حجامہ سستا اور کارآمد علاج مگراحتیاط ضروری!

حجامہ سستا اور کارآمد علاج
مگراحتیاط ضروری!

ہمارے معاشرے میں ناقص غذا، ملاوٹ شدہ اور مضر صحت اشیاء کے استعمال کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے اِس دور میں علاج کروانا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے، جس کی وجہ سے ایک بیماری کا بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے دیگر کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
حکومت نے صحت عامہ کے لیے سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کر رکھی ہیں لیکن وہ ناکافی ہیں اور کہیں شہروں میں صرف دعوؤں تک محدود ہیں، یہی وجہ ہے کہ عوام سستا علاج کروانے پر مجبور ہیں۔
جدیددور میں بیماریوں کے علاج کے لیے کئی طریقے ایجاد ہوئے اور کچھ پرانے طریقوں کو اپنایا گیا ،
جس میں ایک طریقہ علاج جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے، جسے حجامہ کہتے ہیں۔

حجامہ کیا ہے۔۔۔؟
’’حجامہ عربی زبان کے لفظ حجم سے نکلا ہے‘‘ جس کے معنی کھینچنا/چوسنا ہے۔ اِس عمل میں مختلف حصوں کی کھال سے تھوڑا سا خون نکالا جاتا ہے۔
انسانی صحت کا دار و مدار جسمانی خون پر ہے اگر خون صحیح ہے تو انسان صحت مند ہے ورنہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ بیماریاں اس فاسد خون کے ساتھ نکل جاتی ہیں۔ حجامہ ایک قدیم علاج ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اور ملائکہ کا تجویز کردہ ہے اِس قدیم طریقہ علاج میں جسم کے 143 مقامات سے فاسد خون نکال کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔حضرت محمدﷺ نے حجامہ لگانے کو افضل عمل قرار دیا ہے۔

حجامہ اور جدید میڈیکل سائنس
جدید میڈیکل سائنس اب تیزی سے حجامہ کی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔ مغربی سائنس دان اور تحقیقاتی ادارے حجامہ پر مسلسل تحقیق میں مصروف ہیں،
ان تمام تحقیقات کی بنیاد قدیم ترین طبی کتاب ریبس پائرس ہے۔
سائنس دان اس امر پر بھی حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل انسان نے میڈیکل کی اِس قدر پیچیدہ گتھی کس طرح سلجھائی تھی۔ اس کتاب کے علاوہ ماہرین آثار قدیمہ نے چائنیز تہذیب کی ایک قدیم کتاب بھی دریافت کر لی ہے۔ اس کتاب کے مطابق چین میں حجامہ طریقہ علاج تین ہزار سال قبل مسیح سے رائج ہے۔
گریس کے مطابق تہذیب میں ہیپوکریٹس کے دریافت شدہ آثار میں ایسے کاغذات بھی دریافت ہوئے ہیں جو چار سو سال قبل مسیح میں تحریر کیے گئے تھے اور ان میں حجامہ طریقہ کار چار بنیادی نکات پیش کیے گئے تھے۔
ان ہی چار نکات کو حضرت محمدﷺنے بہتر قرار دیا تھا۔ مشہور سائنس دان نے بھی اسی وجہ سے حجامہ کے بیان کردہ چار نکاتی فارمولے پر تحقیق کو آگے بڑھایا۔

کئی بیماریوں کا علاج

حجامہ سے بلڈ پریشر، ٹینشن، جوڑوں کا درد، پٹھوں کا درد، کمر کا درد، ہڈیوں کا درد، سر کا درد (درد شقیقہ) مائیگرین، یرقان، دمہ، قبض، بواسیر، فالج، موٹاپا، کولیسٹرول، مرگی، گنجاپن، الرجی، عرق النساء وغیرہ اور اس کے علاوہ 70 سے زائد روحانی وجسمانی دونوں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ یہ خون صاف کرتاہے اور حرام مغز کو فعال کرتا ہے،
شریانوں پر اچھا اثر ہوتا ہے، پٹھوں کا اکڑاؤ ختم کرتا ہے، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کے لیے مفید ہے، آنکھوں کی بیماریوں کو بھی ختم کرتاہے، رحم کی بیماری ماہواری کے بند ہو جانے کی تکالیف اور ترتیب سے آنے کے لیے مفید ہے، گٹھیا عرق النساء اور نقرس کے درد کو ختم کرتا ہے، فشار خون میں آرام دیتا ہے، زہر خورانی میں مفید ہے، مواد بھرے زخموں کے لیے فائدہ مند ہے۔
الرجی جسم کے کسی حصے میں درد کو فوری ختم کرتا ہے۔ نیم حکیموں کی طرح حجامہ کے بھی جگہ جگہ کلینک کھولے گئے ہیں، حجامہ لگوانے کے لیے مستند اور تجربہ کارتھیراپسٹ کا انتخاب ضروری ہے کیوں کہ ناتجربہ کار شخص صحیح حجامہ نہیں لگا سکتا جس وجہ سے علاج نہیں ہو پاتا اور مریض مایوس ہو جاتا ہے۔

کیا حجامہ محفوظ ہے؟
یہ ایک محفوظ طریقہ علاج ہے اگر اسے کسی ماہر معالج یا معتبر ادارے سے کرایا جائے ۔
حجامہ کراتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھنا لازمی ہے:
*اس میں استعمال ہونے والے آلات صاف ستھرے اور جراثیم سے پاک ہونے چاہیں۔
*حجامہ قمری مہینے کی 21، 19 اور 17 تاریخ میں لگایا جاتا ہے۔
*علاج کے دوران معمولی نوعیت کی تکلیف یا بے چینی ہونا نارمل ہے ۔
ایک اچھا حجامہ تھیراپسٹ آپ کو یہ ضرور کہے گا کہ جب بے چینی بڑھنے لگے تو آپ اسے مطلع کریں۔
* علاج کے بعد اس جگہ کا رنگ تبدیل ہونا عام بات ہے۔ ایساوقتی طور پر ہوتا ہے اور زیادہ پانی کے استعمال سے یہ نشان 5 سے7دنوں میں غائب ہونے لگتا ہے ۔
*حجامہ کرانے کے کچھ دن تک کمزوری محسوس ہوسکتی ہے جس کی وجہ متاثرہ جگہ پر خلیات کی مرمت اور صفائی کا عمل ہوتا ہے ۔
ایسے میں اچھی غذا اور زیادہ پانی کا استعمال جلد صحت یابی میں مدد کرتا ہے ۔
*صحت مند افراد بھی بیماریوں سے محفوظ حجامہ لگوا سکتے ہیں۔
*حجامہ کھلے زخم یاجلد کے السر کی جگہ پر نہیں کرا یا جاسکتا۔
اس کے علاوہ امراض قلب میں مبتلا لوگ یا عمر رسیدہ افراد جن کی جلد پتلی اور نرم ہو گئی ہو انہیں بھی اس طریقے سے گریز ہی کرنا چاہیے ۔
محمد شفیق کمبوہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *