سبز پاسپورٹ اس درجہ بے توقیر کیوں

سبز پاسپورٹ اس درجہ بے توقیر کیوں?

تحریر:۔ مبشر ڈاہر الریاض سعودی عریبیہ
پاسپورٹ کی درجہ بندی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ”گلوبل پاسپورٹ پاور رینک” نے 2017ء کی درجہ بندی کی لسٹ شائع کی جس کے مطابق کل ایک سو ننانوے ملکوں کی فہرست میں پاکستانی پاسپورٹ بد ترین کارکردگی کے ساتھ ایک سو اٹھانوے نمبر پر موجود ہے۔پوری دنیا میں سب سے زیادہ بے توقیر پاسپورٹوں کی فہرت میں پہلے نمبر افغانستان اور اس کے بعد دوسرے نمبر پر پاکستانی پاسپورٹ ہے۔ یہاں تک کہ جنگ و جدل میں پھنسے شام، عراق، لبیا، اور دور دراز افریقی ممالک صومالیہ، یوگنڈا،کانگو اور ایتھو پیا اس عالمی درجہ بندی میں ہم سے کہیں بہتر درجوں پر موجود ہیں، حیرت کی بات یہ کہ ہمارے ساتھ آزادی منزلیں طے کرنے والے بھارتی باشندوں کے پاس جنوبی ایشیا کا سب سے مضبوط پاسپورٹ ہے۔یہاں تک کہ بنگلہ دیشی شہری بھی پاکستانی شہریوں سے زیادہ طاقتور پاسپورٹ کے حامل ہیں۔اس فہرست کے مطابق دنیا میں سب سے مضبوط ترین پاسپورٹ رکھنے والے شہری جرمنی اور سنگاپور کے ہیں، ان کے بعد بالترتیب سویڈن، ڈنمارک،فن لینڈ، اٹلی،فرانس،سپین اورناروے وغیرہ کانمبر آتا ہے،
سبز پاسپورٹ رکھنے والوں کو دنیا کے صرف ستائیس ملکوں نے ویزہ فری انٹری یا پھر متعلقہ ملک میں داخل ہو کر ائیر پورٹ پر ہی ویزہ سٹیمپ کی سہولت میسر ہے۔یہ تمام ستائیس وہی ملک ہیں جنہوں نے پوری دنیا کے لوگوں کو اپنے ملک میں بغیر ویزے کے داخلے کی اجازت دے رکھی ہیاور پوری دنیا کے کسی بھی فرد پر ویزہ حاصل کرنے کی پابندی نہیں لگائی جاتی، جب بھی بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ملک کے شہری پر داخلے پر پابندی لگائی جاتی ہے تو وہ پہلا شہری سبز پاسپورٹ رکھنے والا پاکستانی شہری ہے۔ قوم اوراس کے قومی اثاتے کی اس درجہ بے توقیری فہم و ادراک سے بالاتر ہے۔
قیام پاکستان سے لیکر 1970ء تک جب وطنِ عزیز ترقی بہترین منازل طے کر رہا تھا پاکستانی عوام کو دنیا بھر میں بہترین سفری سہولیات مہیا تھیں اور 1947ء سے لے کر ضیاء دور تک امریکہ و یورپ سمیت ما سوائے چند ملکوں(سوویت یونین، یورپ کے کمیونسٹ ممالک اور اسرائیل) کے پوری دنیا میں آمد پر ویزہ دے دیا جاتا تھا،جنگ 65ء کے بعد ترقی کا یہ دور رکتے ہی سب سے پہلے امریکہ نے 1970ء میں پاکستانیوں کو آمد پر ویزہ دینے کی پالیسی کو ختم کیا اور سفارت خانے سے ویزہ کے حصول کی پابندی لگائی،1983ء برطانیہ، سپین، اٹلی، فرانس اور دیگر یورپی ملکوں نے پاکستانیوں کو آمد پر ویزہ دینے کا سلسلہ بند کیااسی دور میں کچھ عرصے بعد لبیا، قطر، امارات، سعودی عریبیہ اور دیگر عرب ریاستوں نے بھی پاکستانیوں پر سفر سے قبل ویزہ کے حصول کی پابندی عاید کردی۔
روزانہ ترقی کے اعشاریے گنوا کر بغلیں بجانے والے خود پسند حکمران نجانے کس احمقوں کی دنیا میں بستے ہیں، شب و روزپاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے دعوے کر نے والوں نے کبھی یہ خیال کیا ہے کہ اقوام عالم وطنِ عزیز کے شہریوں نے ساتھ کیا سلوک روا رکھے ہوئے ہے،ملک سے باہر پاکستانی شہریوں کو کس حقارت آمیز رویے اور تنگ نظری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بین الاقوامی ایئر پورٹوں اور داخلے کے وقت کس قسم کی خجل خواریاں جھیلنی پڑتی ہیں،کیا کبھی حکمرانوں نے سوچا ہے کہ جس ملائشیا اور ترکی کے ساتھ یہ مقابلہ کرنے کا دعوی کرتے ہیں اس ملائشیا اور ترکی کو دنیا کس وقعت و توقیر سے دیکھتی ہے، پاسپورٹ درجہ بندی کے لحاظ سے ملائشین پاسپورٹ دنیا بھر میں اوپر سے چوتھے نمبر پر اور ترکش پاسپورٹ بیالیسویں نمبر پر موجود ہے، ملائشیا کے شہریوں کوایک سو پچپن ملکوں میں داخلے کے لئے ویزہ اپلائی کرنے کی ضروت نہیں ہوتی۔کس قدر افسوسناک امر ہے کہ دنیا کی مضبوط ترین دفاعی ریاستوں میں شمار ہونے والی ریاست سفارتی سطح پراس حد درجہ تک کمزور ہے یہ اس ریاست پر براجمآن حکمرانوں کی نالائقی اور بے توجیہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تمام تراقوامِ عالم پاکستانیوں کے حوالے سے کیا سوچتی ہیں،ان کے حوالے سے کیا اجتماعی رائے رکھتی ہیں، اقوامِ عالم بیس کروڑ کیوں دہشت گرد نظر آتے ہیں، ان کے خوش گام چہروں پر دہشت گردی کا جبری نقاب کیوں چڑھا دیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اقوام عالم جس عینک سے پاکستانیوں کو دیکھتے ہیں اس عینک کو صاف کیوں نہیں کیا جاتا۔
اس سارے تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ وطن عزیز کی قومی شناخت ہی بے توقیر نہیں بلکہ ماسوائے چند دفاعی اداروں اوران کے ماتحت چلنے والے اداروں کے باقی تمام کے تمام سول اداروں کا یہی حال ہے، بین الاقوامی لاجسٹک پرفارمنس کے لحاظ سے بھی وطن عزیز کے ادروں کی کارکردگی نہایت ابتر ہے، نصف کے قریب آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی کرنے پر مجبور ہے۔ وطن عزیز کی مڈل کلاس بھی اعلی تعلیم، صحت، انصاف، میرٹ، معاشی استحکام حتی کہ بجلی اور پینے کے صاف پانی تک سے محروم ہے۔ واللہ المستعان۔
*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *