اخلاق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اخلاق نبی صلی اللہ علیہ

تحریر ۔۔۔معصومہ ارشاد

 

فطری طور پر لوگ بلند اخلاق والے لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وا
آلہ وسلم کا اخلاق مبارک عظیم تر تھا۔اس بارے میں صرف رب ذولاالجلال کی گواہی ہی کافی ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
“اِنَكَ لِعَلى خَلَق العظيم”
سورہ القلم آیت 6
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کے اخلاق کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:
“اِنَّ خُلُقَ نبِیَّ اللہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کَانَ الْقُرُآنَ”۔
صحیح المسلم۔جلد 1 حدیث 512۔513
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم_ خاص حضرت انس رضی اللہ عنہ نے آپ کے اخلاق عالیہ کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی ہے.
“خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )عَشْرُ سِنِیْنَ۔وَاللہِ مَا قَااًُفًا قَطُ وَلاَ قَالَ لِیْ لِشَیْ ً :لِمَ فََعَلْتَ کَذَا؟وَھَلًاًّ فَعَلْْتَ کَذَا؟
“میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس سال خدمت کی ۔اللہ تعالی کی قسم!آپ نے کبھی بھی مجھے” اف” تک نہیں کہا،اور نہ ہی کبھی کسی چیز کے متعلق فرمایا:تو نے یہ کیوں کیا؟ اور یہ کیوں نہیں کیا؟۔
صرف یہ ہی نہیں بلکے تاج نبوت پہنائے جا نے سے پہلے بھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اخلاق_عالیہ کے ساتھ معروف و مشھور تھے۔۔
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی زندگی پوری انسان ذات کے لیئے ایک مکمل اور بہترین مثال ہے۔قرآن شریف میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں کہ:
“لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللہِ اُسْوَةُ حَسَنَةُ”
(الاحزاب)
ترجمہ:”آپ سب کے لیئے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بہترین مثال ہے.
دعوت دینے والے کے لیئے ضروری ہے کہ وہ بلند اخلاق، رحیم و شفیق ہو۔اس لیئے اللہ رب العالمین نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہایت ہی رحیم و شفیق بنایا اور اس بات کی گواہی دی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔اخلاقی لحاظ سے کوئی بھی خوبی ایسی نہ تھی جو ان مین موجود نہ ہو۔ارشاد الہی ہے۔
وَمَاٌ اَرْسَلْنکَ اِلَّا رَحْمَتًہ لِلعالَمِیْنَ:
ترجمہ:”اور(اے پیغمبرصہ)ہم نے تمہیں(سب)جہانوں کے لیئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”
انسانذات کے ساتھ اللہ رب العالمین کی نرمی اور حسن اخلاق کا ذکر اللہ رب العالمین نے ان الفاط میں کیا ہے:
فَبِمَا رَحمَتٍہ مِنَ اللہِ لِنتَ لَھُم وَلَو کُنتَ فَظًّا غَلِیظَ اْلقَلْبِ لَاْنْفْضُّوْامِنْ حَؤلِکَ ص
ترجمہ:”پھر اللہ رب العالمین کی رحمت کے سبب تمہیں ان کے لیئے نرم دل بنایا گیا ہے۔اگر تم سخت مزاج اور تنگ دل ہوتے تو یہ لوگ تم سے دور بھاگتے”(آل عمران 195)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نرم دلی صرف انسانوں تک ہی محدود نہ تھی۔بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانوروں کے لیئے بھی رحیم و کریم تھے ۔ایک مرتبہ ایک صحابہ رضہ نے کسی پرندے کے بچے اٹھائےتو وہ شور مچانے لگا۔تب اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کس نے اس کے بچون کو اتھا کر اسے بے ارام کیا ہے؟تب وہ صحابی بچے اٹھا کر لایا اور اس پرندے کے سامنے رکھہ دیئے ۔جس پر اس پرندے کو آرام ملا۔
بچوں کے ساتھ نرم دلی کے حوالے سے ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسن کو پیار کر رہے تھے۔تو ایک بدو اقرع بن حابس جو آپ صہ کے پاس بیٹھے تھے ۔کہنے لگے میرے دس بچے ہیں مگر میں نے کبھی ان کو بوسہ نہیں دیا۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی جانب دیکھ کر کہا :
مَن لاّ يَرحَمُ لاّ يَرحَمُ:
ترجمہ:جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔مزید فمایا کے جو شخص چھوٹوں پر رھم نہیں کرتا وہ ہم مین سے نہیں ہے۔
دنیا میں اگر ہم سب کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں،جس سے ہماری دنیا بھی آباد رہے اور آخرت بھی سنور جائے تو ہمیں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم کی پیروی کرکے ان کے اسوہ حسنہ کو اختیار کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *