ہارنا سیکھئے !

ہارنا سیکھئے !

ذیشان الحسن عثمانی

’’میں کبھی ہار نہیں مانتا‘‘، ’’دنیا کی کوئی طاقت مجھے اپنے منصوبے سے نہیں ہٹا سکتی‘‘، ’’میں گرنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘، ’’میں ایک بار جس چیز کا سوچ لوں وہ کرکے ہی دم لیتا ہوں۔‘‘ ان جیسے کئی جملے آئے دن سننے کو ملتے رہتے ہیں۔

موٹیویشن ٹریننگز کا تو پورا سلسلہ چل نکلا ہے ’’نیور گیو اپ‘‘ (ہار نہ مانیے) پر۔ فیس بک پر ایسے دعووں کی بھرمار ہے۔ اٹھارہ انیس سال کے لڑکے چیختے پھرتے ہیں کہ ہم ہار نہیں مانتے، مشکل سے مشکل حالات میں بھی سروائیو کرکے دکھائیں گے۔ اپنا اسٹارٹ اپ چلا کر دکھائیں گے اور ڈرانے والوں کا منہ کالا۔

ہر چیز کو انتہاء پر لے جانا ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے۔ کسی کام میں عدل اور توازن کا پہلو نہیں ڈھونڈتے، میانہ روی کی راہ نہیں اپناتے، بندگی کا مزاج نہیں سمجھتے۔ ’’نیور گیو اپ‘‘ کا نعرہ کوئی قومی لیڈر یا منصوبہ ساز لگائے تو بھی شاید ٹھیک ہو، لیکن جس نے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی دنیا کی خاک نہ چھانی ہو، وہ بھی ایسے دعوے کرے تو ہنسی آتی ہے۔

میں آپ سے چند باتیں عرض کروں؟ اگر آپ کے خود ساختہ انٹرپرینورشپ کے احساس کو چوٹ نہ پہنچے؟

نیور گیو اَپ اچھی چیز ہے مگر کس ماحول میں؟
مثلاً آپ کو ایک طالب علم ملے جو کہے کہ میں گزشتہ نو سال سے کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز ڈگری مکمل کرنے کا سوچ رہا ہوں مگر پاس نہیں ہوتا تو آپ اس کو کیا رائے دیں گے؟ نیور گیو اَپ اور زندگی برباد کر دو یا بھائی آپ کوئی دوسرا شعبہ یا کام چن لیجیے، یہ آپ کے کرنے کا نہیں۔ آپ کا مزاج، ذہنی استعداد اور رجحان اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ فیلڈ آپ کےلیے بہتر نہیں۔

نیور گیو اَپ کا بخار ان لوگوں میں زیادہ دیکھا جن کے پاس دینے کو کچھ ہے ہی نہیں۔ جب پلے کچھ ہے ہی نہیں تو گیو اَپ کریں گے کیا؟ باتیں؟ بھائی! گیو اپ سے پہلے بہت کچھ سنبھالنا پڑتا ہے، کمانا پڑتا ہے، سیکھنا پڑتا ہے۔ ایسی باتیں تو وہ کرے جس کے پاس چوائس نہ ہو۔ آپ کی تو زندگی پڑی ہے، آگے بڑھیے، ایک سے بڑھ کر ایک میدان ہیں۔

قدرت کا اُصول ہے کہ دعویٰ دلیل مانگتا ہے۔ جتنا بڑا دعویٰ، اُتنی بڑی دلیل۔ اور دعویٰ کرنے والوں کو ایک دن چوٹ ضرور پڑتی ہے۔ کبھی دعا میں بھی آدمی ایسا نہ کہے کہ اے اللہ اس واری معاف کردے آئندہ کبھی نہیں کروں گا۔ بلکہ یوں کہے کہ اللہ معاف کردے آئندہ کرنے سے توبہ، اگر پھر کر بیٹھوں تو پھر معاف کردیجیے گا۔

میرا پی ایچ ڈی ایڈوائزر کہتا تھا کہ بندہ جب تک ذلیل نہ ہو، سیکھتا نہیں۔ کچھ مہینوں کی بے روزگاری یا ایک دو دن کا فاقہ آپ کو وہ کچھ سکھا دیتا ہے جو ایم بی اے نہیں سکھا پاتا۔ چیلنج میں کیوں ڈالتے ہیں اپنے آپ کو، سر جھکا کر سیکھتے رہیے، گرتے پڑتے رہیے، ایک دن اُٹھ ہی جائیں گے، سب کے ساتھ یونہی ہوتا ہے۔

یاد رکھیے کہ ناکامی، کامیابی کی ضد نہیں۔ یہ تو ایک مرحلہ ہے جو کامیابی کی طرف چلنے میں ہمیشہ آتا ہے۔ اس اسٹیشن پر کچھ دیر رُک کر اپنا اور اپنے کاموں کا محاسبہ کیجیے اور پھر آگے چل دیجیے کہ زندگی پڑی ہے۔ جیسے کوئی گناہ ہوجائے تو آدمی توبہ کرے اور آگے چلے، گناہوں کے تذکرے اور بار بار رونے دھونے کی باتیں مایوسی کو جنم دیتی ہیں۔

کسی کامیاب آدمی کو دیکھ لیجیے، آپ کو نظر آئے گا کہ زندگی میں کتنی بار اس نے ہار مان لی، گیو اپ کر دیا، اُٹھ کے پھر سے چلا اور منزل کو پالیا، علی بابا نے کے ایف سی کو گیو اپ ہی تو کیا ورنہ آپ کی طرح نوکری لے کر ہی چھوڑتا۔ مارک زکربرگ نے ہارورڈ کو۔ ایسی ہزاروں مثالیں ہیں۔ منزل سامنے ہو، وہ نہ بدلیے۔ راستے جتنی بار چاہیں تبدیل کرلیجیے، کس نے منع کیا ہے؟

مثلاً آپ کو لاہور جانا ہے، اب موٹر وے بند ہے تو جی ٹی روڈ سے چلے جائیے۔ دونوں بند ہیں تو جہاز لے لیجیے، ٹرین میں چلے جائیے۔ لاہور ہی تو پہنچنا ہے! راستے کی ضد نہ کیجیے۔ آپ کو کامیاب ہونا ہے، اب وہ اچھا انسان بننے سے ہوگا خواہ آپ سی ای او بنیں یا مینیجر۔ اپنا کاروبار کیجیے یا کسی اور کا۔
ہار مان لینی چاہیے۔ اللہ کےلیے سب کو بڑے بڑے دعوے کرتے دیکھا۔ ہر شخص منصوبے بناتا ہے، لوگوں کا اژدہام جمع کرتا ہے، کروڑ پتی بننا چاہتا ہے مگر آج تک کوئی ایسا نہ ملا جو کہے کہ لوگوں سے چھپتا ہوں کہ اللہ مل جائے۔ کچھ نہیں کرتا کہ رب راضی ہوجائے۔ اپنے آپ پر کام کرتا ہوں کہ دنیا کا بھلا ہو۔ ایسا کرنے میں اَنا کو تسکین نہیں ملتی ناں۔

جب حالات مشکل ہوں، ظلم بڑھ جائے، تکلیف پہنچے، وزن زیادہ ہوجائے تو ہار مان لیجیے۔ مالک کے سامنے جا کر مکمل سرینڈر کر دیجیے۔ کہہ دیجیے کہہ اے اللہ! بڑی کوششیں کی، نہیں چھٹتے گناہ، نہیں چلتا بزنس، نہیں راضی ہوتے بیوی بچے، نہیں ملتی نوکری۔ اب تُو کرم کر، مجھے میرے نفس سے بچا ورنہ میں تو گیا۔ اعتراف جُرم کر لیجیے۔

یقین جانیے! ہارنا سیکھ لیں گے تو جیت روتی پیٹتی خودبخود آپ کے پاس پہنچ جائے گی۔

ہار جیت کی اِس لڑائی میں اپنے آپ کو نکال دیجیے۔ مخلوق اس کی، کام اُس کا۔ وہ چاہے تو استعمال کرے، چاہے تو نہ کرے۔ کچھ کر پایا تو اس کی توفیق، کچھ نہ کر پایا تو اُس کی منشاء۔

کوئی بڑا، صاحب رائے، کوئی اُستاد اگر مل جائے تو ہار مان لیجیے، اپنی ذات کے خول سے باہر آجائیے، دعوے کرنا چھوڑ دیجیے، لوگوں کو ڈوز نہ لگائیے، اللہ سے ڈریئے۔ جنت میں آرام سے مل لیجئے گا، سارے وِنرز وہیں تو جمع ہوں گے۔

اللہ ہم سب کو ہارنا سِکھائے۔ آمین!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *