اجیت ڈوول ڈاکٹرائن‘ سی پیک اور پاکستانی قیادت

اجیت ڈوول ڈاکٹرائن‘ سی پیک اور پاکستانی قیادت

تحریر: شاہد شاہنواز

ڈان سیریز کے پہلے کے بعد دوسرا پارٹ‘ پاک فوج کے بعد سی پیک پر حملہ اور پھر کلبھوشن کیس پر دوہرا معیار‘ کیا مملکت خداداد کے خلاف سازشوں میں غیروں کے ساتھ اپنے بھی ملوث ہیں؟ ہیجان میں مبتلا پوری قوم وطن عزیز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتی ہے لیکن کوئی بتائے گا کہ ملک کہاں کھڑا ہے؟ 6 اکتوبر کے بعد عسکری قیادت کو مشکل دوراہے پر کھڑا کر دیاگیا تھا ‘ غلطیاں فوج سے بھی ہوئیں لیکن کیا طاقت کا مظاہرہ مناسب ہوتا ‘ دشمنوں کے ساتھ حکومت سے بھی دست گریباں ہوتے؟ موجودہ حالات میں یکطرفہ مفاہمت کے سوا کوئی رستہ تھا؟ فوج کا موجودہ حالات میں انتہائی عقلمندانہ اور دور اندیش فیصلہ تھا‘ اس کڑے فیصلے کی کہانی آنے والے وقت کے ذمے قرض رہے گی۔ گزشتہ عرصہ میں پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات کا سابقہ بھارتی انٹیلیجنس آفیسر اجیت ڈوول سے گہرا تعلق ہے۔ اجیت ڈوول کی وجہ شہرت انکی انتشاری پالیسیز ہیں اور یہ اندرون ملک کے ساتھ سری لنکا‘بنگلہ دیش اور نیپال میں بہت سے خفیہ آپریشنز کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔ ڈوول ڈاکڑائن کے مطابق اگر کسی ملک کو ہاٹ وار سے نہ جیت سکو تو کولڈ وار کو ہتھیار بناؤ‘ اس ملک میں خانہ جنگی کے حالات پیدا کرو ‘ نہ صرف اس ملک بلکہ اسکے دوست و ہمسایہ ممالک کے اداروں میں پیسے کے وفادار تلاش کرو‘ علیحدگی پسند تنظیموں کو فنڈنگ ‘ حکومتی صفوں میں مضبوط اور اہم بزنس پارٹنرز تلاش کرنے کے ساتھ فوج کے کردار کو عوام اور بین الاقوامی سطح پر مشکوک بنا دو۔ مسلمان مخالف بھارتی وزیر اعظم نے حلف لیتے ہی اجیت ڈوول کو اپنا قومی سلامتی مشیر منتخب کیا۔اپنے اندرنی و بیرونی رونما ہونے والے واقعات کے تحت یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ کیا ہم بھی اجیت ڈوول ڈاکٹرائن میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور یہ ہمیں کہاں تلک لے جا سکتی ہے؟ ہم اپنی سرحدوں اور ہمسائیوں کو دیکھیں تو پاکستان کے مشرقی بارڈر پر بھارت موجود ہے۔اس 3323 کلومیٹر لمبی سرحد پر انڈیا کی دس چھاؤنیاں موجود ہیں جہاں سے گاہے بگاہے بھارت سرحدی جارہیت کامظاہرہ کرتا رہتا ہے‘ یہ اپنی آرمی پر نہ صرف اربوں روپے خرچ کر رہا ہے بلکہ خطے پر معاشی ٹائیکون بننے کا بھی خواہاں ہے، اسکے راستے میں پاکستان ہمیشہ سینہ پھلائے کھڑا رہا۔ بھارت نے روز اول سے ہی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور ستر سالوں میں ہمیں پسپا اور کمزور کرنے کے لئے ہمیشہ چالیں چلتا رہا ہے ۔اس کے ساتھ ہم نے چار جنگیں بھی لڑیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اسکی وجہ سے ہم ایٹمی ٹیکنالوجی پر بھی اربوں ڈالر خرچ کر چکے ہیں اور ہر سال بجٹ کا بڑا حصہ جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے اہم ہوتا ہے ہم اپنے دفاع پر خرچ کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا کہ ستر برسوں میں بھارت نے پاک فوج کو نہ صرف ہر طرح سے الجھانے کی کوشش کی بلکہ نت نئے پراپیگنڈوں سے اسکے وقار کو مجروح کرنے کا موقع نہ جانے دیا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انڈیا نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی اور سی پیک منصوبے کو روکنے کے لیےکوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔ ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات طے ہے کہ مستقبل قریب میں ہمیں اس ہمسائیہ سے خیر کی توقع نہیں اور نہ ہی مشرقی سرحد پر فوج کی تعداد کم کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے مغرب میں افغانستان اور ایران موجود ہیں۔ یہ دونوں ہی اسکے بہترین دوست اور محافظ تسلیم کیے جاتے تھے۔1947 میں ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو آزاد ریاست تسلیم کیا۔لبرل شاہ ایران سے لیکر مذہبی رہنما امام خمینی تک تمام حکمران پاکستان سے بہترین دوستی کے خواہاں رہے۔80 کی دہائی میں عراق اور ایران جنگ میں پاکستان نے ایران کی مکمل حمایت کی۔ 1985 میں دونوں ممالک نے ملکراقتصادی تعاون تنظیم کی بنیاد رکھی جو آج دس ممالک پر مشتمل ہے۔ لیکن پچھلے چند برسوں میں آپکو بھارت کے ایران کے ساتھ ہر سطح پر بے شمار معاہدے ملیں گے۔ اس عرصہ میں انڈیا نے ایرانی کمپنیوں کے ساتھ تجارت بڑھائی‘ مختلف منصوبوں کے تحت ایران میں سرمایہ کاری کی اور بے شمار ایرانی طالبعلموں کو وظیفوں پر اپنی جامعات میِں داخلے دلوائے۔ ان تمام کاوشوں کا ثمر یہ ہے کہ ایران کا جھکاؤ بھارت کی طرف بڑھتا دکھائی دیا اور اب ایران میں نہ صرف بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے مراکز موجود ہیں بلکہ وہاں سے مسلسل پاکستان کےخلاف سازشیں جاری ہیں۔ اس طرح دوسرا مغربی ہمسایئہ افغانستان بھی ہمیشہ پاکستان کا محافظ سمجھا جاتا تھا۔ 80 کی دہائی میں سوویت یونین کے حملہ کے وقت پاکستان نے 30 لاکھ افغانی باشندوں کو پناہ دینے کے ساتھ روزگار میں شرکت کے بھرپور مواقع فراہم کئے۔طالبان کے دور حکومت میں دونوں ممالک میں تعلقات تعطل کا شکار رہے لیکن 9/11 کے بعد انڈیا نے بھاری امداد کے ذریعے پھر سے افغانستان سے تعلقات کا آغاز کیا۔آج افغانستان کے بڑے بڑے منصوبوں پر انڈیا سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اکثر اہم افغانی اداروں میں انڈین براجمان ہیں۔اس طرح بنگلہ دیش‘نیپال اور سری لنکا بھی بھارت کی زبان بولتے نظر آتے ہیں۔ صرف شمال میں موجود پاکستانی ہمسائیہ چین ہے جو ہمیشہ سے ہمارے ساتھ ہر مشکل میں شانہ بشانہ کھڑا ایک بہترین دوست ہے لیکن وہ بھی پاکستان کی غیر مستحکم ہوتی صورتحال اور اپنے ساتھ موجودہ تعلقات سے پریشان ہے۔ خطہ میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان و عراق جنگ کے بعد سر زمین شام پر انسانیت سوز خونی کھیل ‘ داعش کا ظہور ‘ ایران اور سعودی عرب کے تناؤ کے بعد روس کی ایک ملک کی حمایت اور امریکہ کے دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات ‘ شمالی کوریا کی سرحدوں پر جنگی بیڑہ کی موجودگی اور اسلامی سربراہ کونسل میں ٹرمپ کا بھارت کو مظلوم اور پاکستان کو نظر انداز کرنا (یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انڈیا اور امریکہ دونوں سی پیک کی مخالفت کر رہے ہیں) اس بات کو امر کر تا ہے کہ یہ خطہ بڑی طاقتوں کا مرکز بن رہا ہے اور یہ بھی وقت یہ کسی بڑے خطرے کو جنم دے سکتی ہے اور اس حالات میں ایک طرف پاکستانی فوج کو پری پلینڈ گیم کے تحت کمزور کرنے کی سازش جاری ہے وہاں اپنی کئی دہائیوں سے اپنی بدترین پالیسیوں کے وجہ سے ہم مسلسل تنہا ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ہم ملکی صورتحال کا مشاہدہ کریں تو ہم دو دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ہیں۔ پچھلے پندرہ برسوں میں بے شمار ٹی ٹی پی جیسی ناسور طاقتوں نے جنم لیا ۔ ہمارے سکول ‘جامعات اور مساجد و بارگاہ سےلیکر دفاعی ادارے تک دہشتگردوں سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ ہم نے ان برسوں میں اپنے معصوم بچوں‘اساتذہ ‘ ساستدانوں اور فوجی جوانوں کی لاشیں اٹھا کر تھک چکےتھے۔ اینکر و سیاستدان سرعام ٹی وی چینلز پر بھارت مقدمہ لڑتے رہے۔بلوچ علیحدگی پسند جماعتوں کی پشت پناہی اور کالعدم تنظیموں کو بھارتی فنڈنگز کے بھی واضع ثبوت موجود ملتے رہے۔ اس تمام حالات کے باوجود چائنہ نے ون روڈ ون بلٹ منصوبہ کے بڑے حصہ کے لئے پاکستان پر اعتماد کیا جسکا 2015 میں افتتاح ہوا اور نومبر 2016 سے اسے باقاعدہ فعال کرنے کا علان کیا اور پاک فوج نے اسکی حفاظت کی ضمانت دی۔ اس تمام پس منظر میں جب پاک فوج کو پوری قوم اور حکومت کی مکمل ہمایت کی ضرورت تھی اسکے خلاف بھیانک کھیل کھیلا گیا۔ اس دوران ہونے والے اہم واقعات بہت سے رازوں سے پردہ اٹھانے کے لئے کافی ہیں اور اس میں ملوث کرداروں کو پہچاننے کے لئے انکی ٹائمنگ پر غور بہت ضروری ہے۔ مارچ 2016 کو سابقہ انڈین نیوی آفیسر اور اجیت ڈوول کا خالہ زاد بھائی کلبھوشن یادیو ایران سے پاکستان داخل ہوتے عسکری اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ اسنے پوری دنیا کے سامنے انکشاف کیا کہ اسے پاکستان میں بدامنی پھیلانے اور پاک چائنہ راہداری کو نشانہ بنانے کا ٹاسک سونپا گیا تھا۔ اس نے بلوچستان میں تخریبی کاروائیاں کروائی اور انتہا پسند تنظیموں کو فنڈنگ کی۔ جب پاک آرمی نے راہداری کے خلاف ہر اٹھنے والی سازش کو ناکام بنانے کی کوشش کی تو 18 ستمبر کو بھارتی ڈی جی ایم او جنرل رنینر سنگھ نے پاکستان پر سرجیکل سٹرایک کا جھوٹا دعوی کیا جسکا مقصد فوج کا مورال ڈاون کرنے کے ساتھ دنیا کو یہ بھی پیغام دینا تھا کہ پاک فوج نہ صرف سرحدوں پر چھپے دہشتگردوں کو پکڑنے میں ناکام ہے بلکہ کسی بھی بیرونی حملہ کی صورت یہ اپنی دفاعی طاقت کھو چکی ہے۔ ابھی یہ ذہنی تناؤ کم نہیں ہوا تھا کہ 6 اکتوبر کو ڈان اخبار نے خوفناک انکشاف کیا جسکے مطابق 3 اکتوبر کو وزیر اعظم ہاؤس میں سویلین اور عسکری قیادت کی ملاقات میں میاں نواز شریف نے فوجی قیادت کو دہشتگردوں کی سرپرستی کرنے اور پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے پر فوجی قیادت کی خوب سرزنش کی ۔ اس خبر کو عسکری قیادت نے یکسر مسترد کر دیا اور اسکے بعد نوٹیفیکیشن‘ٹویٹ جاری کرنے اورتمام حالات کے پیش نظر ٹویٹ واپس لینے کی کہانی پوری قوم کے سامنے ہے لیکن اس تمام عسکری و سویلین قیادت میں تناؤ کے دوران افغانستان کی افواج نے سرحدوں پر پاکستانی شہریوں کو شہید کیا جسکا بھرپور جواب دیا گیا اور ایرانی فوجی سربراہ نے پاکستانی فوج کے زیر کنٹرول سرحدوں میں دہشتگردوں کی موجودگی اور پاکستان میں کاروائیاں کرنے کا بیان دیا ۔ 10 مئی کو فوج کی بروقت سمجھداری نے ملک کو بڑے بہران سے بچا لیا ۔ جب یہ حربہ بھی کامیاب نہ ہو سکا تو 15 مئی کو ڈان لیکس پارٹ ٹو شائع ہوا جس میں یہ تاثر دیکر کہ ’چین پاکستان کے ہر شبعے اور حصے پر اجارادای کا خواہ ہے ‘ پاکستانی عوام کو پاک چائنہ راہداری کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی گئی قابل امر بات یہ ہے کہ ڈان کی طرف سے شائع کاغذات ابھی تک پاکستان اور چین کی طرف سے جاری نہیں کئے گئے۔ یہاں یہ بات اہم ضروری ہے کہ جب پاکستانی سرحدوں پر بے یقینی کی صورتحال ہے‘ہمارے ہمسائے دشمن کا آلہ کار بن رہے ہیں‘ خطہ میں بڑی طاقتوں کی موجود ہیں‘ دشمن راہدای پر حملہ کر رہا ہےاور فوج ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دے رہی ہے عین اس وقت بھارتی ڈی جی ایم او ‘ایرانی چیف کے بیانات‘ ڈان پارٹ ون کی طرف سے پاکستانی آرمی کے دہشتگردوں سے تعلقات ظاہر کرنے میں مماثلت کسی بڑے منصوبے کا حصہ محسوس ہوتی ہے اور پھر راہداری پر دھماکے‘ ڈان پارٹ ٹو میں ‘ جندال کی آمد اور عالمی عدالت سے کلبھوشن کے حق میں حکم امتناہی ہماری فوج ‘ سی پیک اور پاکستان کے خلاف دشمن کی سازشیں بھی ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں لیکن کیا ہماری فوجی و سویلین قیادت اس کتاب کو بروقت پڑھنے کا ادارک رکھتی ہے؟ ان تمام حالات میں ہماری فوج قیادت کے فیصلے اور تمام جوانوں کی کارکردگی قابل دید ہے۔آرمی اپنے اختیارات اور دائرہ کار کے مطابق موجودہ حالات میں اپنا فرض احسن طریقے سے نبھا رہی ہے۔ اس تمام منظر نامے کے باوجود پاک فوج کے حوصلے بلند ہیں اور اپنے ملک کی حفاظت کے لئے ہر دم تیار ہے۔ ضرب عضب اور راہ نجات کے بعد رد الفساد آپریشنز نے انتہاہ پسندوں کی کمر توڑ دی اور کراچی میں امن کا قیام اور دہشتگردی کے واقعات میں 80 فیصد کمی کا سہرا بھی پاک فوج کے سر ہی جاتا ہے۔ ملک کے ان محافظوں کی ساکھ پر حملہ کرنا قومی سلامتی پر حملہ کے مترادف ہے۔ ماضی میں کچھ جرنیلز سے غلطیاں ہویں لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ فوج نے اس سے سیکھا اورہمارے جوان اپنا لہو دے کے وطن عزیز کی حفاظت پر مامور ہیں یہ اس تمام حالات میں پوری قوم کی حمایت چاہتے ہیں اور ہمارا بھی فرض ہے کہ تمام پارٹیز سے بالاتر ہوکر افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ ہمیں اپنی سویلین قیادت کے کردار پر بھی شک نہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سرحدوں پر بڑھتی کشیدگی اور ڈان لیکس سے لیکر کلبھوشن کی سزا کے خلاف حکم امتناہی پر قوم انتہاہی ہیجان کا شکار ہے۔حکومت کو چاہیے کہ بلا تاخیر ہمسائیہ ممالک سے تعلقات کے لئےکسی بہترین وزیر خارجہ کی تقرری کریں اور ڈان لیکس رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں اس پر مکمل بحث ہو‘ قربانی کے بکروں کی بجائے پارلیمنٹ سازش میں ملوث تمام افراد کا تعین کرے اور انکو سزا ملے۔ انکو یہ بھی چاہیے کہ قوم سے خطاب میں سی پیک کے معاہدہ‘ جندال ملاقات اور کلبھوشن کے انجام پر تفصیل بیان کر کے عوام کو اعتماد میں لیں اور وہ ایسا نہ کریں گے تو نہ صرف ہم پاکستان کے خلاف بہت سے کلبھوشنوں کا رستہ ہموار کر دیں گے بلکہ قوم یہ ہی سمجھے گی کہ کرپشن سکینڈل میں پھنسے وزیراعظم نےپانامہ کیس کو پس پردہ ڈالنے اور فوج سے ٹکر لیکر سویلین بالادستی قائم کر کے خود کو مظبوط ثابت کرنے کے لئے ڈان اخبار سے ملکر پاکستان کے خلاف اجیت ڈوول ڈاکٹراین کا آلہ کار بنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *