نقطہ نظر

آج کی منتقم عورت

تحریر: صبیحہ گیلانی ۔ بورے والا آج کی منتقم عورت! زندگی کی دوڑ میں بے شمار مسائل نے انسان کو تھکا دیاہے۔جنت کے مزے لوٹنے والا سزا یافتہ انسان آ ج بھی ان گزرے شب و روز کو تلاش کرتا ہے اب جن کا حصول موت کے بعد کی زندگی تک موخر ہے۔دلچسپ بات یہ

سبز پاسپورٹ اس درجہ بے توقیر کیوں

سبز پاسپورٹ اس درجہ بے توقیر کیوں? تحریر:۔ مبشر ڈاہر الریاض سعودی عریبیہ پاسپورٹ کی درجہ بندی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ”گلوبل پاسپورٹ پاور رینک” نے 2017ء کی درجہ بندی کی لسٹ شائع کی جس کے مطابق کل ایک سو ننانوے ملکوں کی فہرست میں پاکستانی پاسپورٹ بد ترین کارکردگی کے ساتھ ایک سو

ایک متنازعہ ٹویٹ اور غیر اہم مدعے کا فطری انجام

کالم نگار۔۔۔۔۔۔۔عماد ظفر ڈان لیکس یا نیوز گیٹ کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے سول ملٹری قیادت میں کشیدگی پھیلانے اور افواہوں کا بازار گرم کرنے کے بعد بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا. ڈان لیکس کے بارے میں وزیراعظم پاکستان کے نوٹیفیکیشن کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے متناشرین

آسانیاں اور خدمت خلق

آسانیاں اور خدمت خلق تحر یر : عبدالجبار خان دریشک اس دنیا میں جو بھی انسان پیدا ہو تا ہے وہ اپنا رزق او ر نصیب لے کر ہی پیدا ہو تا ہے ایک بچہ پیدائش کے دن سے اپنے ہاتھو ں اور پاؤں کو حرکت دیتا ہے سر اور گردن کو موڑنے کی کوشش

ڈان لیکس

وطن عزیز میں دراصل طاقت کا اور فیصلوں کا اختیار کس ادارے یا کن ہاتھوں میں ہے یہ حقیقت دراصل ہر زی شعور شخص جانتا ہے . روز اول سے آج تک سویلین حکومتیں عوامی مینڈیٹ سے زیادہ دفاعی ایسٹیبلیـشمنٹ کے مینڈیٹ کی مرہون منت رہیں ہیں. کہنے کو تو آئین کی رو سے جمہوری

فرزانہ ادبی میلے میں گم ہو گئی

عفت حسن رضوی وہ نوجوان وہ خوش لباس، خوب صورت اور اجلی آنکھوں والی فرزانہ، وہ بات بات پر کھلکھلانے والی وہ اونچے اونچے خیالوں کی پروازوں کو اپنے الفاظوں میں قید کرنے والی فرزانہ خود ادبی میلے میں گم ہوگئی ہے۔ کل یعنی پیر کے روز اسلام آباد کے قدرتی پارک شکر پڑیاں میں

’کتابِ تنہائی‘‘

(تحریر ۔۔۔۔۔۔ نسیم خان سیما( فیصل آباد   یشب تمنا کی’’کتابِ تنہائی‘‘پر ایک محتاط مضمون بعض قدیم اُستاد شعرا کی وجہ سے شعرا کو آوارہ مزاج اور غیر سنجیدہ سمجھا جانے لگا تھا۔ بعد ازاں علامہ اقبال جیسے شاعر کے سبب اس تصور میں خاصی کمی واقع ہو ئی ۔ پھر بھی فلموں اور ٹی

ظفر عمران کے قلم سے

یہ پاکستان ہے جہاں میں پیدا ہوا؛ یہیں پڑھا، یہیں کھیلا کودا؛ یہیں میرے چاہنے والے ہیں؛ یہیں وہ ہیں جنھیں میں چاہتا ہوں۔ جب تک میری اولاد نہ ہوئی، مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ ملک کتنا خطرناک ہے۔ گیارہ ستم بر کے بعد دُنیا ہی نہیں بدلی، پاکستانی معاشرے کی رہی سہی

پیرکا مزار، رنڈی کا کوٹھا اور صاحب کرامات

کالم نگار ۔۔۔ فرنود عالم سرگودھا میں ایک مزار کے گدی نشین پیر وحید سے وظیفے میں کچھ بے حسابی ہوگئی۔ نتیجہ یہ کہ بیس معصوم مریدوں کو لامکان پہنچا دیا۔ بیس مائیں، کئی بہن بھائی اور بچے بے سہارا ہوگئے۔ مریدین میں کچھ وہ بھی ہیں جن پر پیر کے اوراد و وظائف نے

پرائیویٹ سکولوں کی من مانیاں اور والدین

  صحیح کہا تھا کسی نے کہ پرائیویٹ سکولز کا بزنس ہوتے ہوئے بھی پتا نہیں لوگ ہیروئین کیوں بیچتے ہیں ، اب تو والدین کو بچے کا سال مکمل ہونے اور پوزیشن لینے سے بھی خوف آتا ہے ، سال گزرتے ہی ایسا لگتا ہے کہ اگلی کلاس میں وہ نہیں گیا بلکہ نئے

جینے کے طریقے ۔۔۔ ڈاکٹر سید رضوان شاہ گیلانی

دنیا میں جینے کیلیئے تین طریقے ہیں۔ پہلا جسمانی تقاضوں کے مطابق جینا۔ اسے مادیت پرستی کہا جاتا ہے۔۔ دوسرا طریقہ صرف اپنی اگلی زندگی کو مدنظر رکھ کر روح کی بقا اور نجات اخروی کا راہبانہ طریقہ ہے۔ اس میں خود کو یعنی جسم کو تکالیف اور ازیت دی جاتی تھی۔۔۔ خواہشات کو دبا

تو کیا اللہ نے آج ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟

ہم پاکستانی نہایت بزدل ، بھٹکے ہوے  انسان ہیں ہمارے اعمال کی وجہ سے ہم پر ایسے حکمران غالب ہیں  جو ہم کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں ان کی نظر میں عام آدمی کی حثیت کیا ہے آج میں بتاتا یوں اور آپ نے بھی  فیصلہ کرنا ہے کہ ان کی اہمیت کیا ہے ۔

فلمی ہیرو اور سیاست دان

  بچپن میں ایک فلم دیکھی تھی مولا جٹ ۔۔ یقیناً آپ نے میں دیکھی ہو گی فلم میں ہمارے پنجابی کلچر کے ساتھ بدمعاشی کو بھی پرموٹ کیا گیا تھا ان دنوں گاوٴں کا ایک بدمعاش ہوا کرتا تھا جس سے علاقے کے سیکیوریٹی ادارے بھی ڈرتے تھےمطلب اس وقت بدمعاش عام عوام میں