افسانے محبت کے

افسانے محبت کے ۔۔۔۔۔۔۔۔
افسانہ نگار: معظم شاہ
اٹک ۔ پنجاب ۔ پاکستان
افسانہ: تیرے نال جدوں ، یاریاں لایاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اچھی بھلی “مردہ زندگی” گزار رہا تھا کہ اسے عشق نے آن گھیرا ۔عشق بھی ایسا جو سر چڑھ جائے تو جان لے کر ہی ٹلتا ہے ۔
میں تو محبت کی قائل ہی نہیں ہوں ، یہ وقتی ابال ہوتے ہیں خان جی ، “آیا اور گزر گیا ” والی کیفیت ہوتی ہے ۔ میری مانیں ، چھوڑیں اس چکر کو ، ہم اچھے دوست ہیں ، اس چکر میں پڑ کر آپ اس دوستی سے بھی جائیں گے ۔ بہت حوصلہ شکن جواب ملا تھا اسے اظہار الفت پر ۔ لیکن وہ تو اپنے آپ پر اختیار کھو چکا تھا ، اگر یہ جنون نہ ہوتا تو اپنی توہین کے احساس سے وہ کبھی اس کے سامنے نہ جانے کا عہد کر لیتا لیکن ۔۔۔۔۔۔وہ بے بس تھا ۔
وہ اس کی شاعری پر ہی فدا ہوئی تھی ، اس پر نہیں ، لیکن وہ بدبخت اس فرق کو سمجھ ہی نہ سکا ۔ Inbox میں وہ خود آئی تھی ، اس کی ایک غزل کی بے پناہ تعریف لے کر ، اس نے عاجزی سے اس کا شکریہ ادا کیا اور بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات وہیں پر ختم ہو جاتی تو اچھا تھا لیکن تقدیر تو وقت کے صفحات پر کچھ اور کہانی لکھ رہی تھی ، جس کے دو کردار تھے ایک دوسرے سے اجنبی اور ایک دوسرے کے بے حد قریب وہ فطرتاََ ہمدرد تھی ، کب وہ دھیرے دھیرے اپنے کرب اس سے کہنے لگا ، اسے پتا ہی نہ چلا ۔ وہ سنتی اور اس کا حوصلہ بڑھا دیتی ، اسے صورتحال سے نبٹنے کے لیئے مشورے دیتی ۔ اسے آہستہ آہستہ اس لڑکی کی عادت ہو گئی ، وہ ف ب پر نہ آتی تو اس کا دل بے چین رہتا ، انہیں دنوں ایک بار جب وہ سترہ دن بعد آن لائن ہوئی تو وہ رہ نہ سکا ، اسے اپنے دل کی حالت بتا دی اور اسی سے مشورہ مانگا کہ کیا کرنا چاہیئے ، تبھی اس نے پہلی بار اس سے سختی سے بات کی ، اسے صف دوستاں سے نکال دینے کا اشارہ بھی دیا اور اس کے بعد اس نے خود کو بہت وقت تک ڈانٹا بھی ، سمجھایا بھی کہ اس کی زندگی میں محبت کی گنجائش بھی تو نہیں تھی ۔
اعزاز احمد خان شعبہ اردو کا ایک معروف استاد ، جو معاشرے میں ایک مقام رکھتا تھا ، اپنے گھر میں احترام کی ایک نظر کے لیئے ترستا رہتا تھا ۔ اس کی شادی بہت چھوٹی عمر میں کر دی گئی تھی ، بیوی اس کی خالہ زاد اور اس سے پندرہ سال بڑی تھی ، اس کی ڈھیلی ڈھالی بیوی اس کے جسم کا ساتھ نہیں دے پاتی تھی ، وہ اس لمس سے بس گزارہ کرتا تھا ، پھیکا اور بے مزہ لمس ۔ ایک ڈیڑھ سال تو پلوشہ اسے کسی حد تک عزت دیتی رہی لیکن پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ہی اس کا رویہ بدل گیا ۔وہ اس سے کترانے لگی تھی ، دو دو ماہ اسے بیوی کی قربت نصیب نہ ہوتی ، جبر کا وہ قائل نہیں تھا ۔ اور پھر دو پل عیش کے ملتے بھی تو ایسے جیسے بھیک دے کر احسان جتایا جائے ، وہ ذلت کے احساس کے ساتھ جدا ہوتا اور پھر کبھی اس کے قریب نہ جانے کا عہد کرتا لیکن اس پر قائم نہ رہ پاتا ۔ وہ بہت بے باکی سے اس کی ماں سے کہتی ، اپنے بیٹے کو سمجھاؤ خالہ کہ گھر میں اس کی بیوی بھی ہے ، اور ماں کی التجا بھری نظریں اس کو مجبور کر دیتیں۔ اسی مجبوری کے کھیل میں اس نےدو بچے اور کما لئیے ۔
اس نے اپنا من پڑھائی میں لگا لیا ، بچپن سے شاعری کر رہا تھا ، سو باقی کا وقت مشاعروں میں کٹ جاتا ، یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اس کی زندگی ایک نئے رخ سے آشنا ہوئی ، وہ کشمیری لڑکی جو اس کی ہم جماعت تھی ، جانے کیسے اس پر مہربان ہو گئی ۔ وہ بہت آزاد خیال تھی ، زندگی کا لطف لینے والی ، اس نے اسے چوری کے پھل کا مزہ چکھا دیا ۔ اب اس کے ہاتھ ایک راستہ آ گیا تھا ، گناہ کا احساس کہیں دور جا سویا تو اس کی “بھوک” نے نئی سے نئی جولان گاہوں تک اس کی رسائی ممکن بنا دی ، اپنی ہم جماعت سے ساتھی شاعرات تک ، جس نے بھی موقع دیا اس نے انکار نہیں کیا ۔
ایک دن اس پر قیامت گزر گئی ۔ وہ یونیورسٹی سے چھٹیوں پر گھر آیا تھا ۔ رات پلوشہ خود اس کے بستر پر آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔چڑھتی سانسوں نے جب سکون کے دامن میں پناہ لی تو پلوشہ نے ٹھنڈے دودھ کو پھر آگ پر رکھ دیا ، تین ماہ بعد ملی ہے ، پیار کی ترسی ہوئی ہے ، یہ سوچ کر اس نے بھی چڑھتی ندی کو اور چڑھاوا دیا اور چھلانگ لگا دی ، وہ بہت سے “پتن” تیر چکا تھا جانتا تھا کہ باڑھ پر آئی ندی کو کیسے “پشتے توڑ “کر “شانت “کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن پلوشہ تو آج کچھ اور طے کیئے بیٹھی تھی وہ جیسے ہی “کنارے ” لگنے لگا ایک بلند طنزیہ ہنسی اس کے وجود کہ مٹا کر گزر گئی ۔اس کے بعد وہ ندی میں چھلانگ نہ لگا سکا ۔ اب پلوشہ اس سے ہمدردی کرتی تھی ، یہ کون سا ایسا ضروری کام ہے جس کے بغیر زندگی نہیں گزر سکتی ، مجھے گھر کا سکون چاہیئے ، وہ تمہارے دم سے ہے ، مجھے اور کچھ نہیں چاہئیے ۔ اسے اکثر ایسے جملے سننے کو ملتے ، وہ سوچتا کہ کسی اور ندی میں تیر کر دیکھے لیکن ڈوب جانے کا ڈر اسے کناروں کے قریب بھی نہ جانے دیتا ، آہستہ آہستہ ان نے زندگی سے سمجھوتا کر لیا تھا ، لیکن اب پلوشہ کے طعنے شروع ہو گئے تھے ،” تم کسی قابل نہیں تھے تو میری زندگی خراب کیوں کی “، وہ اس کے ہاتھوں میں غلام بنتا چلا گیا ۔ ایک رات ان میں زوردار جھگڑا ہوا ۔” تم مرد ہو ؟ جاؤ اور کسی مرد کو پکڑ لاؤ جو مجھے سکون دے سکے “۔ الفاظ تھے کہ پگھلا ہوا سیسہ اسے اپنی سماعتیں مرتی محسوس ہوئیں وہ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور ریل کی پٹڑی پر جا کر لیٹ گیا ، ریل گاڑی کی روشنی اس پر پڑی ، ہارن کی تیز آواز گونجی ، اس نے تصور میں اپنے بچوں کو ٹکے ٹکے کے لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھا اور چپ چاپ پٹڑی سے اٹھ کر گھر واپس آ گیا ۔
ان حالات میں اسے مینا سید ملی تھی ، وہ ایک بار کے اظہار کے بعد چپ تھا ، مینا کا رویہ ویسا ہی تھا بے تکلف اور ہمدرد لیکن حد امکاں سے کہیں دور ۔۔۔۔۔۔ ایک دن مینا کا پیغام ملا ۔
“خان جی اپنا موبائل نمبر دیں ایک ضروری بات کرنی ہے ”
وہ آج اس سے مشورہ مانگ رہی تھی ، ان کے ہاں خاندان سے باہر شادی کا رواج نہیں تھا ، اس کی منگنی بچپن میں اس کے چچا زاد سے کر دی گئی تھی وہ شادی کو مسلسل ٹال رہی تھی لیکن والد کی وفات کے بعد اس کا بہت بڑا سہارا چھن گیا تھا ، چچا اسے اب ہر صورت بدقماش منگیتر کے پلے باندھنا چاہتے تھے۔
مینا اپنے بابا کی بہت لاڈلی تھی ، اسے بہت چھوٹی عمر میں اچھے سے اچھے اداروں میں اسی شہر میں پڑھایا گیا تھا ۔ وہ یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تو اس کے والد نے شہر میں ایک گھر خرید کر مینا کے نام کر دیا تھا ، وہ اسی گھر میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھی ، جبکہ دیگر تمام خاندان آبائی گاؤں میں تھا ۔ ” خان جی ، اگر مجھے اس کمینے کے ساتھ گاؤں میں رہنا پڑا تو دو دن میں مر جاؤں گی ، میرا وہاں ویسے ہی دم گھٹتا ہے ”
“کوئی بھی ہو خان جی ، بس شریف ہو ، پڑھا لکھا ہو ، مجھے اور کچھ نہیں چاہئیے ، جلد سے جلد شادی کر کے ہی میں اس بے غیرت سے جان چھڑا سکتی ہوں “۔ اس نے کوئی مناسب لڑکا دیکھنے کا وعدہ کر لیا ، دو تین دن کی سرتوڑ کوشش کے باوجوداسے کوئی مناسب شخص نہیں مل رہا تھا جس سے وہ اتنی جلد شادی کا بندوبست کروا سکتا ، دوسری طرف مینا کا تقاضہ بڑھتا جا رہا تھا ، وہ خوف زدہ تھی ، آخر تیسرے دن جب وہ مینا کو بتا رہا تھا کہ اس کے خاندان میں ، یونیورسٹی میں کوئی ایسا نہیں جس کو اتنی جلد شادی پر آمادہ کیا جا سکے تو وہ یکدم بولی
“خان جی، وہ آپ بھی تو ہو سکتے ہیں “۔ الفاظ کا مفہوم مکمل طور پر سمجھے بغیر اس نے خود کو کہتے سنا ” ہاں ، میں بھی تو ہو سکتا ہوں ، لیکن نہیں ، میں کیسے ہو سکتا ہوں ”
ابھی وہ کچھ کہ بھی نہ پایا تھا کہ مینا نے فون بند کر دیا ، وہ سارا دن اسی ادھیڑ بن میں رہا ، آخر رات گئے اس نے مینا کا نمبر ملایا ، اور دھیرے دھیرے اس پر اپنی زندگی کا سب سے تلخ پہلو کھول دیا ، وہ سمجھ رہا تھا کہ حقیقت جاننے کے بعد مینا اس کی مجبوری تسلیم کر لے گی لیکن وہاں تو انوکھا رد عمل اس کا منتظر تھا ۔ ” تو کیا ہوا خان جی ، مجھے تو تحفظ چاہیئے نا ، آپ بے فکر ہو جائیں ، نہ میں کوئی ایسا مطالبہ کروں گی نہ اس حوالے سے کبھی آپ کو تنگ کروں گی آپ بس جلدی سے آ جائیں ، حالات بگڑ گئے تو بہت گڑ بڑ ہو جائے گی ۔
اس نے یونیورسٹی سے دس دن کی رخصت لی اور مینا کے شہر چل دیا ، ایک چار ستاروں والے ہوٹل میں اس نے کمرہ لیا اور مینا کو فون پر بتا دیا کہ وہ آ گیا ہے ، دوسرے دن نکاح تھا ، نکاح کے بعد وہ خود مینا کو گھر چھوڑنے گیا ۔ دوسرے دن مینا نے فون پر بتایا ” خان جی میں نے امی کو بتا دیا ہے ، وہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں ” ۔ وہ مینا کے گھر پہنچا تو اس کی والدہ غصے سے بھری بیٹھی تھیں ۔ اس نے انتہائی ضبط سے ان کے تلخ سوالوں کے جواب دئیے ، انہیں یقین دلایا کہ وہ مینا کا تحفظ چاہتا ہے اور مشکل حالات میں اس کے ساتھ کھڑا ہو گا ۔ وہ بڑی مشکلوں سے انہیں منا پایا تھا ۔ مینا نے اسے رات کے کھانے تک روک لیا
مینا اسے اپنا گھر دکھانے لگی ، وسیع لان اور خوبصورت باغیچے والی اس عمارت کی تعمیر میں قدیم و جدید کا حسین امتزاج تھا ۔ آخر میں مینا اسے اپنے کمرے میں لے گئی ۔
باتوں باتوں میں جب وہ اس سے لگ کر بیٹھی تو وہ کھنچ سا گیا ۔ ” ایزی ہو جائیں خان جی ، ہم اچھے دوست بھی ہیں نا ، اور ایک مزے کی بات بتاؤں ؟ ” یہ کہتے ہوئے اس نے ایک بڑا سا البم نکال لیا اور مختلف اوراق پلٹتے ہوئے ایک تصویر اس کے سامنے کر دی ، ” تمہارے بابا” وہ تصویر دیکھ کر یقین سے بولا “جی ہاں ” ان کو غور سے دیکھیں ، وہ دیکھ کر بھی نہ سمجھ پایا کہ وہ کیا کہ رہی ہے ، خان جی تصور میں داڑھی کے بغیر ان کے چہرے کو دیکھیں ، اور وہ ایک پل میں سمجھ گیا ، شدید تحیر نے اسے گھیر لیا ، اگر وہ اتنی ہی بڑی داڑھی رکھ لیتا تو نوے فی صد ان جیسا ہی لگتا ۔
“خان جی ، میں نے پہلی نظر میں ہی اس مشابہت کو محسوس کر لیا تھا ، اب پلیز مجھے اپنے قریب بیٹھنے دیجئیے ، میں وعدہ کرتی ہوں آپ کو بالکل تنگ نہیں کروں گی ” اور اس نے ایک بازو میں اسے سمیٹ کر اپنے ساتھ لگا لیا تو وہ بے ساختہ رو دی ، “بابا مجھے بالکل ایسے ہی ساتھ لگایا کرتے تھے ” اسے لگا ، وہ ایک چھوٹی سی بچی ہے جو اپنے باپ کی محبت میں تڑپ رہی ہے ۔ اس کے دماغ سے تمام اندیشے بھاپ بن کر اڑ گئے ، وہ بے ساختہ اسے پیار کر رہا تھا ، تسلی دے رہا تھا ، وہ اس کے کشادہ سینے میں سمٹی جا رہی تھی ۔ جانے کتنا وقت گزر گیا ، کب وہ اسے پیار کرتے کرتے لبوں تک پہنچا اور کب وہ اسے بھرپور جواب دینے لگی اسے خبر نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے سی کی خوشگوار ٹھنڈک ، خوابناک ماحول اور مینا کی شدت بھری محبت ، سپرنگ میٹریس اپنے انوکھے استعمال پر احتجاج کر رہی تھی ، کمرہ تھپ تھپ کی جوش دلانے والی آوازوں سے گونج رہا تھا ، بارہ سالہ مجرد زندگی کے بعد آخر کار وہ ندی میں چھلانگ لگا بیٹھا تھا آٹھ دس منٹ میں ہی امنڈتا طوفان تھمنے لگا ، اتنے عرصے کے رکے ہوئے “جذبات ” بہہ نکلنے کو بے تاب جو تھے ۔ ۔۔۔۔۔۔ ، اس کمرے کے در و دیوار نے رات کے کھانے سے پہلے ایک بار اور دو محبت کرنے والوں کی دیوانگی دیکھی ۔ اس بار ان دونوں کے ملاپ میں زیادہ شدت تھی ، جیسے دو وجود ایک دوسرے میں سما جانا چاہتے ہوں ، وہ سراپا شراب تھی ، وہ پی پی کر مدہوش ہو رہا تھا ، وہ سراپا آگ تھی ، وہ اس آگ میں جل کر کندن بن رہا تھا ، یہ لمحات طویل تر ہوتے گئے ، کھیل ختم کرنے کا ، دونوں کا جی نہیں چاہ رہا تھا ۔
باقی کے سات دن ہوٹل کا کمرہ اس کا انتظار کرتا رہا ، وہ دونوں محبت کی بارش میں نہاتے رہے ، مینا اس کا خواب تھی ، ہر اعتبار سے جیسے اسی کےلیئے بنی تھی ، زندگی اتنی بھی خوبصورت ہو سکتی ہے ؟ وہ اکثر سوچا کرتا ۔ مینا کی امی نے گاؤں فون کر کے مینا کی شادی کا بتا دیا تھا ، اس کے چچا نے بہت دھمکیاں دی تھیں لیکن ان کے گھر تک آنے کی ، کسی کی جرات نہیں ہوئی تھی ۔ چھٹی ختم ہو گئی ، اگلے دن اس نے یونیورسٹی واپس جانا تھا ، وہ چھٹی بڑھوا لیتا لیکن چار دن پہلے آنے والی پلوشہ کی کال نے اسے فکر مند کر دیا تھا ، ” تین چار ماہ سے گردن سے تھوڑا نیچے ایک گلٹی محسوس ہوتی تھی ، اب تو بہت بڑی ہو گئی ہے ، درد بھی کرنے لگی ہے ” اس نے پلوشہ کو تسلی دی اور جلد واپس آنے کا بتا کر فون بند کر دیا ۔ وہ چار دن خود کو تسلی دیتا رہا کہ کچھ نہیں ہو گا ، لیکن اس کے دل میں ایک پھانس سی چبھ گئی تھی ، پلوشہ کچھ بھی سہی ، اس کی ذمہ داری تھی ۔
اس کے لیئے مینا کا شہر چھوڑنا بھی مشکل ہو گیا ، جس دن اس نے رخصت ہونا تھا مینا اس کے پاؤں سے لپٹ گئی ، روتے روتے اس کے پائنچے بھگو دئیے ۔”خدا کے لیئے خان جی ، مجھے چھوڑ کر مت جائیں ، دیکھیں ، میں تیار ہوں ، پلوشہ کی خدمت کروں گی ، بچوں کو سنبھالوں گی ، آپ بے شک اسی کے ساتھ سوئیے گا ، بس میری نظروں کے سامنے تو رہیں گے نا “۔۔۔۔۔ لیکن اس نے جلد لوٹنے کے بے شمار وعدے کر کے قسمیں کھا کر مینا کو سمجھا لیا تھا ۔
گھر پہنچا تو پلوشہ کی حالت خراب تھی ، اس نے FNAC کروایا تو کینسر تیسرے سٹیج پر پہنچ چکا تھا ۔ پلوشہ کا علاج کیا شروع ہوا ، گویا اس کے پاؤں میں بیڑیاں پڑ گئیں ، اس نے مینا کو فون کیا کہ وہ ایک دو دن کے لیئے آنا چاہتا ہے ” خان جی ، پلوشہ آپی کو آپ کی ضرورت ہے ، وہ اس وقت بہت بڑی مشکل میں ہیں ، میرا کیا ہے ، میں تو انتظار کر ہی رہی ہوں اور کر لوں گی آپ تسلی سے ان کا علاج کروائیں ، میں کوئی بھاگی تو نہیں جا رہی ” اور وہ خاموش ہو گیا ، اس کے بعد جب بھی اس نے مینا سے ملنے کی بات کی وہ ناراض ہو گئی ، ” خان جی ، کیا میں سمجھوں کہ کل اگر میں بیمار ہو گئی ، تو آپ مجھے بھی ایسے ہی نظر انداز کر دیں گے ، وہ مجھ سے پہلے سے آپ کی زندگی کی ساتھی ہیں ، اور اپنی زندگی کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہیں ، آپ شاعر ہیں خان جی ، رائیٹر ہیں ، آپ کیسے اتنے پتھر دل کے ہو سکتے ہیں کہ انہیں اس حالت میں چھوڑ کر میرے پاس آ جائیں “۔ وہ تلملانے لگتا ، پھر اسے مینا پر بے پناہ پیار آنے لگتا ” کیسا سونے جیسا دل ہے مینا کا ” اس کی قدر اس کے دل میں اور بھی بڑھ جاتی ۔
سات کیمو تھراپی کے سائیکل لگے اور پلوشہ کا آپریشن بھی ہو گیا ، باقی کے پانچ سائیکل ابھی رہتے تھے ، آپریشن کے ایک ماہ بعد آٹھواں سائیکل لگنا تھا وہ پلوشہ کو ہسپتال لے جاتے ہوئے موبائل ساتھ لے جانا بھول گیا ۔ اس دن پلوشہ کی حالت زیادہ خراب تھی ، کیمو تھراپی کے دوران ہی اس کی حالت بگڑنے لگی ، ڈیوٹی ڈاکٹر نے بڑی مشکل سے اس کو سنبھالا دیا ۔ رات گئے وہ گھر آیا تو مینا کی بے شمار مس کالز اور میسیج آئے پڑے تھے ۔
“خان جی ،چچا کا گاؤں سے فون آیا تھا وہ آ رہے ہیں ، مجھے ڈر لگ رہا ہے ، خان جی آپ پلیز جلدی سے آ جائیں ۔ پھر بہت سے ایسے ہی پیغامات کے بعد ایک پیغام تھا ” وہ آ چکے ہیں میں اپنا کمرہ اندر سے لاک کیئے بیٹھی ہوں ، وہ امی سے بہت جھگڑا کر رہے ہیں ، میں کیا کروں آپ کال کیوں نہیں اٹینڈ کر رہے ؟ ”
اس نے مینا کو کال کی لیکن اس نے اٹینڈ نہیں کی ، وہ تمام رات تھوڑی تھوڑی دیر بعد کال کرتا رہا ، صبح ہوتے ہی اس نے نکلنا چاہا لیکن پلوشہ کی حالت اچانک بگڑ گئی ، اسے ہنگامی حالت میں ہسپتال پہنچانا پڑا ، اس کا دل بے چین تھا ، بار بار کال کر رہا تھا ، پھر مینا کا پیغام آ گیا ۔
“جب مجھے آپ کی بہت زیادہ ضرورت تھی ، آپ نہیں آئے ۔ اب بات کرنے کا بھی کیا فائدہ ۔ پلیز ، مت تنگ کیجیئے مجھے ” اس نے جواب میں بہت زیادہ معزرت کی، صورتحال کا بتایا ، منت کی کہ کال اٹینڈ کر لو لیکن مینا تو تریا ہٹ کے سنگھاسن پر جمی بیٹھی تھی ، ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ آخر کئی دن کے مسلسل اسرار کے بعد مینا بات کرنے پر آمادہ ہو گئی ، اس نے بتایا کہ چچا کسی صورت مان نہیں رہے تھے ، امی کہاں تک لڑ سکتی تھیں ، “جب انہوں نے آ کر میرا دروازہ بجانا شروع کیا تو میں ایک ہاتھ میں اپنا نکاح نامہ اور دوسرے ہاتھ میں پسٹل لے کر نکل گئی ، نکاح نامہ ان کی طرف پھینک کر کہا کہ اسے پڑھ لیں ، میرا شوہر اس وقت یہاں نہیں ہے ورنہ آپ کو کسی اور انداز میں جواب دیتا ، اب اگر آپ نے مزید فساد مچایا تو میں آپ کو مار کر خود کو بھی گولی مار لوں گی ، انہوں نے نکاح نامے پر ایک نظر ڈالی اور دھمکیاں دیتے ہوئے واپس چلے گئے ۔
پلوشہ کا علاج تکمیل کے قریب تھا کہ بیماری دوبارہ عود کر آئی ، اس بار کینسر پانچ گنا زیادہ aggressive تھا اور چوتھے سٹیج میں داخل ہو چکا تھا ۔ اب مینا اسے بلا رہی تھی ، ہر بار اس کی پکار میں اور شدت ہوتی ، وہ اسے دلاسے دے دے کر تھک چکا تھا ، ادھر پلوشہ کو اس کے چار چار گھنٹے گھر سے باہر رہنے سے شک ہو چکا تھا ، وہ اس کے معمولات پر نظر رکھنے لگی ، وہ پاگل ہونے کے قریب تھا کہ ایک دن اسے مینا کی کال آئی ” خان جی ، یہ بیل اب منڈھے نہیں چڑھ سکتی ” اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو مینا پھٹ پڑی ، کچھ دیر تک تو وہ برداشت کرتا رہا پھر اس کی زبان نے بھی زہر اگلنا شروع کر دیا ۔ “آپ مجھے آزاد کر دیں ” مینا نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا ۔ اس کا فون مسلسل بند جا رہا تھا ، دوسرے دن اس نے نمبر ملایا تو مل گیا ، ابھی وہ ہیلو ہی کہہ پایا تھا کہ مینا بول پڑی ” خان جی ، طلاق مت دیجیئے گا ۔ میں آپ کا انتظار کروں گی لیکن اس دوران مجھ سے رابطے کی کوشش بھی مت کیجیئے گا ۔ اللہ پلوشہ کو صحت دے وہ ٹھیک ہو جائے اور آپ کا دل چاہے تو میرے پاس آ جائیے گا ۔ تب تک میں یہ سمجھوں گی کہ ہمارا کوئی رشتہ ہی نہیں ہے ، تبھی یہ وقت گزار پاؤں گی ۔ اب اگر آپ کا کوئی پیغام یا کال آئی تو میں نے ساری زندگی آپ سے نہیں ملنا، خدا حافظ ” فون بند ہو گیا
مینا نے اسے فیس بک پر بھی بلاک کر دیا ۔ وہ اپنے آپ کو سمجھانے کی بہت کوشش کرتا لیکن دل میں ہر وقت ایک آگ سی لگی رہتی تھی ، ادھر کچھ دن سے اسے اپنے ایک ساتھی ادیب کی تحریروں میں مینا کی جھلک نظر آنے لگی ، اس کی نظموں میں اس کے افسانوں میں مینا کی ذات واضح نظر آتی تو وہ تلملا کر رہ جاتا ، مینا کی ایک بھرپور شخصیت تھی ، بہت انوکھی ، سب سے الگ ، اور اس کی شخصیت اب اس ادیب کی تحریروں میں پہچانی جا رہی تھی ، اسے ہر پل شک کا ناگ ڈسنے لگا ۔ پتا نہیں کیا سوچ کر مینا نے اسے Unblock کر دیا ، اب وہ اس ادیب کی تحاریر پر ، اس کی شاعری پر مینا کا رد عمل دیکھ سکتا تھا ، اس نے بارہا کوشش کی لیکن مینا اپنے رابطے کے تمام نمبر بدل چکی تھی ۔ اس کی شاعری میں بے وفائی کا کرب بولنے لگا ۔ وہ کئی کئی دن پاگلوں کی طرح بیٹھا رہتا ، اس کا وجود پلوشہ کی ایک آواز پر اس آواز پر اسے سنبھال رہا ہوتا لیکن اس کی روح جیسے جسم چھوڑ چکی تھی ، وہ زندہ لاش بنا ، زندگی کے مشکل ترین دن گزار رہا تھا کہ وہی مہینہ آ پہنچا جب اس کی مینا ، اس کی ہوئی تھی ، وہ اس ماہ سے بہت ڈر رہا تھا ، اسے لگتا تھا کہ وہ مینا سے ملنے کا دن نہیں گزار پائے گا ۔ اسے یاد آیا ، مینا سے جدائی کا خیال بھی اسے تڑپا دیتا تھا ، انہی دنوں اس نے زندگی میں پہلی بار اپنی مینا کے لیئے پنجابی میں دو شعر کہے تھے ، جنہیں گنگناتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں ۔
تیرے نال جدوں یاریاں لایاں ، نی اساں جند ہار چھڈڑیں
ساڈے لیکھاں وچ لکھیا ں جدائیاں ، نی اساں جند ہار چھڈڑیں
تیرے باجوں ہک پل نئیوں لنگدا ، تے عمراں دی سار کوئی نا
ساڈا دل دیندا ، رورو دہائیاں ، نی اساں جند ہار چھڈڑیں
نی اساں جند ہار چھڈڑیں
اور مینا نے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا تھا ، آپ کو بہت سوہنا دل ہے خان جی کانچ جیسا شفاف ۔ اب اس کانچ کے برتن پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا ۔ اس نے مینا کو ف ب پر بہت سے میسیج کیئے لیکن کسی کا جواب نہیں آیا ، پھر وہ دن آ گیا جس دن ان کا نکاح ہوا تھا ، اس دن بھی پلوشہ کا کیمو تھا ، وہ ہسپتال سے واپس گھر جا رہا تھا موٹر وے پر دو بار حادثہ ہوتے ہوتے بچا ، پلوشہ مکمل طور پر ہوش میں نہ ہونے کے باوجود اسے جھنجوڑ رہی تھی احتیاط سے ڈرائیو کرنے کا کہہ رہی تھی ۔ وہ کیسے گھر تک پہنچا ، اسے کچھ پتا نہیں تھا ۔ دوسرے دن صبح ہی سے اس کی رنگت زرد سے زرد تر ہوتی جا رہی تھی ، اس کی نظریں بار بار موبائل کی سکرین پر جاتیں اور مایوس لوٹ جاتیں ۔ دن گزرا ، شام ہوئی ، اس کے پڑوس میں کسی نے اونچی آواز میں غزلیں لگا رکھی تھیں ، اس کا دھیان ادھر چلا گیا “مجبور کر کے مجھ کو میرے یار لے چلو ” سلمان علوی کی آواز پر اس کے آنسو بہنے لگے ، دل کا درد شدید ہو گیا ، موبائل کی بیل بجی ، اس نے اٹھا کر نہیں دیکھا ، بس لیٹا رہا ، روتا رہا ، اب ایک اور غزل سنائی دے رہی تھی ، جب مغنیہ اس شعر پر پہنچی دل کی نازک رگیں ٹوٹتی ہیں ۔۔۔۔۔یاد اتنا بھی کوئی نہ آئے ۔۔۔۔۔۔تو اس کی ہچکیاں نکل گئیں ، اسے پسینے آ رہے تھے ، دل کا درد بڑھتا جا رہا تھا ، اس کی نظر دیوار کی گھڑی پر گئی ، یہ وہی وقت تھا جب اس نے مینا کو ایک بازو میں سمیٹ لیا تھا ، تو کیا اب کوئی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تصور ہی اس کے لیئے سوہان روح تھا اسے لگا اس کے دل کی رگیں ٹوٹ جائیں گی ، درد اب بازو میں ہی نہیں پورے جسم میں پھیل رہا تھا ، متلی کی کیفیت ، شدید درد ، مناظر دھندلانے لگے تو اسے فیس بک میسیج کی آواز سنائی دی ، اس نے بمشکل موبائل اٹھایا ،
“خان جی ، آپ کی جرات کیسے ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو یاد ہے ہماری کتنی پکی دوستی تھی ، ہم گھنٹوں بات کرتے تھے ، پھر بھی میں نے آپ کو اظہار عشق پر کیسے جھڑک دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنید اختر صاحب میرے بہت اچھے دوست ہیں ۔۔۔۔۔لیکن صرف دوست ۔۔۔۔۔۔۔کاش میں آپ کو بلاک نہ کرتی ۔۔۔۔۔۔۔اختر کا الزام لگاتے ہوئے شرم نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔ مینا آپ کی ہے اور آپ کی رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کال اٹھا لیں
اس کی آنکھیں دھندلا گئیں ، کانچ کا برتن دباؤ برداشت نہیں کر سکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹوٹ گیا ۔…………………………………………………………………………………………
پنجابی اشعار کا اردو ترجمہ
تیرے ساتھ جب یاری لگائی
تیرے ساتھ جب یاری لگائی ، یہ جاں ہم ہار دیں گے
ان ہاتھوں میں لکھی ہے جدائی ، یہ جاں ہم ہار دیں گے
تیرے بن اک پل بھی نہ گزرے ، عمر بھر کی آس کہاں
میرا دل دے ، رو رو دہائی ، یہ جاں ہم ہار دیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *