اٹھو مریم نواز ! ہم تمہارے ساتھ ہیں

اٹھو مریم نواز ! ہم تمہارے ساتھ ہیں
5 جولائی 1977 کی صبح 1 بج کر 45 منٹ کی روداد بینظیر بھٹو بتاتی ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں ممی میرے کمرے سے صنم کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہہ رہی تھیں

” اٹھو، جاگو، کپڑے بدلو. فوج نے قبضہ کر لیا ہے”۔

اور جب حفیظ پیرزادہ کی بیٹی نے فون پر روتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میرے والد کو مارا پیٹا اور ساتھ لے کر چلے گئے تو پنکی کے پاپا نے کہا کہ پُرسکون رہو اور اپنے خاندان کے وقار کا خیال رکھو.

ہماری دعا ہے اے قوم کی حسین و جمیل، نازوں پلی محترم بیٹی مریم نواز کہ آپ کی 5 جولائی ایسی طلوع نہ ہو۔

اُسی سال 3 ستمبر رمضان کے مہینے میں صبح 4 بجے کا منظر بینظیر بتاتی ہیں کہ کمانڈوز میرے بیڈ روم میں گھس آئے۔ ایک میرے کمرے میں اُچھلتا کودتا پھر رہا تھا۔ الماری سے اس نے میرے کپڑے نکال نکال باہر پھینکے۔ ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی چیزیں الٹ دیں۔ فون کا تار کھینچ کر توڑ دیا۔ میں نے احتجاج کیا تو پستول تان لیا کہ اگر زندہ رہنا چاہتی ہو تو چپ رہو۔

مگر ہماری دعا ہے اے قوم کی عظیم بیٹی مریم نواز کہ آپ کی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا میک اپ کا مہنگا سامان جوں کا توں رکھا رہے۔ ایک عدد لپ اسٹک بھی نہ ٹوٹے۔ اور خدا نہ کرے کہ رات گئے کوئی نامحرم آپ کے بیڈ روم میں گھس آئے۔

1980 کے ایک دن جب صنم المرتضیٰ میں مقید بیمار پڑی ماں اور بہن سے ملنے آتی ہے تو کیپٹن افتخار صنم کے پیچھے پیچھے کمرے میں گھس آتا ہے۔ بینظیر اسے شرم دلاتی ہے تو وہ یہ کہہ کر بینظیر پر ہاتھ اٹھاتا ہے کہ میں جہاں چاہوں جا سکتا ہوں۔ ہاتھ اٹھانے پر بینظیر اسے اپنے باپ کا احسان یاد دلاتے ہوئے للکارتی ہے تو وہ ہاتھ نیچے کر دیتا ہے۔

نہیں نہیں، اے قوم کی بیٹی مریم نواز، آپ کے لیے ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

16 دسمبر 1977 کو بینظیر اور نصرت بھٹو قذافی اسٹیڈیم پہنچتی ہیں کرکٹ میچ دیکھنے۔ ہجوم تالیوں کی گونج کے ساتھ ان کے اعزاز میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگلے لمحے قیامت برپا ہوجاتی ہے۔ آنسو گیس اور لاٹھیوں کی شدید بارش کے بیچ ماں کو تلاش کرتی بینظیر کو جب ماں ملتی ہے تو لوہے کی سلاخوں سے ٹکرائی، پھٹے سر کے ساتھ لہولہان۔

تصویر آج بھی گوُگل پر موجود ہے۔

نہ نہ ۔۔۔۔۔ ایسا دن ایک بار پھر نہ آئے۔ ہم اپنی قوم کی ماں اور قوم کی بیٹی کو پھر اس حالت میں نہ دیکھیں۔ ایک اور تصویر ہمیں منظور نہیں اے قوم کی عظیم بیٹی۔

4 اکتوبر 1978 کو بینظیر اور اس کی سہیلی یاسمین کو ملتان ائرپورٹ پر بندوقوں کی نوک پر جہاز سے اتار دیا جاتا ہے۔ یاسمین کو نامحرم اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں کہ تم بینظیر کے ساتھ نہیں جا سکتیں اور بینظیر کو ایک اور چھوٹے سے جہاز میں بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یاسمین نامحرموں سے نگاہ بچا کر، ان کے نرغے سے بھاگ کر دوڑتی بینظیر کے ساتھ چھوٹے طیارے میں گھس جاتی ہے، جس میں صرف تین لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ تیسرا پائلٹ ہے، جو باہر کھڑے پہریداروں کو کہتا ہے کہ اگر اندھیرا ہو گیا تو جہاز اُڑ نہیں سکے گا۔ اسے اڑنے کی اجازت دی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ وہ صبح سے بھوکا پیاسا ہے۔ پائلٹ کے لیے پانی اور لنچ باکس لایا جاتا ہے۔ جہاز کے اندر پائلٹ بینظیر کو پانی اور کھانا یہ کہہ کر پیش کرتا ہے کہ اس نے بینظیر کی پانی کی ضرورت کو سپاہیوں کے سامنے مسترد ہوتے سن لیا تھا۔ جہاز راولپنڈی پہنچتا ہے، جہاں بینظیر کو اترنا ہے۔ دروازہ کھولتی ہی ہے کہ پائلٹ اشکبار آنکھوں سے اسے مخاطب کرتا ہے ” میں سندھی ہوں”

راولپنڈی میں جہاز سے اتار کر بینظیر کو وہاں پہنچایا جاتا ہے جہاں نصرت بھٹو مقید تھیں۔

بیٹی کے کپڑے پھٹے تھے اور جسم پر خراشیں۔ مگر ماں خوش تھی کہ اب ہم قید میں ساتھ ساتھ ہوں گی۔

اے میری قوم کی عظیم بیٹی قابلِ احترام مریم نواز، جب قوم کی بیٹیاں قوم کی طرف سے بندوقوں کے سامنے سینہ سپر ہو کھڑی ہوتی ہیں تو اسی قوم کے افراد انہیں اپنی آنکھوں کے اشک پیش کرتے ہیں۔ مگر یہ تب ممکن ہوتا ہے جب زندگی کے سارے سکھ چین اور عیش و آرام قربان کر دیے جائیں اور دامن اور ہاتھ خالی ہوں۔ سامنے مال و ملکیت بچانے کا معاملہ درپیش نہ ہو۔ فقط ایک جان کُل متاع ہو جو داؤ پر لگی ہو۔

ذہنی اذیت کا کھیل کیسے کیسے کھیلا جاتا ہے! آپ کو اندازہ نہیں اے میری قوم کی عظیم بیٹی۔ جے آئی ٹی تو کچھ بھی نہیں ہے! یہ تو آنی جانی چیز ہے۔

ورنہ یہ بھی ہوتا رہا ہے کہ سکھر جیل، کراچی جیل، راولپنڈی جیل وغیرہ وغیرہ کی وحشتوں میں مسلسل دربدر رکھتے ہوئے ایک دن نوجوان لڑکی کو ایک اجنبی ڈاکٹر کے سامنے پیش کر دیا جائے اور جو اسے کہے کہ تمہارے پہریداروں کا خیال ہے کہ تمہیں رحم کا کینسر ہے اور تمہارا آپریشن کرنا پڑے گا۔ پھر اسے اسی وحشت کے عالم میں کراچی جیل میں اس جھوٹ کے ساتھ لے جایا جائے کہ آپریشن سے پہلے ہم تمہیں تمہاری ماں سے ملوانے لے جا رہے ہیں اور وہ وحشت سے جیل کی خالی کھولیوں میں ممی ممی پکارتی بولائی پھر رہی ہو اور ماں کہیں بھی نہ ہو۔ پھر بغیر کسی اپنے کی موجودگی کے، پکڑ کر اس کا آپریشن بھی کر دیا جائے۔

پھر اسی نقاہت کے عالم میں اسے چھوٹی بہن سے ملوانے کے لیے ایک اور ہسپتال میں لایا جائے اور چھوٹی بہن اسے اسٹریچر پر مدد کے لیے پکارتی دکھائی دے جسے زبردستی آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا جا رہا ہو۔ وہ پکار رہی ہو کہ یہ مجھے قتل کر دیں گے۔۔۔ پاپا ۔۔۔۔ پاپا ۔۔۔۔ یہ مجھے قتل کر دیں گے ۔۔۔۔ پولیس نے اس کی چھوٹی بہن کا اسٹریچر گھیرے میں لے رکھا ہو اور اسے طرح طرح کی ٹیوبس لگی ہوں۔ مگر اسے چھوٹی بہن سے ملنے کا موقع نہ ملے اور بخار و نیم غنودگی کی حالت میں واپس جیل پہنچا دی جائے۔

دعا ہے کہ یہ اذیت بھرے مناظر پھر کبھی نہ آئیں اے قوم کی عظیم بیٹی۔ ہم نے تو تب بھی شکرانہ ادا کیا جب آپ جیسی عظیم بیٹی نے اپنے ابا جی کا چھوٹا سا آپریشن نہایت رازداری سے لندن میں کروا دیا۔ اس کمال خوبی سے کہ مجال ہے کہ کسی دشمن کی نگاہ بھی اس ہسپتال پر پڑی ہو۔ اس سے بھی بڑا احسان تو یہ ہوا کہ اس مشکل وقت میں آپ نے قوم و ملک کی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔ شکر ہے کہ پاکستان اب ویسا نہیں رہا جیسے آپ کے ابا جی کے استادِ محترم کے دور میں تھا۔ ورنہ پاکستان میں تو ہسپتال کے بستر پر مخالفین کو ختم کرنے کی سازش کی جاتی رہی ہے۔

یہ بھی شکر ہے کہ اتنی دال روٹی آپ لوگ اپنی کر لیتے ہیں کہ پاکستان کے ہسپتالوں کے بجائے لندن سے علاج معالجہ کروا لیتے ہیں۔

ورنہ سکھر جیل کی 48 سینٹی گریڈ کی گرمی میں پھٹ چکی جلد، پھنسیوں سے بھر چکے جسم، کان کے شدید انفیکشن میں مبتلا نصرت بھٹو کی پنکی جو پیلے گدلے پانی سے پیاس بجھانے کی ناکام کوشش کرتی رہتی ہے اور جسم پر بار بار چڑھ آتے کیڑے مکوڑوں سے لڑتی رہتی ہے، اسے ماں اپنی قید سے اس کی قید میں خط بھیجتی ہے کہ ۔۔۔۔ میری بہت ہی پیاری پنکی! ۔۔۔۔ دن میں تین یا چار مرتبہ اپنے جسم پر پانی ڈالو تا کہ حدت کم محسوس ہو۔ اس کو آزماؤ۔ میں بھی پہلے اپنا سر جھکاتی ہوں، گردن کے پیچھے اور سر کے اوپر پانی کے مگ ڈالتی ہوں۔ پھر پنکھے کے نیچے بستر پر لیٹ جاتی ہوں۔ اس طرح کپڑے خشک ہونے تک بہت ٹھنڈک نصیب ہوتی ہے۔ اس طریقے سے پھنسیوں سے بھی حفاظت رہتی ہے۔ یہ شاندار نسخہ ہے۔ میں اس کی پرزور سفارش کرتی ہوں پیار کے ساتھ۔ تمہاری ممی۔

مگر یہ سب باتیں پرانی ہو چکیں۔

بس اے قوم کی عظیم بیٹی ہماری دعا ہے کہ آپ نامحرموں کی بنائی ہوئی جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوں تو آپ بینظیربھٹو کی طرح سادہ کپڑوں میں، آنکھوں میں آئی لائنر کے بجائے رت جگے لیے ہوئے نہ ہوں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کی انگلیاں تھامے بھری دوپہر آپ کو قید میں پڑے شوہر سے ملاقات کے لیے جیل جیسی گھٹیا جگہ کے چکر نہ لگانا پڑیں۔

لیکن نہیں، آپ پر انشااللہ ایسا وقت نہیں آئے گا۔ آپ کے شوہر تو جے آئی ٹی کی آنکھوں میں سرمہ ڈال کر نکل گئے۔ وہ تو لاج رہ گئی کہ یہ نہیں کہا کہ میں مریم نواز کا شوہر ہی نہیں ہوں۔ باقی تو ہر بات سے انکار کر دیا۔ حد کر دی۔ بینظیر کا شوہر جیسا کھلاڑی شخص سات سال جیل میں بیٹھ گیا! اسے کیوں یہ خیال نہیں آیا! کیپٹن صاحب کی طرح کہہ دیتا وہ بھی کہ جناب میں درویش آدمی ہوں۔ عبادت میں دن رات محو رہتا ہوں۔ بیوی آتی ہے، منہ میں نوالے ڈال کر چلی جاتی ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ دال تھی کہ پائے! بچے پتہ نہیں کتنے ہیں۔ کب پیدا ہوئے اور کب باہر گئے پڑھنے۔ میں تو خود آپ سے سن رہا ہوں کہ میرے بچے بھی ہیں! میں وزیراعظم ہاؤس میں رہتا بھی نہیں۔ باہر گارڈز کی کوٹھڑی میں نوافل ادا کرتا رہتا ہوں۔

اس بے وفائی کی امید نہیں تھی آپ کے کیپٹن سے! یا شاید کیپٹن سارے ہی حسیناؤں کے معاملے میں ایسے ہی بے وفا ہوتے ہیں!

خیر اللہ آپ کا سہاگ سلامت رکھے۔ شادی پرانی ہو جائے تو نکھٹو شوہر کو بھی ماں بن کر پالنا پڑتا ہے۔

دعا ہے کہ آنے والی صبح آپ سُرخرو ہوں۔ ہم ٹوئٹر پر نگاہیں بچھائے آپ کے منتظر ہوں گے۔ آپ ہمیشہ کی طرح فریش فریش چلی جائیے گا۔ آپ کے حصّے کے آنسو ڈار صاحب رو چکے ہیں۔

ویسے بھی پاکستان میں تبدیلی آ چکی ہے۔ وہ شاعر بھی خواب آنکھوں میں لیے مر گئے جو کہتے تھے کہ بندوقوں والے ڈرتے ہیں ایک نہتی لڑکی سے۔ وہ لڑکی بھی بم کے دھماکے سے اُڑ گئی جو بندوقوں سے نہ جھکی۔

اب لوٹ مار کے بازار میں خدا کرے سب کی دکانیں چلتی رہیں اور پاکستان کا شٹر کبھی نہ گرے۔

نورالہدیٰ شاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *