مختصر کہانیاں

سیاہ چہرہ

عنوان: سیاہ چہرہ تحریر: معصومہ ارشاد سولنگی سندھ یونیورسٹی، پاکستان “سیاہ چہرہ” اس کی سیاہ رنگت سے آئمہ کو ہمیشہ سے ہی چڑ تھی۔ اوپر سے جب وہ گھر سے نکلتی تو ایک بڑی سی چادر میں خود کو ڈھانپ لیاکرتی تھی جو کے آئمہ کو اور بھی عجیب لگتا تھا “ایسے صورت پر نقاب

خوابوں کی ادلا بدلی ۔۔۔

معصومہ ارشاد سولنگی خوابوں کی ادلا بدلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ دنوں سے کافی پریشان تھی، روز روز خود سے الجھ کر وہ بہت تنگ آچکی تھی۔ آج اس نے گویا یہ طے کر لیا تھا کے وہ اب اس جنگ کو اختتام پذیر کر کے ہی چھوڑے گی ۔اس نے اپنی ساری ہمت کو یکجا

میں اور مولانا

عنوان ۔۔۔۔۔میں اور مولانا تحریر۔۔۔۔احمر اکبر کل ظہر کی نماز کے بعد مولانا صاحب مسجد میں ہی موجود تھے میں بھی سنتوں سے فارغ ہوا تو مولوی صاحب کے پاس جا کر بیٹھ گیا نمازیوں کی تعداد کم ہوتی گئی میں نے مولوی صاحب سے پوچھا ۔حضور گرمی بہت ہے اور آج کل کے روزوں

ٹپکے کا ڈر

تحریر : معصومہ ارشاد سولنگی :::::::::::::::::::::::ٹپکے کا ڈر::::::::::::::::::::::: ” ایسا کرنے سے بہت سی زندگیاں برباد ہوجائیں گی شان!اور بدنامی ہوگی سو الگ۔۔۔” اک ان دیکھا ڈر تھا جو مسلسل اسے شان کی بات ماننے سے روک رہا تھا “اوہو دل! کچھ نہیں ہوتا۔ لوگوں کا تو کام ہی ہے باتیں بنانا، دو چار روز

رمضان مبارک

رمضان مبارک ہو ۔ سیٹھ صاحب کو موبائل پر میسج آیا اور سیٹھ صاحب نے اللہ کا شکر ادا کیا کیونکہ ان کی دس آٹے کی فیکٹریاں ہیں جن میں ناقص ترین گندم اور آٹا سٹاک ہو چکا تھا اب وہ رمضان بازار میں ہاتھوں ہاتھ بک جاے گا ۔۔۔۔ اللہ تیرا شکر ہے ۔تیرا

بادام کے پھول

  تحریر : سلمیٰ جیلانی :::::::::::::::::::::: بادام کے پھول :::::::::::::::::::: بادام کے درختوں پر بور آ رہا تھا پورا علاقہ پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا …… بہار کی آمد آمد تھی …. ہر طرف کیف و انبساط کی فضاء طاری تھی….. اچانک کہیں سے تیز بو کے جھونکے نے ساری ہوا مسموم کر

مجنون

تحریر : محمد زبیر مظہر پنوار :::::::::::::::::::::::::::مجنون::::::::::::::::::::::::::: نماز عصر کی جماعت کے بعد حسب معمول مولانہ صاحب کا واعظ شروع ہوا” شروع خدا کے بابرکت نام سے جو بڑا ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔۔ اور جسکے قبضہ قدرت میں ہم نمازیوں کی کیا ساری کائنات کی مخلوقات کی جانیں ہیں ۔۔ وہ

معمول

  تحریر : جاوید انور :::::::::::::::::::::::::: معمول :::::::::::::::::::::::: آفتاب شہر ہی نہیں ملک کا سب سے بڑا نیورو سرجن تھا ۔ اس کے علم اور تجربہ نے اسے بے مثل بنا دیا تھا ۔ زندگی بھر کی محنت سے حاصل شدہ اہمیت اور افادیت سے بھرپور مالی فائدہ اٹھانا وہ اپنا حق سمجھتا تھا۔ وارڈ

برسات

  مائکرو فکشن نصرت اعوان / کراچی “برسات” شام کا وقت تھا، آسمان پر گہرے سرمئی بادل چھائے ہوئے تھے ..ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ..اس وقت پورا ماحول مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو میں ڈوبا ہوا تھا … چہرہ آسمان کی طرف کئے، فضا میں خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے… آنکھیں بند کر

دسترس ۔ محبت۔

  تحریر :معصومہ ارشاد سولنگی ۔۔۔۔۔۔میہڑ۔۔۔۔سندھ۔۔۔۔پاکستان ۔۔۔۔۔دسترس – محبت۔۔۔۔۔۔۔۔ “اوہ کم آن ہما !!! میں نہیں مانتی محبت وحبت کی باتیں۔محبت سوائے وقت کے زیاں کے اور کچھ نہیں۔…..جب حقیقت کی ہوا ذرا تیز ہوتی ہے تو آس و امید کےسارے دیئے رنج و الم کے آندھیوں کی زد میں آجاتے ہیں” ایسے کچھ خیال

استعارہ

انہماک کے رومانی مائکرو فکشن  تحریر : ارشد علی ارشد۔۔۔۔۔۔چھچھ اٹک ۔۔۔۔۔۔استعارہ۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر اشفاق احمد ،،،،،،،،، پہلو کا دکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مختصر کہانیاں

پہلُو کا دکھ جنازہ کے پیچھے پیچھے جانے والے لوگوں کو حیرت تھی کہ شریک حیات کا انتقال ہو جانے پر بھی اسکی آنکھوں سے آنسو نہیں نکلے بھیڑ میں کسی نے سر گوشی کی ہو سکتا ہے اس سانحہ پر اُسے کوئی غم ہی نہ ہوا ہو لیکن شاید لوگوں کو اس کا علم

مائیکروف ,,,,,,,, خدمت گار ,,,,,,,, ڈاکٹر اشفاق احمد

خدمت گار بس اپنا توازن کھو چکی تھی چالیس مسافر جان بحق ہو چکے تھے بس کھائی میں گرتے ہی خدمت گار وہاں پہنچ گئے زندگی اور موت کے بیچ سانسیں گن رہے جسموں سے بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ لیکن خدمت گار انھیں بچانے کی بجائے وہ ان مردہ عورتوں کو اپنے