مسجد غلامان مصطفیٰ , چالیس سال سے مقیم کچی آبادی اور بائی پاس ۔

 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب بائی پاس لوگ شہر کے باہر سے گزارا کرتے تھے تاکہ شہر والوں کو بڑی ٹریفک کی وجہ سے پریشانی نہ ہو پھر ایسا ہوا کہ حکومت وقت کے کچھ افسران نے ایک نیا پلان تیار کیا ۔پورے شہر کا معائنہ کرنے والی ٹیم نے ایک کھوج لگائی کہ ہمارے شہر میں محکمہ نہر کے ارد گرد ہمارے پاس تیس فٹ تک جگہ ہے کیوں نا اس جگہ پر ایک بائی پاس بنوایا جاے اور شہر کو خوبصورت بنانے کے ساتھ اپنے اینویسٹروں کو ٹھیکہ لے کر دیا جاے اور عوام سے داد وصول کی جاے۔
رپورٹ تیار کر لی گئی وزیراعلیٰ پنجاب سے منظوری لے لی گئی اور یہ شو کیا گیا کہ یہ جگہ تقریباً خالی ہے جو لوگ قابض ییں ان سے حکومت بہت جلد خالی کروا لے گی اور پھر منظوری ہو گئی
نہر کے آس پاس اگر ہم یقعوب آباد سے شروع کریں تو تقریباً لوگ قابض ہیں ان میں سے ایک سائیڈ کے لوگوں کے پاس تو مکمل رجسٹری ہے وہ عرصہ تیس سال سے وہاں آباد ہیں اور اپنے مکانات بنا کر رہائش پزیر ہیں ۔
رپورٹ تیار کرنے والے اس وقت کہاں تھے جب کہ حکومتی کاغذات کے اندر وہ زمیں اب عوام خرید چکی ہے ۔اب آتے ہیں احاطہ شاہ نوازسے لے کر مرضی پورا تک نہر کی ایک جانب پوری ایک بستی آباد ہے ان کو 1979 سے کچی آبادی کے سروے میں شامل کر لیا گیا تھا ان میں سے چوراسی گھروں نے اپنی کچی آبادی کے لحاظ سے فیس میں ادا کردی تھی جس کی رسیدیں بھی لوگوں کے پاس وجود ہیں ۔اب چالیس سال بعد حکومت کے افسران کی ملی بھگت سے ایک ایسامنصوبہ منظور کروایا گیا ہے جو دیکھنے میں تو بہت شفاف لگتا ہےمگر اس کے پیچھے تمام افسران کی نااہلی شامل ہے
متحصیل میونسپل کمیٹی کے افسران اور نے کیونکہ سروے کیے تھے کیوں فیس لی تھی ۔جب ایک بار کچی آبادی ڈیکلیئر کر دیا گیا تھا تو کیوں اب ان مکینوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے ۔ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس ایک اینچ جگہ بھی باقی نہیں رہتی وہ اب کہاں جاتے سو عدالت چل دئیے ۔۔۔
حکومت وقت اور اعلی افسران کا پریشر ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ سختی سے نبٹا جاے گا جو حکومتی زمین پر ناجائز قابض ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ لوگ تو مالک ہیں جو قابض تھے وہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جگہ خالی کر چکے ہیں مگر ابھی بھی ایک پوری آبادی ہے جو اینےگھروں کی چھت کے لیے ملتان ہائی کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔فیصلے حکومت کے حق میں ہی آتے ہیں مگر ثبوت اور تمام پچھلے ریکارڈ سے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت خود ہی الیکشن جیتنے کے لیے کچی آبادی والوں کو زمین آلاٹ کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان غریبوں سے آہنی ہاتھوں سے نبٹنے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے۔
اس پورے پروجیکٹ میں مسجد غلامان مصطفیٰ بھی آتی ہے جو نہر کے پل وہاڑی بازار پر واقع ہے جو کم ازکم پچاس سال پہلے تعمیر ہوئی تھی ۔ہمارے ملک کا ایک لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ ہم اپنے بائی پاس میں آنے والی ہر مسجد کو شہید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں مگر اس کی جگہ اگر مندر ، گرجا گھر آجائیں تو ہم اپنا نقشہ تبدیل کر لیتے ہیں لاہور میں کافی ساری مسجدوں کو شہید کرنے کے بعد مندر کے لیے نقشہ بدلنا پڑا کیونکہ وہ ہمارا اثاثہ ہیں ۔۔مسجد تو اللہ کا گھر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم بات کر رہے تھے مسجد غلامان مصطفیٰ کی جس میں موجودہ قیادت ، ایم پی اے ،ایم این اے ، ڈی پی او وغیرہ آے اور باقاعدہ ان کو اطلاح دی کہ آپ غیر قانونی ہیں آپ خود ہی مسجد کا فلاں فلاں حصہ گرا دیں ۔ہم آپ کو مسجد کے لیے جگہ اویل کروا کر دیتے ہیں انتظامیہ نے دھوبی گھاٹ والی جگہ کےعوض خود ہی مسجد کو شہید کرنا شروع کر دیا ۔دھوبی گھاٹ والی جگہ کا بھی کیس عدالت میں ہے ۔اب مسجد آدھی سے زیادہ مسمار ہو چکی ہےوعدہ کرنے والے خاموش ہو چکے ہیں ۔نمازی مٹی میں نماز پڑنا پسند نہیں کرتے اور ادھر مسجد کی ملکیت دکانوں پر بھی جو حضرات قابض ہے وہ کہتے ہیں ہم اپنی دکان کیوں خالی کریں ہم تو تیس سال سے مسجد کی خدمت کر رہے ہیں کوئی ایم این اے کا بندہ ہے تو کوئی ایم پی اے کا بندہ ہے ۔مگر کوئی اللہ کا بندہ نہیں ہے
مسجد اب ویران ہو رہی ہے وضو کے لیے لوگ ترس گئے ہیں مگر کوئی پرسان حال نہیں ہے
روڈ تو عدالتی فیصلوں کے بعد بھی بن پاے گا یا نہیں خدا جانتا ہے مگر مسجد کو شہید کروا کر اب اللہ کے سپرد کر دیا گیا ہے
میری موجودہ قیادت ،،،، ایم این اے ، ایم پی اے ، چیئرمین اور ڈی سی او سے گزارش ہے کہ نمازیوں کو مسجدیں تبدیل کروانے کا موقع مت دیں ۔خدا کے واسطے اس پورے پروجیک کی چھان بین کریں ۔اور ہر طرح سے سابقہ اور موجودہ افسران کی خدمات حاصل کر کے از مسلے کا حل کریں ۔
ایک بائی پاس سے اگر پانچ ہزار لوگ بے گھر ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو ایسے پروجیکٹ پر نظر ثانی کریں
مسجد غلامان مصطفٰی کے نمازیوں سے بھی اپیل ہےسب ملکر اپنی مسجد کو ویران ہونے سے بچائیں اور نئی جگہ نہ ملنے تک اس مسجد کے ساتھ تعاون کریں ۔۔۔۔

عجب دستور ہے میرے شہر کے مکینوں کا
شاہراہ تعمیر کرتے ہیں مسجد گرانے کے بعد
احمر اکبر
چیف ایڈیٹر روزنامہ بورےوالہ
امید ہے بورےوالہ کا ہر دوست پوسٹ کو شئیر کرے گا ۔میرے لیے نہیں مسجد اور عوام کے لیے تاکہ حکمرانوں کو حقائق کا پتہ چل سکے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *