سیلفی کیا ہے اور آج کل ضروری کیوں ہے ایک جامع مضمون۔

باطن کی سیلفی!

آج کل سیلفی لینا اور شیئرکرنا فیشن بن چکا ہے، جب کوئی شخص اپنی تصویر خود ہی لیتا ہے تو اسے سیلفی (selfi) کہتے ہیں، اکثر و بیشتر فیس بک یوزرز اپنے پیج پہ اپنی سیلفی اپ لوڈ کرنا ضروری سمجھتے ہیں، دوسرے ایپلی کیشنز پہ بھی سیلفی کا بازار گرم ہے، اس مضمون میں بحث سیلفی کے جائز یا نا جائز یا مفید یا نقصان دہ ہونے کے متعلق نہیں ہے بلکہ سیلفی کے بہانے سے ایک بہت ہی اہم اور ضروری مگر فراموش کردہ امر کی طرف آپ سب کی توجہ مبذول کرانا ہے۔

قارئین! اس دنیا میں بسنے والا ہر انسان اس حقیقت کو بخوبی جانتا ہے کہ کسی بھی انسان کی اصل قدرت و قیمت اس کی ظاہری شکل و صورت سے نہیں بلکہ اس کے باطن اور اخلاق و کردار سے ہوتی ہے، اگر صورت سے انسان بڑا بنتا تو دنیا کے سبھی حسین و جمیل افراد دنیا کے سب سے بڑے لوگ ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے، اس دنیا میں اگر کوئی اپنی پہچان بنایا ہے تو صرف اپنے کام اور کردار ہی کی وجہ سے، لہذا معلوم ہوا کہ سب سے ضروری چیز انسان کا اندرون اور باطن ہے اور انسان کے باطن کی خوبصورتی ہی دراصل اس کی اصل خوبصورتی ہے، اگر کوئی شخص شکل و صورت سے خوبصورت نہ ہو لیکن اس کا کردار بلند ہو تو لوگوں میں محبوب نظر ہوتا ہے۔

اس کے برخلاف کوئی حسن کا پیکر اگر برے اخلاق سے متصف ہوتو لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں، ظاہری حسن اور خوبصورت شکل کچھ لمحوں کے لیے آپ کو متاثر ضرور کر سکتی ہے لیکن باطنی حسن اور خوبصورت سوچ آپ کو ہمیشہ کے لیے گرویدہ بنا لیتی ہے، اس لیے ظاہری حسن کے نوک و پلک سنوارنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے اندرون کی خبر لیں۔

یہ ایک بہت ہی اہم اور ضروری امر ہے، جس سے آج ہم اور ہمارے معاشرے عموما غافل ہو چکے ہیں، کسی بھی انسان کے انسان رہنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ اس کے اندر خود احتسابی اور شخصیت سازی کا جذبہ موجود ہو، اور جس کے اندر سے یہ جذبہ ختم ہو جاتا ہے، وہ دھیرے دھیرے انسانیت کی صفات سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے، آج ہمارے معاشرے میں موجود تقریبا سبھی برائیوں کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اندر سے خود احتسابی کا جذبہ اٹھ چکا ہے، اسی وجہ سے ہم گناہ کرلینے کے بعد بھی سکون کی نیند سولیتے ہیں، اور اسی وجہ سے ہم یکے بعد دیگرے گناہ کرتے چلے جاتے ہیں، حالاں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے اندر خود احتسابی کا جذبہ دوسروں سے زیادہ ہونا چاہئے کیوں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ دنیا ایک دارالامتحان ہے، جسے آسائشوں اور دل کو لبھا نے والی چیزوں سے بھر دیا گیا ہے، اور شیطان اپنے تمام تر وسوسوں اور بہکاوؤں کے ساتھ آزمائش کے طور پر یہاں موجود ہے اب ہمیں اپنے ایمان و عمل کی حفاظت کرتے ہوئے بالکل اسی طریقہ پر اپنی زندگی گزارنی ہے جو ہمیں قرآن و حدیث میں بتلایا گیا ہے، اور اسی حال میں خالق دو جہاں سے جا ملنا ہے تاکہ یوم حساب ہم سرخرو ہو کر بدلے میں جنت کا ابدی انعام پا سکیں، لیکن اس کے ساتھ ہم انسان ہیں، خطا اور لغزشیں ہمارا خاصہ ہیں، شیطان کے بہکاوے کبھی کبھی قدم ڈگمگا دیتے ہیں، ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں، اپنے آپ کو اپنی ضمیر کی عدالت میں کھڑا کریں، اور اگر گناہ ہو گیا ہے تو شرمندگی کے ساتھ توبہ کرتے رھیں ، اب اگر ہم اپنا محاسبہ ہی نہیں کریں گے اور ضمیر کا لاکھ سرزنشوں کے باوجود ڈھٹائی سے اپنے گناہ پر اڑے رہیں گے تو لا محالہ شیطان ہمیں مزید بہکائے گا اورہم گناہوں کے دلدل میں پھنستے چلے جائیں گے، دھیرے دھیرے ہمارا دل خوف خدا سے خالی ہوتا جائے گا ۔

آج مسلم معاشرہ جس بحران کا شکار ہے چاہے عالمی سطح پر ہماری زبوں حالی کے قصے ہوں یا ہمارے معاشرہ میں پیدا ہو رہی مختلف قسم کی برائیوں کی کہانیاں، ہر جگہ خود احتسابی کا فقدان اہم کردار کی شکل میں موجود ہے، خاص طور سے ہماری نئی نسل اس ضروری اور اہم صفت سے مکمل طور پر عاری نظر آتی ہے، اسلامی علوم سے ناواقفیت والدین کی بے توجہی یا یوں کہہ لیں کہ والدین کی دنیا پرستی، جدید نصاب تعلیم جو صرف اور صرف مادیت پرستی سے عبارت ہے، موبائل و انٹرنیٹ کے غلط اور مجرمانہ استعمال، اس سب نے ملکر ایک ایسا ماحول پیدا کردیا ہے، جس میں سانس لینے والی ہماری یہ نئی نسل صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں، نام نہاد شخصی آزادی نے انہیں ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد کردیا ہے، دنیا اور اس کی لذتوں میں یہ اتنا غرق ہو چکے ہیں کہ انہیں کبھی بھی بھولے سے بھی خیال نہیں آتا کہ مرنے کے بعد اوپر بھی جانا ہے اور اپنے اعمال کا جواب بھی دینا ہے اور ظاہر ہے نوجوان نسل جن کے دم پر امت کا تحفظ و تقدم قائم ہے، اگر وہی قدر بے راہ رو ہو جائیں تو پھر ہمیں اپنی امت کے لیے ہر آفت و مصیبت اور ہر تخلف و پسماند گی کے لیے تیار رہنا چاہئے۔

ایک وہ لوگ تھے، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا معزز لقب پا لینے اور دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری پالینے کے باوجود بھی دن رات خوف الہی سے کانپتے رہتے تھے، قبر اور جہنم کے عذاب کا خیال ان کی راتوں کی نیند اڑادیتا تھا، نادانی اور بے خیالی میں سرزد ہو چکے گناہوں کی فکر میں اتنے آنسو جاری ہوتے ، رات بھر رب العالمین کے حضور میں سجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کیا کرتے، اور خود ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو سید الانبیآء ہیں، رات رات بھر نمازوں میں کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سوج جایا کرتے تھے۔

قارئین و قارئات!
تو آئیے ہم آج سے عہد کریں کہ خود احتسابی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ہم روزانہ اپنے باطن کی ایک سیلفی لیں گے اس سیلفی کو ہم اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش کریں گے، اور اندازہ کریں گے کہ آج پورے دن ہم کتنی غلطیاں کیں، کتنے لوگوں کا دل دکھایا کتنی نمازیں قضا کیں، کتنے جھوٹ بولے اور کتنے اچھے کام کیے پھر اس سیلفی کے حساب سے ہم اپنے آنے والے دن کا لائحہ عمل تیار کریں گے، اس طرح ہر روز اپنی سیلفی کی پیشی اپنے ضمیر کی عدالت میں کرتے کرتے ہم اپنے اعمال کو بہت حد تک درست کرلیں گے، اور قیامت کے روز جب ہم سب کو حساب کے لیے اٹھایا جائے گا اور رب دو جہاں کے سامنے ہمارے باطن کی سیلفی پیش کی جائے گی تب ہم سرخ رو ہو سکیں گے۔

– ڈاکٹر مشاہد رضوی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *