شاعری

عید بن بابل کے

نظم عید بن بابل کے عیدیں بھلا اب وہ عیدیں کہاں رہی ملکے مناتے تھے جو ہنسی خوشی عید توبن کے رہ گیا اب صرف اک تہوار ہے کے چھن گیا ہم سے بابل جیسی ہستی کا پیار ہے عیدیں تو وہ تھیں جن میں ساتھ سایہ تھا شفقت کا جیون کا لمحہ لمحہ ہوتا

شہزاد شاکر کے قلم سے

نظم ” کرلاٹ شاعر ….. شہزاد شاکر ……………………… رات ہنیری گلاں کردی چھت اُتے اسماناں تھلے وصل بنیرے بُلھاں اُتے ہاسے لا کے آکھاں دے وچ اکھاں پا کے مینوں اوہو ویکھی جاوے دل پرچاوے سامنے بہہ کے نظر نہ آوے نما نما ہسی جاوے تارے چمکاں ماری جاون تکی جاون مینوں ساڑن میں فر

میں لکھنا چھوڑ دیتا ہوں

میں لکھنا چھوڑ دیتا ہوں ……………………………………………………… احمر اکبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی دھن میں جینے والو مستی ختم ہوئی تو سن لو بم گراے جائیں گے اب درد سلگاے جائیں گے اب شامی ہوں یا افغانی افسوس سے آگے کب نکلو گے اپنی باری دور نہیں اب تیرے پاس ہے،، وقت قلیل اور اب تو ، سوچنے

،،،،،مردوں کے قدر دان،،،،،

،،،،’مردوں کے قدر دان ،،،،، شاعر……. غریب شاعر بھوکے رہ کر لکھنا اور مسلسل لکھنا دل کی بھڑاس سے ، کاغذ پر آگ لگانا سوچوں کی وادی میں گم رہنا لاحاصل ہو کر بھی جئے جانا یہ ہوتا ہے شاعر ہاں نا،،،،،،بھوکا ہوتا ہے داد اور تعریف کا بھوکا ،پیار کا بھوکا وہ دولت کا

کتابیں

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سےبڑی حسرت سے تکتی ہیں مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں، اب اکثر گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر بڑی بے چین رہتی ہیں انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے بڑی حسرت سے تکتی ہیں

وارث شاہ کا کلام

*وارث شاہ کے کلام سے…* *میں چار جماعتاں کی پڑھیاں؟* *میں فتوے لاواں ہر اک تے،* کدی بے عملاں تے، کدی بے عقلاں تے، کدی شاعری تے، کدی گاؤن تے، کدی ہسن تے کدی روون تے *میں فتوے لاواں ہر اک تے،* *میں آپ مسیتی جاواں ناں!* جئے جاواں مَن ٹکاواں ناں میں فتوے لاواں

چراغِ مردہ سے امیدِ انقلاب نہیں

کھلا ہے شمس کہ اس پر کوئی نقاب نہیں حقیقتوں کا ہے منظر کوئی سراب نہیں ہمارے دن میں اندھرا ہے آفتاب نہیں ہماری شام کے حق میں بھی ماہتاب نہیں یہ سیدھا سادھا سا فطرت کا اک تقاضا ہے جہاں پہ خارنہیں ہیں وہاں گلاب نہیں میری نگاہوں سے اوجھل کرو چراغوں کو کہ

وطن کاگیت

اے پیارے وطن تیری ہرچیزپیاری ہے دیکھوجشن آزادی کی ہرگھرمیں تیاری ہے پرچم کاسماں آیا جھنڈیوں کی بہارآئی پرچم لہراتے ہیں خواہ گھرہویاگاڑی ہے جب ماہِ اگست آئے فورٹی سیون(1947)پلٹ آئے بدلہ خون شہیدوں کا یہ دھرتی ساری ہے ہرفردپہ لازم ہے احترام آزادی کا جس کی خاطرلاکھوں نے جان اپنی واری ہے سب شکربجالاؤ

اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے

کبھی غرور پہ ہم اعتراف کر بیٹھے محبتوں سے کبھی اختلاف کر بیٹھے کبھی دھنک کے بدن پر لحاف کر بیٹھے کبھی مہک کی روش پر غلاف کر بیٹھے ہمارے چہرے پڑھے انکشاف کر بیٹھے اُن آئینوں کی خرد پر شگاف کر بیٹھے یہ خاکِ جسم کریدا تو دل ملا آخر اُسے بھی خاک میں

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا وہ شخص مگر وعدہ وفا بھی نہیں کرتا دریا کے کناروں کی طرح ساتھ ہے میرے ملتا وہ نہیں ہے تو جدا بھی نہیں کرتا آئینے وہ احساس کے سب توڑ چکا ہے کس حال میں ہوں میں یہ پتہ بھی نہیں کرتا پوجا ہے تجھے جیسے

مجھے خط ملا ہے غنیم کا

مجھے خط ملا ہے غنیم کا بڑی عجلتوں میں، لکھا ہوا کہیں۔۔ رنجشوں کی کہانیاں کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ مجھے کہہ دیا ہے امیر نے کرو۔۔۔۔حسنِ یار کا تذکرہ تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن کہو۔۔۔۔ حاکموں کو برا بھلا تمہیں۔۔۔۔ فکر عمر عزیز ہے تو نہ حاکموں کو خفا کرو جو امیرِ