::::مبینہ گستاخِ رسول ﷺ کا قتل کی حقیقت

:::::::مبینہ گستاخِ رسول ﷺ کا قتل کی حقیقت

تحریر ۔۔۔ محمد بلال خان
سب سے پہلے تو خدا واحد شاہد ہے کہ کل جس وقت نیوز ایڈٹنگ کرتے ہوئے خبر نظر سے گزری تو یہی سمجھا کہ کہ یونیورسٹی میں دو طلباء گروپوں میں تصادم ہوا ہے، جس میں 5 زخمی اور ایک “جاں بحق” ہوگیا ہے، اس وقت تک صورتحال واضح نہ تھی اور اسے تصادم ہی سمجھا جارہا تھا، تبھی اسے بھی پنجاب یونیورسٹی طرز کا تصادم سمجھ کر میں نے لفظِ “جاں بحق” کو جانے دیا، اور سکرین پر وہ ٹکر جوں کا توں چلایا گیا، لیکن جب بعد میں دیکھا اور مزید معلومات لیں کہ اس پر ایک تحقیقی رپورٹ بناسکوں تو پتہ چلا کہ توہینِ رسالت ﷺ میں مارا گیا ہے، کچھ دیر کی ریسرچ کے بعد وہ بھیانک ویڈیو سامنے آئی جس میں ڈنڈوں سے پیٹا جارہا تھا، اور اس کے بعد ایک اور بھیانک ویڈیو جو اللہ جانتا ہے میں مکمل نہیں دیکھ سکا، کہ جہاں اسے برہنہ کرکے پیٹھا گیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں نے ہلاک شدہ “بے چارے مظلوم” مشال خان کے متعلق مزید کھوج لگائی تو موصوف دہریت سے لتھڑے خیالات کے حامل نکلے، سال ڈیڑ قبل سے لے کر اب تک ان کی آئی ڈی اور پیج پر چھان مارا، اللہ واحد شاہد ہے کہ وہی خیالات، وہی پراگندہ سوچ اور طنز و تشنیع جو فیس بک کے نامور ملحدین ایاز نظامی، امجد حسین، مولوی بشیر استرا، اور ملا منافق جیسے گستاخ اکاونٹ کا وطیرہ تھا، مشال خان اے این پی سے تعلق رکھتا تھا، اور باچاخان ااور گاندھی کو آئیڈیل مانتا تھا، اے این پی کے رہنماؤں کے ساتھ اس کی تصاویر بھی موجود ہیں، جبکہ بہت سے لوگوں کے مطابق وہ “بے چارہ” تھا، لیکن میرے خیال میں اسے بے چارہ سمجھنے والے لوگ ہی دراصل یا تو بے چارے ہیں، جنہیں دہریت کے طریقہ وارات کی خبر نہیں، یا تو وہ غیراعلانیہ دہریئے اور ان کے سہولت کار ہیں، جو لوگ انجانے میں مشال خان کو معصوم یا مظلوم سمجھ رہے ہیں ، دراصل یہ ان کی سادگی، رحمدلی اور نزاکت ہے کہ وہ گستاخانِ رسول ﷺ کی چالیں اور ان کے کوڈ ورڈز نہیں سمجھتے، جو احباب سوشل میڈیا پر ردِالحاد اور ردِ دہریت پر کام کررہے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ ایسے مشکوک افراد کی آئی ڈی پر ایک ہی نظر کافی ہوتی ہے سمجھنے کیلئے، جس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ موصوف کن خیلات کا حامل ہے، اب مشال خان کے قتل پر بات کی جائے تو سب سے پہلے میں اللہ کے حضور معافی مانگتا ہوں، سیدالکونین ﷺ کی بارگاہ میں نادم ہوں کہ توہینِ رسالت ﷺ کے ملزم کو ہلاک لکھنے کے بجائے “جاں بحق” لکھا، اور اپنی اس غلطی پر میں احتیاطاً دوبارہ کلمہ طیبہ پڑھ کر اپنی تسلی کیلئے تجدید ایمان کرچکا ہوں، جو لوگ اس موضوع پر ہمارے مؤقف سے واقف ہیں وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم اس معاملے کی حساسیت کے مقابلے میں باقی کسی شئے کو اہمیت نہیں دیتے، اب دوسری بات یہ ہے کہ کیا کیا مشال خان واقعی گستاخِ رسول ﷺ یا اہانتِ مذہب کا مرتکب تھا ؟ تو جناب درجنوں ایسے ثبوت سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں کہ جہاں موصوف کے تبصروں اور مختلف پوسٹس میں نہ صرف پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ کی شان میں بدترین مغلظات بکی گئی ہے، بلکہ وہی روایتی دہری انداز میں اسلام اور نبی محترم ﷺ پر تنقید اور اعتراضات کئے گئے ہیں، بلکہ ایک جگہ مقتول نے قرآن مجید کو “تھیوری” تک کہہ دیا، اور یہ تھیوری والا کمنٹ موصوف نے 15 فروری 2016 کو کیا، اسیی گفتگو میں وہ اقرار کررہا ہے کہ اس نے روس میں ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ہے، وہ سوشلسٹ ہے، کیمیونزم پر بھی یقین رکھتا ہے اور مذہبیت کو نہیں مانتا ، بلکہ مذہب کو دہشتگردی مانتا ہے، اسی دوران اس نے جنت کے بارے میں نازیبا کمنٹس لکھے جو کہ شعائرِاسلام اور اللہ کے وعدوں کی توہین ہے۔

جنت کو عیاشی کا مرکز اور باقی بھی ایسے مغلظات کہ جسے دیکھنے کے بعد کم از کم کوئی کلمہ گو مسلمان اسے مسلمان تسلیم نہیں کرسکتا، میرے پاس وہ سکرین شاٹس موجود ہیں، جس مختلف موبائلز سے لئے گئے ہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ مختلف موبائلز میں فونٹ مختلف ہوتا ہے، اور سکرین شاٹ میں اوپر درج وقت اور موبائل کی بیٹری کی پرسنٹیج سے پتہ چل جاتا ہے کہ مختلف ڈیوائسز سے سکرین شاٹس لئے گئے، بہت سے سکرین شاٹس کمپیوٹر سسٹم سے بھی لئے گئے ہیں، گویا اس شخص کے اسلام مخالف اور توہین آمیز نظریات کے جو ثبوت تاحال منظرِ عام پر آئے ہیں، وہ کسی بھی سورت اتنے معمولی نہیں کہ نظر انداز کیا جائے، اب انہی سکرین شاٹس کے ساتھ موصوف کی آئی ڈی کی ایک پوسٹ بھی گردش کررہی ہے جو 24 دسمبر 2016 کو کی گئی ہے، جس میں موصوف نے کہا کہ کچھ لوگ اس کی تصویر لگا کر اسی کے نام کی فیک آئی ڈی بنا کر لوگوں کو غلط میسجز کررہے ہیں، اور اس کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، اس پوسٹ میں موصوف ایک لڑکی کے اکاؤنٹ کا بھی ذکر کرتے ہیں، جس کے متن سے صاف ظاہر ہے کہ وہ دوستوں کی آپس میں کی گئی شرارت یا مذاق کے بارے میں بتا رہا ہے، نہ کہ یہ بتا رہا ہے کہ اس کے اکاؤنٹ سے توہینِ رسالت ﷺ یا اسلام مخالف مواد شائع کیا جارہا ہے، بلکہ اس نے “ٹیکسٹ” کا لفظ استعمال کیا، جس کا واضح مطلب ہے کہ وہ اس نے انباکس میسج کو ہی کہا، اور یہ بات کوئی انہونی بات نہیں کہ دوست ایک دوسرے کو یا لڑکیوں کے فیک اکاؤنٹس سے ایک دوسرے کو تنگ ، یا مذاق وغیرہ کرتے رہتے ہیں، جو کہ بہرکیف ایک غیر اخلاقی کام ہے، لیکن یہاں مشال خان کسی بھی صورت یہ نہیں کہہ رہے کہ اس کے نام کا فیک اکاؤنٹ توہینِ مذہب کررہا ہے، اور نہ ہی اس پوسٹ پہ مشال خان نے کسی فیک اکاؤنٹ کا کوئی سکرین شاٹ یا لنک دیا کہ جسے دیکھ کر کہا جاسکے کہ واقعی کسی نے فیک اکاؤنٹ بنا لیاہو، جبکہ دوسری جانب جس اکاؤنٹ سے مشال خان نے دوسرے فیک اکاؤنٹ کا ذکر کیا ، اسی اکاؤنٹ سے وہ مختلف فیس بک گروپس میں دہریوں اور ملحدین کے ساتھ ان کی حمایت میں اسلام مخلاف مواد میں ساتھ شامل رہے، جبکہ اسی آئی ڈی سے کئے گئے ک کچھ ایسے کمنٹس جو اس پوسٹ سے کافی عرصے قبل کئے گئے ہیں، بھی اسی آئی ڈی سے ہیں، کیونکہ کمنٹ پر درج نام “مشال خان” پر کلک کرنے وہی پروفائل کھلتی ہے، جس میں مشال خان نے اپنی آخری پروفائل پکچر گزشتہ اتوار کو تبدیل کی ہے، یہ کچھ ٹیکنیکل اور عام فیس بک صارف کی سمجھ میں بھی آسانی سے آنے والی باتیں ہیں، جس کیلئے کوئی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، جبکہ ایک اور سکرین شاٹ گردشن کررہا ہے جس میں مشال خان 3 اکتوبر 2014 میں “تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم ” نعت شریف کی دو سطور کمنٹس میں لکھ رہا ہے، اور اس نے ایک مصرع : “سخت مشکل میں ہیں ” کو “ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے، آگے طوفان ہے، پیچھے بجلیوں کا ہے ڈر، سخت مشکل ہے حالات گزر جائیں گے” کا کمنٹ رومن ارود میں کیا جو موصوف نے ایک دوست سے بات چیت یا گپ شپ کے دوران کیا، جس میں اس کا ساتھی پشتو ٹپے لکھ رہا ہے اور مشال نے یہ لکھا ، اب اس کمنٹ کو لیکر ہماری لبرل لابی اور وہ لوگ جو ہمیشہ کسی بھی کام کو اسلام کے کھاتے میں ڈال کر اسلام کو بدنام کرنے کا ٹھیکہ لئے ہوئے ہیں، وہ جگہ جگہ لیکر گھوم رہے ہیں کہ دیکھو جی عاشق تھا، نعت کے بول لکھ رہا تھا، مار دیا۔۔۔۔۔ اب مجھے ان سکرین شارٹ پر دو اعتراضات ہیں، اول تو ایک بڑا چبوت یہ ہے کہ جس سکرین شاٹ میں نعت کے بول لکھے ہیں، اس میں نظر آنے والی پروفائل پکچر عین وہی ہے جو گستاخانہ کمنٹس میں نظر آرہی ہے، جبکہ یہ بتایا گیا کہ اس نے یہ کمنٹس کس ضمن میں کہے ؟ آیا 2014 تک مشال خان کے نظریات اس قدر گستاخانہ نہیں تھے اور وہ تب بات چیت میں نعت کے بول کا ذکرکرہا تھا، یا پھر دیگر ملاحدہ کی طرح نعت اور قرآنی آیات کا مذاق اڑانے کے مصداق اسے نعت شریف کا بھی مذاق اڑا رہا تھا، اگر آپ اس سکرین شاٹ کو غور سے دیکھیں گے تو اپ کو بہت کچھ بآسانی سمجھ آجائے گی، اب یہاں لبرل لابی اور توہینِ رسالت ﷺ کے معاملے میں یکدم بیدار ہونے والے دانشوروں نے شوشہ چھوڑا کہ جناب فیک شاٹس بنائے گئے ہیں تو سب سے ان سے پوچھا جائے کہ جب آپ نعت کے بول والے طنزیہ سکرین شاٹ کو پیش کرکے اس کی سفائی دے رہے ہیں، اور اس کی فیک آئی ڈی والی پوسٹ کو لیکر اسلام کو گالیاں دے رہے ہیں تو کیا اسی پروفائل، پکچر اور اسی اکاؤنٹس سے کی گئی درجنوں متازع پوسٹس جو 2015، 16 اور اس کے بعد کی گئیں، جن کے لنکس بھی موجود ہیں کیا وہ سب متنازع ہیں ؟ یا وہ جعلی ہیں۔۔۔۔ ؟ آپ کس بنیاد پر اتنے سارے حقائق کو جھٹلا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹ ہے ۔۔۔۔؟

اب آخری اور حتمی بات سن لیجئے، کیا اس طرح سے مشال خان کا قتل جائز تھا ؟ یا اس کی گستاخیوں پر قانون کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا، اور اس کے قاتل ہیں کون ؟ تو سب سے پہلے زہن نشین رہے کہ مشال خان کا اپنا تعلق اے این پی اور پشتون سٹوڈنٹس فیدریشن سے تھا، جبکہ اسی پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلباء کے ہاتھوں مشال خان کو قتل کردیا گیا ہے، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ذمہ دار کاشف خان صافی کو مردان یونیورسٹی کے ذمہ داران نے میسج کرکے حالات سے آگاہ کیا ، جس میں پی ایس ایف کے ایک عہدیدار مہران خان نے اپنے ذمہ دار کاشف صافی کو بتایا کہ صدر صاحب ! مشال خان کبھی کہتا تھا میں خدا ہوں (العیاذ باللہ) کبھی نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتا تھا، میں اسے جانتا تھا، وہ میرے ساتھ فیس بک پہ بھی ایڈ تھا، مہران خان نے اپنے صدر کاشف صافی کو مزید بتایا کہ مشال خان گالیاں دے کر چھپ گیا تھا اسے تلاش کر پ ایس ایف کے لڑکوں نے 10 فائر مارے، اس کے بعد 7 سے 800 افراد کے درمیان اسے سگنسار کیا گیا، جبکہ ایک اور کارکن یا عہدیدار کاشف جواد نے کاشف صافی کو بتایا کہ ” صدر صاحب (کاشف صافی)! اس (مشال) کے مرگ پر خفت کا اظہار مت کرنا، کیونکہ یہ شخص اللہ اور رسول کو گالیاں دیتا تھا، کبھی کہتا تھا میں خدا ہوں، کبھی کہتا تھا قران جھوٹ ہے (معاذاللہ ) اس کو ماں باپ نے گھر سے اسی وجہ سے عاق کیا ہوا تھا، کام بھی نہیں کرتا تھا، پھر بھی اس کے پاس ہر وقت 40 ، 50 ہزار روپے موجود ہوتے تھے، لگتا ہے قادیانیوں نے سپورٹ کر رکھا تھا” یہ وہ حقائق ہیں جو خود مشال خان کی تنظیم پی ایس ایف کے کارکنان بتا رہے ہیں ، جبکہ پشتوم سٹودٹنس کے مرکزی عہدیدار کاشف صافی نے اپنے فیس بک پیغام میں پشتو میں لکھا ہے ، ” جو جو اس گستاخ لڑکے کے مرگ پر افسوس کررہا ہے، وہ اللہ سے ہدایت مانگے ، اللہ سے ڈرے، اور جس مجاہد نے اس کتے کو ٹھکانے لگایا ، اسے میرا سلام ” ، جبکہ کاشف صافی نے ایک اور فیس بک پیغام میں “گستاخِ رسول ﷺ کی سزا۔۔۔۔ سر تن سے جدا، سر تن سے جدا” کے الفاظ لکھے ہیں۔

اب وہ لوگ جو اس قتل کو “ذاتی رنجش” کو گستاخی کا نام دینے کا پروپینگنڈہ کررہے ہیں، وہ مجھے بتائیں کے بھری یونیورسٹی میں کوئی ایک ایسا شخص نہ تھا کہ جسے مشال سے زاتی رنجش نہ ہو؟ کیا آج انسانیت بھی اس قدر گرچکی ہے کہ سینکڑوں کے مجمعے میں سے کوئی ایک نہ بول سکا کہ یہ بلاو جہ قتل کیا گیا ؟ لیکن اگر سارا ہجموم تماشہ دیکھ رہا تھا، اور ساتھ سنگساری میں شامل بھی تھ ا تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ تقریباً سبھی واقف ہونگے کہ موصوف کے کرتوت ہی ایسے ہیں، لیکن ہماری انسانیت مافیا کو سوائے اپنے، باقی کسی میں انسانیت نظر نہیں آتی، اور ان کی انسانیت کا معیار یہ ہے کہ کل ہی کے روز کراچی میں 15 سالہ میٹرک کی طالبہ سدرہ کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی، گویا وجودِ زن اور انسانیت کو جلا کر راکھ کردیا گیا، لیکن کسی خود ساختہ لبرل یا انسانیت کا رونا رونے والے مبہم مذہبی ہمدردوں کو سدرہ پر ایک آنسو بہانے کی توفیق نہ ملی، کیا سدہ انسانیت کے دائرے سے باہر تھی ، یا انسان نہ تھی، یا اس پر ظلم نہیں ہوا ، مگر مجال ہے کہ کسی نے نام لیا ہو، جبکہ اسی رات بہادر امریکا نہ نے افغانستان کے ننگرہار میں بموں کی ماں ، یعنی نان نیوکلئیر بم گرایا ، جس کا حجم 19,000 پونڈ تھا، جس سے کئی کلومیٹر کا علاقہ نیست و نابود ہوگیا، مگر انسانیت وہاں بھی سوئی رہی، لیکن انسانیت جاگی تو مشال پر ، کیونکہ اس کے قتل کیساتھ توہینِ رسالت ﷺ کا عنوان لگا ہے، اب اس مافیا کو اس قانون کی خالف ہرزہ سرائی کی کھلی چھوٹ مل چکی ہے، جبکہ انسانیت کے چورن میں توہینِ رسالت ﷺ کا معاملہ آجائے تو انسانیت مافیا کی مارکیٹ میں اس پروڈکٹ کا ریٹ اچھا لگتا ہے، اس لئے انسانیت ہمہ تن گوش ہو کر اپنی راتوں کی نیند کھو کر، غم و حزن کی الجھی زلفیں بکھرائے مشال خان کی انسانیت پر ماتم کناں ہے۔

خیر یہ تو روز اول سے ہی ان کا معیار رہا ہے، لیکن بہرکیف کطھ ایسے حقائق جو تاحال سامنے نہ آسکے، وہ اپ کے سامنے لانے کی کوشش کی کہ یہ ہیں قتل تک کے معاملات اور اندرونی حالات جاننے والے افراد کی جانب سے فراہم کردہ معلومات، اب بات کرتے ہیں کہ کیا پی ایس ایف کوئی مذہبی تنظیم ہے کہ جس نے یہ کیا ؟ یا پھر قتل والے روز جن طلباء سے مشال خان نے بحث کی اور اس بحث میں دوبارہ نبی مہربان ﷺ کو گالیاں بکیں ، تو وہ طلباء کسی مدرسے کے تھے ؟ یا فائرنگ کرنے ہلاک کرنے والے طلباء کوئی مولی یا جہادی تنظیم کے تھے ؟ بالکل نہیں، یہ وہ جدت پسند نوجوان اور پختون سٹوڈنٹس تھے، جو جتنے بھی ماڈن ہوجائیں، ایمان کے معاملات میں آئیں بائیں شائیں نہیں کرتے، جس کی ایک بڑی مثال اے این پی کے مرکزی رہنماء حاجی غلام احمد بلور بھی ہیں، جو سابق حکومت میں وزیرِ ریلوے تھے اور وزیر ہوتے ہوئے بھی گستاخِ رسول ﷺ کا سر تن سے جدا کرنے والے کیلئے ایک لاکھ ڈالر یعنی ایک کروڑ روپے کا علان کئے بیٹھے تھے، جس پر پارٹی نے بیان واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا تو اعلانیہ کہہ دیا کہ دوبارہ اعلان کرتا ہوں کہ نہ سرف انعام دوں گا، بلکہ زمین او ر جائیداد بھی دوں گا، تو میرے عزیزو! پاکستان میں اے این پی ایک لبرل اور سوشلسٹ جماعت سمجھی جاتی ہے، لیکن ایمان اور عشق کا معاملہ ہر فرد کا منفرد ہے، پختون سٹوڈنٹس کے بیچ انہی کے سامنے جب کائنات کی مقدس ترین ہستی اور ان کے ایمان کے محور جنابِ محمد رسول اللہ ﷺ کو مغلظات بکی جائیں تو پھر ایسے معاملات میں عدالت کورٹ اور کچہری تک پہنچنے سے قبل ہی عوامی عدالت کے فیصلے کی نذر ہوجاتے ہیں۔

اب یہاں ایک ہی پوائنٹ پر بات ہوسکتی ہے کہ کیا گستاخِ رسول ﷺ کو سزائے موت دینے کا حق افراد کے پاس ہے ؟ تو جواب ہے نہیں، لیکن اسی جواب میں ایک سوال ہے کہ کیا ریاست نے آج تک تاریخ میں کسی ایک گستاخِ رسول ﷺ کو سزائے موت دی ؟ یا قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہمیشہ گستاخوں کو بچانے کیلئے ہی قانون متحرک ہوا ؟ اگر آپ کی عدالتیں، ریاست اور حکومت گستاخوں کو تحفظ اور گستاخوں کیخلاف متحرک لوگوں کو سولی چڑھاتی رہے گی پھر آپ عوام سے کیا شکوہ کرینگے، اسی لئے تو جب اسلام آباد کا جج چیخ رہا تھا کہ یہ معاملہ عوام کی عدالت میں چلا گیا تو ملک میں آگ لگ جائے گی، لیکن حرام ہے کہ ریاست نے کسی ایک مجرم کو لٹکایا ہو، بلکہ سالوں قبل قید میں موجود آسیہ مسیح سمیت کئی گستاخوں کو پال پوس کر رکھا ہوا ہے، یہی وہ چیز ہے جو لوگوں کا عدالتوں اور ریاست سے اعتماد کھو دیتی ہے، جب عدالتیں اعلانیہ گستاخیاں کرنے والوں کو دھیل دیں اور ریاست انہیں محفوظ راستہ فراہم کرتی جائے تو پھر عشق کے فیصلے خود ہوجایا کرتے ہیں، آپ کو میری بات سے لاکھ اختلاف ہوسکتا ہے، آپ اپنی رائے میں آزاد ہیں، اور میں اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے میں آزاد ہوں، اس لئے صاف اور دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ جس طرح اس لڑکے کی لاش کو برہنہ گھسیٹا گیا، اس حد تک چلے جانا “نامناسب” ہے، کیونکہ آج تک سیدالکونینﷺ کی گستاخیوں پر مغربی غلام اور گستاخوں کے حمایتی حد کرجاتے تو یہی کہتے کہ توہین “نامناسب” ہے، اسی لئے انہی کا لفظ ان کو لوٹایا جارہا ہے کہ توہین کے الزام میں اس طرح برہنہ لاش کو گھسیٹنا بھی “نامناسب” ہے، امید ہے آپ کو اپنے الفاظ واپس ملتے ہوئے شرمندگی یا تکلیف نہیں ہوگی،
باقی اگر میرے سامنے کوئی گستاخی کا مرتکب ہوجاتا تو یقیناً میرا بھی فیصلہ وہی ہوتا ، جو کعب بن اشرف ملعون کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ تھا، مگر پھر بھی کہوں گا کہ تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں اور تحقیقات کی تکمیل تک اگر یہ فقط الزام ہے تب بھی مذمت کو بھی کفر سمجھتا ہوں، جب تحقیقات مکمل ہوجائیں اور وہ لڑکا بے قصور ٹھہرے پھر میں ہی سب سے پہلے قاتلوں سے اسی انداز میں قصاص لینے کا مطالبہ کروں گا، اور ان کی حقائق سامنے آنے سے قبل مذمت نہ کرنے کی وجہ سے مجھے قانون جو سزا دے گا، سر آنکھوں پر رکھ کر تسلیم کروں گا، لیکن قبل از وقت ایک گستاخ یا مبینہ گستاخ کو سزا دینے پر مذمت کرکے اپنا ایمان داؤ پہ نہیں لگا سکتا، کیونکہ انسانیت میں سب سے معتبر اگر کوئی ہے تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہے، جب آپ ﷺ کی ناموس سلامت نہیں رہ سکتی تو کسی گستاخ کو بھی سلامت رہنے کا کوئی حق نہیں۔۔۔۔ یہی میری جانب سے حرفِ آخر ہے۔

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرےہیں

One Response to ::::مبینہ گستاخِ رسول ﷺ کا قتل کی حقیقت

  1. محمد بلال خان اگر مشال خان گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا اور وہ دین اسلام کا مذاق اڑاتا تھا تو پھر اس کے ساتھ جو ہوا وہ کم ہوا،
    ایسے ملحد اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے بڑھ کر سزا ملنی چاہئے تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *