ان کو قتل نہ کرو۔۔۔۔۔۔یہ اللہ کی رحمتیں ہیں 

ان کو قتل نہ کرو۔۔۔۔۔۔یہ اللہ کی رحمتیں ہیں 
تحر یر : عبدالجبار خان دریشک 
اللہ پا ک نے ہمیں بے شما ر نعمتیں عطاءفر ما ئی ہیں وہی پاک پرور دگار ہمیں بے حساب اور بن ما نگے بھی دیتا ہے وہ ہرلمحہ کسی نا کسی صورت میں اپنی رحمتوں اور برکتوں سے ہمیں نو ازتا رہتا ہے ہم اس پاک ذات کا جیتا شکر ادا کر یں کم ہے اگرہم ایک پل کے لئے اپنے اردگرد نظر دوڑیں تو ہر طر ف اللہ پاک کی رحمتیں اورنعمتیں ہی نظر آئیں گی اللہ پاک کی یہ عطائیں کسی بھی صورت ہوسکتی جن کو ہم اپنے اردگرد محسوس کر سکتے ہیں چاہے ہماری صحت ہو علم ہودھن دولت گھر شان وشوکت ہو یا پھر اولاد رشتے ناتے سب اپنی اپنی ہمارے لئے اہمیت رکھتے ہیں اور یہ ہمارے لئے رحمت ہیں ان سب میں سے پیاری چیز اولاد ہے جو پاک پر ودگار کی خاص عطاءہے اللہ پاک نے اولاد میں دو درجے رکھے ہیں یہ دونوں درجے ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ان میں سے ایک درجہ نعمت کا ہے اور دوسر رحمت کا یعنی بیٹا نعمت ہے تو بیٹی رحمت اور اللہ پا ک جسے چا ہتا ہے نعمت سے نو ازتا ہے اور جسے چا ہتا رحمت سے نو از تا ہے اور جسے چا ہتا یہ دونوں عطاءفر ما دیتا ہے اور کسی کو ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں دیتا یہ بھی اس پاک ذات کی حکمت ہے قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے ”آسمان اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے وہ جو چا ہتا ہے پیدا کر تا ہے جسے چا ہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چا ہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دو نوں عنا یت فرماتا ہے جسے چا ہتا ہے بے اولا د رکھتا ہے وہ جاننے والا اور قدرت والا ہے (الشوریٰ)اب جبکہ خود اللہ پاک نے فر ما دیا ہے کہ فیصلے کا اختیار اس کے پاس ہے پر افسوس کا مقام یہ کہ ہمارے معاشر ے میں اس بات کی فرما ئش اور آرزو کی جا تی ہے کہ پہلے بیٹا ہی پیدا ہو اور بیٹی کی پیدا ئش پر منہ بنا لیا جا تا ہے اور بیٹی پیدائش پر اتنی خوشی نہیں منا ئی جا تی جتنی بیٹے کی پیدا ئش پر منا ئی جا تی ہے اور یہ کہاجاتا ہے کہ ہائے بیٹا پیدا ہو جا ئے تو ہمارا چشم چرغ ہمارا وارث اور ہمارے بعد کو ئی ولی عہد آجا ئے گا اور ایسے بہت کم ہی ہوں گے جو بیٹی کی خواہش کرتے ہوں گے اکثر شادی شدہ جوڑوں اور ان کے گھر والوں کی دعا ئیں بیٹے کے لئے توہوں گئی لیکن بیٹی کی دعا بالکل ہی نہیں ما نگی جا تی جس گھر میں ایک سے زیادہ بٹیا ں پیدا ہو ں توان بیٹیوں کی ماں کے ساتھ رویوںمیں تبدیلی آجا تی ہے بات دوسری شادی تشدد اور طلاق تک پہنچ جا تی ہے کہ تم نے بیٹیاں پیدا کیوںکی جب خو د اللہ پاک نے اس بارے قرآن پاک میں بتا دیا ہے تو پھر یہ جہا لت کیوں ایسی جہالت تو ہمارے معاشرے میں عام سی بات ہے لیکن اس سے بھی زیادہ بھیا نک شکلیںہمارے معاشرے میں مو جو د ہیں جو اسلام سے قبل عرب معاشرے کی جہالت میں تھیں جس میں بیٹی کے پیدا ہو نے پر اسے زند ہ دفن کر دیا جا تا تھا جب عرب کی جہالتکے اندھیرحضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے ماضی کا حصہ بن گئے اور ہر سوں اسلام کی روشنی پھیل گئی اور ایسی رسومات بھی دم توڑگئیں جب ایک مرتبہ ایک بدو نے حصور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹی کے زندہ دفن کرنے کا واقعہ سنا یا توآ پ کی آنکھوں سے آنسوں جا ری ہورہے تھے اس زمانے کی جہالت اور آج کی جہالت کو دیکھا جائے تو اس میں کو ئی فر ق نہیں ہے گزشتہ دونوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر نے مجھے جنجووڑ کر رکھ دیا ایک بچی کی لاش بغیر کپڑوں کے کسی نہر کے کنارے الٹی پڑی تھی اس کے ساتھ اور تصاویر بھی تھیں جس میں پٹرولنگ پو لیس کے جو ان اس لاش کو اٹھا کر کپڑے میں لپیٹ رہے تھے ساتھ کچھ تحر یر بھی لکھی ہو ئی تھی کہ یہ بچی کی لاش ہے جس کو پیدائش کے فوراً بعدنہر میں پھینک دیا گیا تھا بچی جسامت کے اعتبار سے پورے ہفتوں کی لگ رہی تھی اگر کسی نے اپنے گنا ہ کو چھپانے کے لئے ایساجرم کیا ہے تو وہ بچی اتنی صحت مند اور پورے ہفتوں کی نہ ہو تی اندازہ یہ لگا یا جا سکتا تھا کسی کے ہاں بیٹی پید ا ہو ئی اس نے اپنی جہالت کی وجہ سے نہر میں پھینک دی با قی بہتر تو اللہ پا ک کی ذات جا نتی ہے اصل حقیقت کیا ہے اب سائنس نے بڑی ترقی کر لی ہے الٹر ساونڈ جو انسا ن کی اندرونی بیماری اور عورت کے پیٹ میں بچے کی صورت حال بتا سکتا ہے اس کے ایجاد کرنے کا مقصد تو مثبت تھا کہ کسی بھی حاملہ عورت کے پیٹ میں بچے کی صورت حال کا جا ئزہ لے کر بروقت علاج کیا جاسکے لیکن اس کا بھی غلط استعمال کیا جا رہا ہے ڈاکٹر مر یض کے اسرار پر الٹر ساونڈ کے ذریعے چیک کر یہ بتا دیتے ہیں کے حاملہ عورت کے پیٹ میں بیٹا ہے یا بیٹی جن کے ہاں پہلے سے تین چار بٹیاں ہو تی ہیں وہ استقاط حمل کر واکے بچہ ضائع کر وا دیتے ہیں بیٹی کو پیدائش کے بعد زندہ دفن کرنے والے اور بیٹی کو پیدائش سے پہلے مارنے والے دو نوں جاہل بر ابر ہیں اگرماں کے پیٹ میں پرورش پانے والا بچہ لڑکی ہے تو والدین فوراً استقاط حمل کر وا لیتے ہیں جس کو وہ عا م سی بات سمجھتے ہیںاستقاط حمل کرنے والوںمیں زیادہ پر ائیو یٹ کلینک میٹر نٹی ہو م گلی محلے میں ایل ایچ وی اور دائیوں کے کلینکس پر ہو تا ہے جو چند پےسوں کی لالچ میں اس گناہ اور قتل جیسے جر م میں ان والد ین کی طر ح برابر شر یک جرم ہوتے ہیں اور ساتھ ہی اللہ پاک کی قدرت میں مداخلت بھی کرتے ہیںجسکی وجہ سے وہ اپنی دنیا اور آخر ت بھی برباد کر تے ہیں یہ بھی تو ایک قتل ہے ہم کون ہو تے ہیں کسی انسان کو دنیا میں آنے سے روکیں کیا ان کو روزی روٹی ہم نے دینی ہے اس جر م کے متعلق ہمارے ملک میں قانون بھی مو جو د ہیں پھر بھی یہ گناہ ہو رہا ہے پاکستان میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 338۔ت پ ‘کے تحت ایسا جر م کر نے والوں کے خلاف کاروائی ہو سکتی ہے جس کی سزا دس سال قید ہے لیکن اس کے برعکس دنیا میں اس بارے سخت قوانین مو جو د ہیں کسی ڈاکٹر اور ہسپتال کا عملہ ایسا کام کرنے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتے ایسا کرتے پکڑے گئے تو ساری زندگی کے لئے لائسنس کینسل کر دیاجاتا ہے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بیٹی کو پیدائش سے پہلے ہی ماں کے پیٹ میں ماردینا عام ہے اس لئے ان کی زیادہ تر ریاستوں میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی تعدا د کم ہو تی جا رہی ہے اور ہر دس سال بعد 70 لاکھ لڑکیوں کی تعدا د میں کمی ہو جا تی ہے اب یہ صورت حال ہمارے ملک میں بھی شروع ہو گئی ہے حالیہ مردم شماری میں مر دوں کے مقابلے میں خواتین کی تعدا د کم ہو گئی ہے جو 1998 میں مردوں سے زیادہ تھی اس کے علاوہ بھارت نے پچھلے کچھ سالوں سے قوانین سخت کر دیے ہیں الٹر ساونڈ کرنے والوں کو سختی سے کہا گیا ہے کہ جنس کے بارے مر یض اور اس کے لا حقین کو آگا ہ نہ کر یں اسی طر ح ہمارے ملک میں بھی اس بارے قوانین کو سخت بنا نے کی اشد ضرورت ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کچھ این جی اوز جو آبادی کو کنٹر ول کرنے کا کام سرانجام دے رہی ہیں وہ اپنی کارکر دگی دیکھانے کے لئے دیہات میں رہنے والی خواتین کو استقاظ حمل کے لئے قائل کر کے ان کا بچہ استقاط حمل کر کے ضا ئع کر وا دیا جاتا ہے کچھ ڈاکٹر ز کو بھی اس بات کا ٹاسک دیا گیا ہے کہ آپ نے یہ کام کر نا ہے جس کے لئے وہ والد ین کو کہتے ہیں کے آپ کے بچے کی گروتھ ما ں کے پیٹ میں ٹھیک نہیں ہو رہی جس کے سرکی پرورش صیح نہیں ہو رہا جس کو Macro cephalic کہتے ہیں اگر بچہ پید ا ہو ا تو اس کا سر چھو ٹا ہو گا اور بچہ ِذہنی طور پر مفلوج پید اہو گا آپ بچہ ضا ئع کروا لیں جب ایک ڈاکٹر مشورہ دے رہا ہے تووالد ین اس پر ضرور عمل کر تے ہو ئے استقا ط حمل کرواتے ہیں ایسے کیس سو میں سے ایک دو فیصد ہو تے ہیں لیکن آج کل اس کے بارے میںڈاکٹرز زیادہ کیو ں بتار ہے ہیںجبکہ ہمارے ملک میں ذکا وائر یس کا کوئی کیس بھی سامنے نہیں آیا ہے اس با ت کی تحقیقا ت ضرور ہونی چا ہےی جن لوگوں نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل نہیں کیا ان کے بچے نارمل پیدا ہو ئے ہیں اس کا مطلب ہے کچھ دال میں کالا ہے اس کے علاوہ ڈاکٹرزہر الٹر ساوٹڈ کر وانے والوںمیں خاص کر حاملہ خواتین کا مکمل ریکارڈ رکھیںاور ان کو سختی سے ہدایت جاری کی جا ئے کہ کسی بھی صورت میںجنس کے بارے نہ بتا ئیں اور وہ خود بھی سوچیں وہ بتا تو دیتے ہیں لیکن وہ خدا کے کاموں میں بھی تو مداخلت کرنے جیسے گنا ہ کر مر تکب ہو تے ہیں استقا ط حمل کرنے والے بھی ان کرانے والوں کی طر ح آخرت میں جو ابدے ہو ں گے اور وہ لو گ جن کو اللہ پاک نے بیٹے نہیں دےے بیٹاں دی ہیں تویہ اللہ پاک کی مر ضی ہے جس کو جو دے بیٹیتواللہ کی رحمت جس کے بار ے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے تین بٹیوں یا تین بہنوں کی پر وش کی تو وہ جنت میں میرے قریب ایسے ہو گا جیسے میں میری درمیان والی دو نوں انگلیاں ہیں کسی نے پوچھا آقا پاک کسی کی دوبٹیاں ہو ں تو آپ نے فر ما یا وہ بھی ایسے ہی میرے ساتھ ہو گا حتی کہ آپ نے تو ایک بیٹی کے بارے میںبھی یہی کچھ فر ما یاہے یہاں ایک اور بات بھی غورطلب ہے اور سمجھنے والی ہے کہ جس کسی کی اولاد چھوٹے مصوم بچوں کی صورت میں فوت ہو جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن اپنے ماں باپ کو دوزخ کی آگ سے بچا ئیں گے اور اپنے والدین کو جنت میں لے جا ئیں گے لیکن جنہوں نے اولاد کو خود قتل کیا ہو چاہے پیدا ئش سے پہلے یا بعد میں وہ بچے تو سوال کر یں گے ہمارا کیا قصور تھا ہمیںکیوں مارا گیا کہ ہم بٹیاں تھیں ہم بیٹے نہیں تھے بیٹی کے آڑے غربت اور مہنگا ئی تھی اگر میں بیٹا ہو تی تو نہ مہنگائی ہو تی نہ ہی غربت پھر اس وقت کیا جو اب دیں گئے تمہاری شفارش کر نے والے توخود اللہ سے انصاف ما نگ رہے ہو ں گے پھر سارے اعمال اور نیکیوں کا کیا بنے گا اولاد اللہ پاک کیخاص عنا یت ہے چا ہے وہ نعمت ہو یا رحمت ہمیں اللہ کا شکر ادا کر نا چا ہےے ان سے پو چھیں جن کی کو ئی اولاد نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *