نوکری پیشہ افراد اور ایمانداری

 

ایک دن مجھے رفیق کا فون آیا۔ میں نے فون کاٹ دیا۔ اس نے پھر فون کیا۔ میں نے دوبارہ کاٹ دیا۔ اس کے بعد جب میں نے اسے فون کیا تو وہ شکوہ کرنے کے انداز میں کہنے لگا: میں کال کر رہا تھا ناں، آپ نے کیوں کٹ کر دی؟ میں نے کہا تم آفس کے فون سے کال کر رہے تھے اور مجھے معلوم ہے کہ تمہارا مجھ سے یہ رابطہ کسی دفتری ضرورت کے تحت نہیں بلکہ گپ شپ کے لیے تھا۔ کہنے لگا، چھوڑیں سر جی! اتنی بڑی کمپنی ہے، میری ایک فون کال سے ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ میں نے کہا ان کا کچھ بگڑے نہ بگڑے تمہارا بہت کچھ بگڑ جائے گا، کیوں کہ ایک دن تمہیں ان تمام امانتوں کا حساب دینا ہے۔

اسی طرح ایک دن میں نے کسی دوست کو فون کیا، مجھے کوئی وزنی مشین شارجہ سے دبئی لانی تھی۔ میں نے پوچھا: یار کوئی پک اپ والا جاننے والا ہے؟ وجہ پوچھی میں نے بتادی۔ کہنے لگا، کیوں خوامخواہ خرچہ کرتے ہیں۔ کمپنی کا ڈرائیور میرا دوست ہے، ڈیوٹی کے بعد جب فارغ ہوجائوں گا تو اسے وین سمیت لے کر آؤں گا یوں مفت میں کام ہوجائے گا۔ ان دنوں وہ کسی بڑی کمپنی میں جاب کرتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا کمپنی کے مالک کو اس چیز کا پتہ ہے کہ ڈرائیور اس طرح، اس کی اجازت کے بغیر، کمپنی کے باہر کے کسی شخص کے کام میں گاڑی کا استعمال کرے گا؟ کہنے لگا، ایسا تو نہیں۔ میں نے کہا پھر یہ جائز نہیں۔ کہنے لگا، تو کیا ہوگیا۔ پیٹرول آپ ڈلوادینا۔ میں نے کہا: گاڑی صرف پیٹرول ہی تو استعمال نہیں کرتی، اس میں آئل بھی ڈلتا ہے، اس کا انجن بھی پرانا ہوتا ہے، اس کے ٹائر بھی گھستے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ بلا اجازت کسی کی چیز استعمال کرنا تو ویسے بھی اخلاقاََ درست نہیں۔ مجھے پچاس سو درھم بچانے کے لیے ایسی سہولت نہیں چاہیے۔

یہ ایک المیہ ہے کہ جاب کرنے والے افراد میں سے ایک کثیر تعداد کو معلوم ہی نہیں کہ امانت کیا چیز ہوتی ہے، اس کا استعمال کس طرح کرنا ہوتا ہے اور یہ کہ بالاخر ان امانتوں کا ایک دن انہیں حساب بھی دینا ہوگا۔ کمپنی کی طرف سے گاڑی، پیٹرول، فون، قلم، کاغذ، فرنیچر، گھر، رقم، لیپ ٹاپ اور جو بھی سہولیات ملتی ہیں وہ سب امانتیں ہوتی ہیں۔ حتٰی کہ ٹشو پیپر کے ڈبے اور روم اسپرے بھی امانت ہیں۔ ہر شخص، جو مسلمان ہے اور اللہ کا خوف رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ان امانتوں کی حفاظت کرے اور سوچ سمجھ کر خرچ کرے۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کے غلط استعمال کا علم کمپنی انتظامیہ کو نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوگا، مگر یاد رہے کہ ایک ایسی ذات بھی موجود ہے جو انسان کے ہر عمل کو دیکھ رہی ہے اور چھوٹی سی چھوٹی خیانت کو بھی جانتی ہے۔

چند سال قبل مجھے یاد ہے کہ میں نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا تو ایک عرب نوجوان دوسرے کے ساتھ الجھ رہا تھا۔ قریب جا کر وجہ معلوم ہوئی کہ وہ مسجد کی بجلی سے اپنا موبائل چارج کر رہا تھا جس پر دوسرا اسے سمجھا رہا تھا کہ مسجد کی بجلی کو اپنے ذاتی مصرف میں لانا گناہ ہے۔ جبکہ دوسرے کا اصرار تھا کہ اس سے کتنی بجلی خرچ ہوتی ہے؟ سمجھانے والا بضد تھا کہ سوال ’’کتنی‘‘ کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ جتنی بھی خرچ ہوتی ہے وہ جائز ہے یا ناجائز؟

چھٹی کے لیے جعلی میڈیکل سرٹیفیکٹ بنوانا، سفری اخراجات کے جعلی یا اضافہ شدہ بل پیش کرنا، کمپنی کے موبائل سے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنا، جس کا بل کمپنی کو دینا پڑے، کمپنی کی گاڑی کا ذاتی استعمال جس کی اجازت نہ دی گئی ہو، ڈیوٹی کے اوقات میں اپنا کوئی ذاتی کام نمٹانا، اخبار پڑھنا، بچوں کے اسکول کے نوٹس اور ہوم ورک کے پرنٹ کمپنی کے پرنٹر یا فوٹوکاپیئر سے نکالنا، کرکٹ کے ٹورنمامنٹ دیکھنا۔۔۔ اگر آؤٹ ڈور کام ہے تو وقت گذار کر دن پورا کرنا، ڈیوٹی اوقات میں بچوں کو اسکول لے جانا اور پھر واپس اٹھانا، کمپنی کی گاڑی میں دوستوں یا فیملی کو لے کر سیر سپاٹے کرنا اور اس طرح کی کئی خیانتیں جن کو آج ہمارے مسلمان بھائی گناہ تک نہیں سمجھتے، نہیں جاتے کہ کتنا بڑا بوجھ وہ اپنے کندھوں پر لادتے چلے جا رہے ہیں جو انہیں آخرت میں اٹھانا ہوگا۔

حقوق العباد کے ضمن میں اللہ کا خوف رکھنے والے انسانوں کی کچھ مثالیں ذہن می آ رہی ہیں۔ ایک صاحب کی ڈیوٹی پنجاب میں کسی جگہ لگی جس کے لیے انہیں کمپنی کی طرف سے گاڑی بھی دی گئی۔ وہ صاحب شہر سے پانچ سات کلومیٹر دور ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ دن بھر کمپنی کے کام نمٹانے کے بعد شام کو جب فارغ ہوتے تو گاڑی شہر میں موجود دفتر میں کھڑی کرتے اور خود اپنی سائیکل پر چڑھ کر گاؤں کی طرف روانہ ہوجاتے، جو وہ ہر روز اپنے ساتھ گاؤں سے لاکر دفتر میں چھوڑا کرتے تھے۔ کسی نے پوچھا، گاڑی پر کیوں نہیں جاتے؟ جواب دیتے کہ کمپنی کی گاڑی، کمپنی کے کام کے لیے ملی ہے، اپنے ذاتی کاموں کے لیے نہیں۔ جب گاڑی ساتھ لے کر جاؤں گا، تو امانت میں خیانت ہونے کا خطرہ رہے گا۔

اسی طرح مجھے اسلاف میں سے کسی کا واقعہ یاد آ رہا ہے، نام بھول رہا ہوں۔ وہ اپنے شہر سے دو تین سو کلومیٹر دور کسی دوسرے شہر میں کسی کام سے گئے۔ وہاں چلتے پھرتے ان کو کچھ لکھنے کے لیے قلم کی ضرورت پڑی جو انہوں نے کسی سے مانگ لیا۔ جو کچھ لکھنا تھا، لکھ کر قلم واپس کرنا بھول گئے اور اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہوکر اپنے شہر واپس آگئے۔ واپس پنہچتے ہی ان کی نظر اپنی جیب میں رکھے قلم پر پڑی۔ اسی وقت انہوں نے واپسی کا سفر شروع کیا اور اس شہر میں پہنچ کر جس شخص سے قلم لیا تھا اس کو واپس کیا، ساتھ میں معذرت بھی کی۔

عمربن عبدالعزیز رحمتہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا واقعہ تو سب کو معلوم ہی ہے کہ کوئی صاحب ان سے ملاقات کے لیے آئے۔ آپ چراغ کی روشنی میں اپنے سرکاری امور نمٹانے میں مصروف تھے۔ اس شخص نے ذاتی امور پر گفتگو شروع کردی۔ آپ نے چراغ گل کردیا اور فرمایا کہ اس چراغ میں جلنے والا تیل مسلمانوں کے بیت المال کی امانت ہے جس کو ہم اپنی ذاتی گپ شپ کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔

*اور بھی بے انتہا مثالیں موجود ہیں، غور کیجئے اپنا جائزہ لیجئے، حقوق العباد پورا کرتے رہیے خود بخود سب کے حق مل جائیں گے*

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *