آسانیاں اور خدمت خلق

آسانیاں اور خدمت خلق
تحر یر : عبدالجبار خان دریشک
اس دنیا میں جو بھی انسان پیدا ہو تا ہے وہ اپنا رزق او ر نصیب لے کر ہی پیدا ہو تا ہے ایک بچہ پیدائش کے دن سے اپنے ہاتھو ں اور پاؤں کو حرکت دیتا ہے سر اور گردن کو موڑنے کی کوشش کر تا ہے آنکھوں کو پھیر کر نظر کو دوڑتا ہے ان تمام اموارکی انجام دہائی اس کے فطری عمل میں شا مل ہیں اور یہ فطری عمل اس کی زندگی کے ابتدائی ایام سے شروع ہوتے ہیں دن ہفتے مہینے اور سال گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا جسم بھی بڑھتا رہتا ہے اور اس فطری عمل میں مزید تیزی آجا تی ہے پھر وہ اپنے رزق اور نصیب کو تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے کبھی نصیب اور زرق اس کے پاس چل کرآتا ہے تو کبھی کبھی وہ اس کو تلاش کرتے کرتے اس تک پہنچ جاتا ہے اور ایسا بھی نہیں جو لوگ چل پھر نہیں سکتے دیکھ اور سن نہیں سکتے ان کورزق نہیں ملتا ہے بس یہ سب دنیا وی مایوسی والی با تیں ہیں اللہ پا ک نے کسی کو جس حال اور حالت میں پیدا کیا ہے اس پیدا کر نے والے نے انسان کی تما م تر ضروریات کی ذمہ داری بھی لی ہے ہم اکثر ایسے پر یشان ہو جا تے ہیں کہ اللہ نہ کرے میر ا ہا تھ نہ ہو تا میر ی ٹا نگیں نہ ہو تی میری آنکھوں کی بینا ئی نہ ہو تی تو میر ا کیا ہو تا یہ بھی اللہ پاک کا شکر ہے کہ ہم میں سے اکثریت صیح حالت میں ہیں اور اللہ پاک کی دی ہو ئی نعمتوں کے شکر گزار ہیں ایک انسان جب پیدائشی طور پر معذور پیداہو تا ہے تووہ بھی اس دنیا میں اپنی زندگی کے دن پور ے کر جا تا ہے وہ بھی بچپن سے جو انی اور بڑھاپے کی طرف جا تا ہے اور ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان پیدائشی طور پر تو ٹھیک پیدا ہوتا ہے پر کسی حادثے اور بیماری کی وجہ سے معذور ہو جاتا ہے تو وہ بھی اپنی زندگی کے دن پورے کر جتا ہے ایسے افراد جو بعد میں کسی بیماری کی وجہ معذوری کا شکار ہو تے ہیں تو وہ زندگی سے بہت ما یو س ہو تے ہیں ان کا جینے کو من ہی نہیں کر تا پر کیا کریں سب کچھ اللہ پاک کے اختیار میں ہے اگر دنیا میں ایسے افراد کو کوئی سہارا مل جائے جو ان کو جینے کی امید دے تو ان کی مایوسی دم توڑ جا تی ہے اور ان میں جینے کی خواہش پیدا ہو تی ہے پولیو جیسے مہلک مرض کی وجہ سے اس دنیا میں نہ جانے کتنے بچے ہرسال جسمانی طور پر معذور ہو جاتے ہیں جو ساری زندگی کے لئے چلنے پھر نے سے عاجز ہو جا تے ہیں پاکستان میں آج سے پندرہ بیس سال پہلے اس بیماری کی وجہ سے بہت سارے مصوم بچے مستقل معذوری میں چلے گئے محمد شکیل جو کہ میرے قصبے کوٹلہ نصیر راجن پور کا رہا ئشی ہے آج سے انیس سال پہلے پولیو نے محمدشکیل کو لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے اس کی دونوں ٹانگین سوکھ گئیں محمد شکیل کے والد ین کے لئے یہ بات بہت تکلف دے دی کہ ان یہ بیٹا چلنے پھرنے سے عاجز ہو گیا ہے محمد شکیل آٹھ بہن بھا ئیوں میں سے چوتھے نمبر پر ہے یہ بھی عام انسانوں کی طرح چلنا پھر نا چا ہتا تھا دوسرے بچوں کو دوڑتا بھا گتا دیکھتا تو اس کا بھی دل کرتا میں بھی ان بچوں کی طر ح کھیلوں کودوں پر اس کی یہ خواہش اس وقت دم توڑ دیتی ججب وہ اٹھنے کی کو شش کرتا تو اس کا نیچے کا دھڑ اس کا ساتھ نہ دیتا وہ اپنے جسم کو ہاتھوں اور بازوں کی مد د سے گھسیٹ گھسیٹ کر گھرکے دروازے تک لے جاتا وہ باہر کی دنیاکو دیکھنا چا ہتا پروہ دروازے میں گھنٹوں بیٹھ کر گلی میں کھیلنے والے بچوں اور آنے جا نے وا لوں کو دیکھتا رہتا وہ آہستہ آہستہ بڑا ہو تا گیا اس کی گھر سے باہر جا نے کی خواہش اور زیادہ بڑھتی رہی وہ گھر کے دورازے کو پار کرنے میں کامیاب ہو ا تو محلے قریب گلیوں کو ملانے والے چوک میں بیٹھ کر دنیا کو اور دنیا والوں کو دیکھتا رہتا کبھی کسی بچوں کا دل کر تا تو اس کے پاس آکر کھیلتے باتیں کر تے نہیں تو اکثر محمد شکیل اس ما حول کو دیکھتا رہتا جب صبح بچوں کے سکول جانے کا وقت ہوتا تو وہ اپنے جسم کو گھسیٹ کر باہر لے آتا وہ بھی سکول جانا چاہتا تھا پر ایسی خواہش اس کا جسم پوری نہ ہو نے دیتا اس کی روح تو اس کا ساتھ دیتی پر وہ جسمانی معذوری وجہ سے روح کی خواہش کا گلہ دبااوراس کی آنکھوں سے اس محرومی کے آنسوں جھلک پڑتے تو وہ اداس ہو کر فوراً گھر کو لو ٹتا اور تنہا ئی میں گھنٹوں روتا اور بس آسمان کو دیکھتا پر یہ سب کچھ اس کے اپنے بس میں نہ تھا وہ خود کو تسلی دیتا اور خود ہی رونا بند کر دیتا ایسے کرتے کر تے اس کی زندگی کے پندرہ سال پورے ہو گئے وہ ہر روز صبح شام اس محلے کے چوک پر آتا اور چلا جاتا وہ کبھی کسی سے سوال نہ کرتا اس کی غربت جوبھی تھی اس کی معذوری جیسی بھی تھی لیکن محمد شکیل خودار انسان ہے اس نے کبھی کسی کے آگے اپنا ہاتھ نہ لے گیا پر اس دنیا کی گہماگہمی میں غرق انسانوں سے اپنی مصوم نظر وں سے سوال ضرور کرتا کہ میں تم سے کچھ مانگتا نہیں ہوں پر کبھی کسی نے میرے ساتھ بات چیت اور حال حوال تک نہ کیا وہ جب عید پر لوگوں کو ایک دوسرے کو ملتا دیکھتا لوگ ایک دوسرے سے عید ملتے ہیں گپ شپ لگا تے ہیں لیکن عید پر لوگ بڑے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے ڈیروں پر گھنٹوں انتظار کرتے پر محمد شکیل کو کوئی عید ملنے تک نہ آتے اس دنیا میں جہاں خود غرض ظالم اور بے حس لو گ ہیں وہا ں انسانیت کا درد رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں محمد شکیل جس محلے کے نکر پر بیٹھ کر ہر گزرنے والے سے اپنی آنکھوں سے سوال کر تاتھا پر آندھا سماج اسے نظر انداز کر کے چلا جاتا تو اسی قصبے میں درزی کا کام کرنے والا ٹیلر ماسٹر حبیب اللہ بھی روزانہ اسی راستے سے گزر کر اپنی دوکان پر جاتاتھا حبیب اللہ نے ایک دن محمد شکیل کے پا س اپنی موٹر سائیکل روکی محمد شکیل کو مو ٹر سائیکل پر بیٹھایا اور اپنی درزی کی دوکان پر لے گیا حبیب اللہ ہر روز محلے کی اس نکر سے محمد شکیل کو اٹھاتا اور اپنی دوکان پر لے جاتا اور جب دوکان بند کر کے گھر جاتا تو محمد شکیل کو اسی نکر پر چھوڑ جاتا حبیب اللہ مسلسل چار سال سے ایسا کر رہا ہے حبیب اللہ نے مسلسل محنت کر کے دو سال کے اندر محمد شکیل کو کاریگر بنا دیا اب محمد شکیل بطور کاریگر حبیب اللہ ٹیلر ماسٹر کے پا س کا م کر تا ہے آج محمد شکیل کے گھر والے اس سے بہت خوش ہیں جو کبھی اس کے مستقبل کی وجہ سے پر یشان تھے اب اس کے ہاتھ میں ہنر ہے وہ ہنر مند بن گیا ہے دوکان پر آنے کام کرنے کی وجہ سے محمد شکیل کے کا فی سارے دوست یار بن گئے ہیں وہ چھٹی کے دن دوستوں یاروں کے ساتھ گھومنے بھی جاتا ہے کبھی کبھی ان کے ساتھ کرکٹ اور والی بال بھی کھلتا ہے ٹیلر ماسٹر حبیب اللہ اس کا خیا ل اپنے بچوں کی طر ح کر تا ہے اس کو کسی جگہ جانا ہو یا پھرگھر جانا ہو حبیب اللہ اس کی مد د کر تا ہے المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کوبوجھ تصور کیا جاتا ہے معاشرے کے علاوہ گھر کے افراد ان سے نظر یں چوراتے ہیں پھر کسی کندھے کا سہار ا نہ ہو نے کی وجہ سے ایسے افراد دربدر کی ٹھوکر یں کھاتے ہیں یا تو با حالت مجبوری یہ لو گوں کے آگے ہاتھ پھیلتے ہیں یا پھر مافیا ان کا فا ئدہ اٹھا تے ہو ئے ان سے بھیک منگواتے ہیں معاشرے کا رونا تو اپنی جگہ محمد شکیل تو اپنی شناخت کے لئے شناختی کارڈ کے دفتر جب گیا تو وہاں سے اس کو جواب ملا کہ آپ میڈیکل بنوا کر آئیں کہ آپ معذور ہیں یا نہیں افسوس صد افسوس جس کے معذورہو نے احساس کسی آندھے کو بھی ہو سکتا ہے اس کو ہسپتا ل اور ڈاکٹر وں کے پاس دھکے کھانے کے لئے روانہ کر دیا اگر معاشرہ مہذب ہوتا اور کو ئی تر قی یا فتہ ملک ہو تا اول تو اس سے ایسا سوال ہی نہ کیا جاتا اگر ضرورت پڑتی تو ڈاکٹر خود چل کر اس کا معائنہ کر نے چلا آتا پرہڑتالوں کے بعد ڈاکٹر وں سے بھی انسانیت دور بھا گگئی ہے ہمارے اردگرد ایسے بہت سارے شکیل ہو نگے پر وہ ہمیں نظر نہیں آتے ہیں ہمیں اپنی نظر سے نہیں ٹیلر ماسٹر حبیب اللہ کی نظر سے معاشرے کو دیکھنا ہو گاہمیں بھی محمد شکیل کو اتنا ہی پیار محبت دنیا ہو گا جس کا وہ حقدار ہے ہمیں بھی تھوڑی ہمت اور حو صلہ کر نا ہو گا جیسے حبیب اللہ نے محمد شکیل کے لئے آسانی پیدا کی ہمیں بھی محمد شکیل کے لئے کو ئی آسانی پیدا کر نی ہو گی اللہ پاک آسانیاں پیدا کر نے اور آسانیاں بانٹنے کا حکم دیتا ہے میر ے خیال میں محمد شکیل اور اس یسے افراد کے ساتھ کی جا نے وا لی آسانی بڑے اجر والی ہو گی اللہ پاک ہم سب پر رحم فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *