پتھر اٹھانے والا صدیوں پرانا روائتی کھیل

تحریر : عبدالجبار خان دریشک راجن پور
انسان کی اچھی صحت کے لئے خوراک کے ساتھ تفریحی اور کھیل کود بھی ضروری ہے صدیوں پہلے انسان کے پاس وافرمقدار میں جہاں خوراک کی کمی تھی تو اس کے پاس تفریحی کا سامان بھی نہ تھا تونے انسان اپنی خوراک اور تفریحی کے لئے حاصل اشیاءکو استعمال میں لاکر تفریحی کا سامان پیداکر تا رہا ہے اس نے اپنی طاقت کا مظاہر کھیلمیدان میں کر کے اس کو جنگ کے میدان میں لے گیا پھر اس طاقت کو آزما ءکر تختتک جا پہنچا ۔ اب صدیوں پہلے انسان کے پاس وہ سہولیات تو نہ تھی جو آج کے جدید دور میں مو جود ہیں اس وقت انسان مقابلہ با زی لڑ کر یا پھر کسی وزنی چیز کو اٹھا کر کر تاتھا جس سے اس کے طاقت ور ہو نے کا انداز ہ ہو جاتا جس بنیاد پر اس کو قبیلے کا سردار یا پھر بڑا ہونے کا رتبہ ملتاتھا ان طاقت کے مظاہروں اور کھیلوں کے لئے انسا ن نے پتھر جیسی وزنی چیز کو اٹھا کر اس پتھر اٹھانے والے کھیل کی ابتداءرکھی تاریخی حوالے تو پتھر اٹھانے کے کھیل کے بہت کم ملتے ہیں کہ اس کی ابتداءکا دور کو ن سا تھا پر اس بات سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے فرعون کے محلات جن کو اہر ام مصر کہا جا تا ہے اس کی مکمل تعمیر میں پتھرکواستعمال لایا گیا اس دور میں نہ تو مشین تھیں اور نہ ہی کو ئی اور وسائل سوائے افرادی قوت کے تقریباً چارمن وزنی پتھر کے ہزاورں ٹکرے اتنی بلندی تک انسانی کندھوں پر لاد کر لے جا تے رہے ہو ں گے دور بدلتے رہے

حکومتیں جنگوں اور طاقت کی بنیا د پر حاصل کی جا تی تھیںان جنگجوںنے بھی اپنے آپ کو میدان جنگ میں اتارنے سے پہلے اپنی طاقت کا اندازہ ایسے وزن اٹھاکر اور اپنے کھیل سے فن میں مہارت حاصل کرنے کے بعد کیا ہو گاموجودہ جنگیں ٹیکنالوجی کی ہیں پر پہلے دور میں روایتی جنگیں ہو تی تھی تو اس کے لئے فوجیوں کا انتخاب میں پہلے زور آزمائی کی جا تی تھی جس میں امتحان کی پہلی سیڑھی پتھر اٹھانا ہو تا تھا اس میں زیادہ وزنی پتھر اٹھانے والے طاقتوار انسان کو فو جی عہدے بھی دےے جا تے تھے پتھر اٹھانے کاکھیل خلفاءراشدین کے دور میںبھی رہا ہے اس کے بعد مغلیہ دور میں بھی بادشاہ اپنی تفریحی اور فوجیوں کی طاقت کا اندازہ لگا نے اور ان کے خون کو گرما نے کے لئے اس طرح مقابلے کرواتے تھے پتھر اٹھانے کے کھیل کے ساتھ بادشاہ کشتی کے مقابلے بھی کر واتے تھے اس سے آگے کے دور میں دنیا ترقی کا سفر کر نا شروع کر تی ہے زندگی کا ہر شعبہ جدت کی طرف اپنا رخ موڑ لیتا ہے ایسے ہی کھیل کے میدان میں بھی ترقی ہو نے لگی اور نئے نئے کھیلوں کی ابتداءہو تی ہے تو پرانے کھیل بھی نئے سانچے میں ڈھل کر نئے نا موں کے ساتھ وجود میں آجا تے ہیں اب پرانے کھیل کشتی اور پتھر اٹھانا بھی نئے کھیل رئسلنگ اور ویٹ لفٹنگ بن جا تے ہیں پر ان کی جتنی بھی جدید شکلیں بن جا ئیں پر ان اصل شکل آج کے دور میں بھی مو جو د ہے پتھر اٹھانے والے صدیوں پرانے اس روایتی کھیل کو دیہاتوں میں پہلوانوں نے زند ہ رکھا ہو ہے

آج بھی پا کستان کے مختلف علاقوں میں یہ کھیل زندہ ہے اور اس کے مقابلے بھی ہو تے ہیں پا کستان میں پتھر اٹھا نے کا کھیل کا فی حد تک پنجا ب کے علاقوں جن میں زیادہ حصہ جنو بی پنجا ب میں ہے ملتان مظفر گڑھ سرگودھا جھنگ میا نوالی ڈیرہ غا زی خا ن اور راجن پور وغیرہ شا مل ہیں کے پی کے میں یہ کھیل ڈیرہ اسما عیل خان شمالی علاقہ جات اور فاٹا وغیرہ میں اب بھی موجود ہے پوٹھوہار اور کشمیر کے علاقوں میں بھی یہ کھیلموجود ہے جس کو مقامی زبان میں بغدو کہتے ہیں عموماً اس کھیل میں استعما ل ہو نے والے کا پتھر کا وزن سوکلوگرام سے شروع ہو کر دوسو دس کلوگرام تک ہو تا ہے ڈیرہ اسما عیل اور ڈیرہ غا زی خان کی تحصیل تونسہ کے پہا ڑی علاقوں کے قبائل میں پتھر اٹھانے کا ایک کھیل دلچسپ پہلو رکھتا ہے جس میں کسی نوجوان کی شا دی ہو نی ہو تی ہے تو اس کو پہلے وزنی پتھر اٹھا نا ہو تا ہے جس کو مقا می زبان میں وٹا اٹھا نا کہتے ہیں کا میاب ہو نے والے نو جوان کی شا دی کی تاریخ طے کر دی جا تی ہے جبکہ نا کا م ہو نے والے کھلا ڑی کو دوبارہ تیا ری کے ساتھ میدان میں اترنا پڑتا ہے ان علاقوں اور کے پی کے میں شادی کی تقریبات خاص کر مہندی کی رات جس کو مقا می زبا ن میں نگار ے والی رات کہتے ہیں کو نوجوان پتھر اٹھا کر ہلا گلہ کر تے ہیں جو ان کی شادی کی خوشی منا نے کا انوکھا طریقہ ہے

جنوبی پنجاب میں اکثر اس کے کھیل کے مقا بلے کشتی کے پروگراموں ثقافتی پروگراموں اور چھو ٹے میلوں ٹھیلوں پر ہو تے ہیں دیہاتوں میں ایسے پتھر کسی پہلوانوں کے اکھا ڑوں یا پھر چھو ٹے چھو ٹے آستا نوں پر ہو تے ہیں جب ان آستانوں کے عرص اور میلے ہو تے ہیں تو پہلوان لوگوں کی تفریحی کے لئے کشتی کبڈی کے مقا بلوں کے ساتھ وٹا(پتھر) بھی اٹھا تے ہیں ڈیرہ غازی خان کے علاقے چوٹی زیر یں میں ہر سال 11اپریل کو وٹا (پتھر) اٹھا نے کا مقا بلہ منعقد ہو تا ہے جس کی ابتداء90 ءکی دہا ئی میں مقامی سردار و سیا ست دان سردار جعفر خان لغاری نے کروائی تھی اب وہاں پر وٹا (پتھر )اٹھا نے کا مقابلہ ہر سال با قا عدگی سے منعقد ہو تا ہے جس کی سرپر ستی اب بھی سردار جعفر خان لغاری کر تے ہیں راجن پور کی تحصیل جام پور میں اور تحصیل راجن پور کے علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے پر وگر ام ہو تے ہیں جس میں وٹا (پتھر ) اٹھا یا جا تا ہے جام پور میں حال ہی میں ایک ایسا ثقافتی میلہ منعقد کر وایا گیا جس میں مختلف علاقوں کے چالیس کھلاڑی مقابلے میں شامل ہو ئے جنہوں نے 4من 8کلو وزنی پتھر اٹھا ئے جس میں تین کھلاڑی کا میا ب قرار پا ئے غلام عباس جن کا تعلق ڈیرہ غا زی کے علاقے شادن لنڈ سے تھا اول دوسری پوزیشن پر اعجا ز لغاری اور تیسری پوزیشن پر سرفراز رہے وہاں پر مو جود 5من 2کلو وزنی پتھر کوئی بھی کھلا ڑی اٹھا نے میں کا میا ب نہ ہو سکا جبکہ کھلا ڑیوں کو تریبت دینے والے پہلوان ملک عبدالکریم ببر جن کا تعلق راجن پور کی تحصیل جا م پور سے ہے ان کا ریکا رڈ ہے جو انہوں نے سخی سرور کی دربار مو جو د 5من 16 کلو وزنی پتھر 4اپریل 2008 ءکو اٹھایا تھا جس کو تا حا ل کو پہلوان اٹھا نے میں کا میاب نہیں رہا ہے

استاد عبدالکریم ببر کہتے ہیں اس کھیل کے اصول یہ ہیں کہ پتھر کو کم وقت میں اٹھا کر عوام کے د ائرے میں چکر لگا نا ہو تا ہے اور اس کو اٹھانے کے لئے زور کے ساتھ مہارت کی بھی ضرورت ہو تی ہے جس کو پہلے زمین سے ایک ٹا نگ کے گو ڈے تک لایا جا تا ہے اور بعد میں سینے سے لگا کر کندھے پر لے جا یا جا تا ہے استاد عبدالکریم ببر اس بات کا افسوس کر تے ہیں کہ حکومت کی طرف سے میلوں اور ثقافتی پر وگراموں پرمقامی انتظامیہ کی پا بند ی کی وجہ سے ایسے کھیل ختم ہو تے جا رہے ہیں جبکہ آنے والی نسل ان کھیلوں سے نا واقف ہو گی موجو دہ دور میں نوجوان نسل کمپیوٹر اور مو بائل فون پر اپنا وقت اور صحت برباد کر رہی ہے ان کو کھیل کے میدانوں میں آکر ایسے طاقت والے کھیلوں میں دلچسپی لینی چا ہیے جس سے میدان آبا د ہوں گے تو ہسپتال ویران ہو ں گے

One Response to پتھر اٹھانے والا صدیوں پرانا روائتی کھیل

  1. عبد الجبار خان دریشک صاحب پتھر اٹھانے کی رسم بہت پرانی ہے۔ہمارے علاقے میں میلوں ٹھیلوں پر پٹھر اٹھائے جاتے ہیں۔لیکن جب کبھی کسی کی شادی ہوتی تھی تو دولہے کے لئے پتھر اٹھانا شرط ہوتی تھی آج کے اس جدید دور یہ شرط ختم کردی گئی ہے۔شاید آج کل دولہے کامعیار چیک کرنا مناسب نہیں۔
    آپ کی اچھی اور معلوماتی کاوش پر میں آپ کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *