۔۔۔
کیمیکلز والے پھل سبزیاں۔ کثرت گوشت خوری۔ ہوٹلنگ۔ مہنگائی۔ بیروز گاری۔ ذہنی دباو۔ ڈپریشن۔ رنج و غم۔ بے وقت کھانا۔ تیز مرچ مصالحہ جات۔ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال۔ اور بھوکے رہنا اس کے اسباب ہیں۔۔۔۔

علامات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیٹ میں مقام معدہ پر مروڑ قسم کا اچانک درد۔ جو آہستگی سے ختم ہوجائے۔ یہ درد وقفے وقفے سے ہوتا ہے۔ اور خالی معدہ بڑھ جاتا ہے۔ شروع مرض میں شکم سیری کی حالت میں درد نہیں ہوتا مگر رفتہ رفتہ ہر وقت رہنے لگتا ہے۔ اور درد ہوکر پاخانہ بار بار آنے لگتا ہے۔ تو قوت دافعہ تیز ہوکر کبھی کبھی کچی غذاء پاخانے میں خارج ہونے لگتی ہے۔ اسی سے بڑھ کر السر معدہ ہوجاتا ہے۔ نبض قشری عضلاتی اور اسی کی علامات پائی جاتی ہیں۔
پیشاب زرد۔ جلن دار۔ کم مقدار۔ بار بار آتا ہے۔ صحت کمزور۔ لاغری۔ رنگ چہرہ پھیکا زردی لیئے ہوئے۔ گال پچک جاتے ہیں۔

علاج۔۔۔۔ ایچ 67 اور اعصابی قشری ملین دو ایک کی نسبت سے ملا کر 4-6 گرام دن میں تین بار بعد از غذاء دیں۔ زیرہ سفید دودھ میں ابال کر دیں۔ اسباب دور کریں۔ بھوک رکھ کر کھائیں۔ کچھ روز سالن بند کردیا جائے۔
غذاء۔ اعصابی قشری۔ اعصابی مخاطی دیں۔

ورم معدہ……. gastritis ulcer

سوزش سے بڑھ کر ورم حار بنتا ہے۔ اکثر قاع المعدہ کے مقام پر بنتا ہے۔ اس حار ورم کا مواد ایک جگہہ جمع ہوکر باعث تکلیف بنتا ہے۔

علامات۔۔۔۔۔
پیٹ میں بائیں طرف جہاں پسلیاں ختم ہوتی ہیں اس سے تھوڑا ناف کی طرف۔ اور گردے کے نیچے ہر وقت درد رہتا ہے۔ یہ درد خالی معدے اور ترشی و تیزابیت والی غذاء تیز مرچ مصالحوں سے بڑھ جاتا ہے۔ دودھ اور الکلی والی غذاءوں کے استعمال سے بالکل آرام محسوس ہوتا ہے۔
ایسے مریضوں کو بواسیر۔ بلڈ پریشر۔ اور شوگر ضرور ہوجاتے ہیں

علاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی سوزش معدہ والا کرنا ہے مگر صبح شام اگر بلڈ پریشر زیادہ رہنے لگا ہو تو H-67 کی جگہہ ایم سی دینا ہے۔

غذاء۔۔۔اعصابی قشری۔ اعصابی مخاطی دیں۔

قروح معدہ۔۔۔۔
Choronic Gastritis Ulcer

ورم معدہ کی بڑھی ہوئی اور بگڑی ہوئی حالت ہے۔ جب مرضی مادہ پک کر اور پیپ پڑ کر ٹھیک ہو جاتا ہے تو بخار اور درد میں بھی کمی آجاتی ہے۔ لیکن مقام ماوف پر سوجن باقی رہتی ہے۔
پھوڑے کے پھوٹنے کی علامت یہ ہے کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پاخانہ یا قے میں پیپ کا اخراج ہوتا ہے۔ ورم دب جاتا ہے مگر ٹھیک نہیں ہوتا۔ ترشی و تیزابیت والی غذاء کھانے سے پھر درد شروع ہوجاتی ہے۔ بخار بھی ہوجاتا ہے۔ یہ قروح قشری عضلاتی مزاج کے ہوتے ہیں۔ لیکن نبض ضعیف ہوتی ہے اور مقام معدہ (تیسری انگلی) پر شدید ہوتی ہے۔
علامات۔۔۔۔۔۔۔منہ کا ذائقہ کڑوا۔ کسی کام کا دل نہیں چاہتا۔ کھانے کو جی نہیں چاہتا۔ بول براز ہلکا زرد۔ اور اکثر سفید ہی آتا ہے۔ اگر کوئی ایلوپیتھک دوا استعمال کی جائے تو پیشاب سرخی مائل زرد جلن دار بھی ہوجاتا ہے۔ پاخانہ کبھی زرد۔ کبھی مٹیالہ۔ کبھی نرم قوام والا۔ کبھی سخت قوام والا۔ کبھی غیر منہضم غذاء کے ٹکڑوں کا اخراج۔ مگر خاص علامت فضلے کی بو ہے۔ مریض کو اپنے آپ سے بھی بو کے بھپکے آتے ہیں۔ زندگی سے تنگ۔ نہایت لاغر۔ زبان پر دراڑیں۔

علاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرم دودھ پلا کر مریض کے پیٹ پر سرہانہ رکھ کر ہلکا دباو ڈالیں۔ زرا سی ٹیس ہو کر فورا سکون محسوس ہو تو سمجھ لیں کہ پھوڑا پھوٹ گیا ہے۔ اب ماءالعسل پلاتے رہیں۔ تاکہ پھوڑا اچھی طرح صاف ہوجائے۔
پیٹ صاف ہونے پر سوزش اتارنے کی دوائیں ایچ 67 اور اعصابی قشری ملین دو ایک کی نسبت سے ملاکر تین ماشہ دن میں تین بار بعد از غذاء دیں۔ خالی پیٹ قروح معدہ ہمراہ دودھ دیں۔
غذاءیں۔ اعصابی قشری۔ اعصابی مخاطی زود ہضم دیں۔ سبزیوں کے سوپ۔ کھیرے کا رس دیں۔ اسپغول کی کھیر دیں۔

 

نوٹ۔۔۔ اسی مرض کو جراثیم سے منسوب کرکے جدید میڈیکل نے اسے ایچ پائلوری ہیلیکو بیکٹر کا نام دیا ہے۔ اگر مریض کے ٹیسٹ میں H-Pylori + آئے تب MC+4J تین سے چار گرام دن میں تین بار بعد از غذاء دیں۔ قروح معدہ صبح شام خالی معدہ دیں۔ اور ایک دن چھوڑ کر مسہل 5 ڈیڑھ دو گرام ہمراہ چھلکا اسپغول دیں۔ غذائیں ادویہ کے ہم مزاج ہونگی۔ یہی علاج کرنے سے مریض الحمد اللہ شفایاب ہوجاتے ہیں۔۔۔۔

ازتحقیقات۔ پروفیسر حکیم ایم اے شاکر۔ صدر TTBT

تحریر۔۔ ڈاکٹر سید رضوان شاہ گیلانی۔ جنرل سیکریٹریTTBT

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *