گوشہ ادب

نمکین چاے

نمکین چائے تحریر۔ شہزاد حنیف سجاول آج اتوار ہے اور میں گھر کی دوسری منزل پر ٹیرس میں بیٹھا سامنے وادی میں بادلوں کی آنکھ مچولی دیکھ رہا ہوں۔ بارش ابھی ابھی رکی ہے چھت کے کھپریلوں سے بارش کا پانی بوند بوند ٹپک رہا ہے فضا میں ایک رومانوی غنائیت رچی ہوئی ہے میں

چندرا

چندرا پرانے کنویں کی منڈھیر پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو ایک ٹھنڈا ٹھار اندھیرا اس کی تہہ میں ٹھہرا ہوا ہے جس نے اس کے ظاہر پر باطن کا پردہ ڈال رکھا ہے اس گھپ اندھیرے میں نظریں گم سی ہو جاتی ہیں تو انسان کو اپنی بینائی کے کھو جانے کا اندیشہ ہونے

فرشتہ صفت پادری اور شیطان عورت کی کہانی

بہت پہلے ایک انگریز ناول کا ترجمہ پڑھا تھا۔ ایک نوجوان پادری اپنے والد کا منتظر ہے، جو کبھی خزانے کی تلاش میں نکلا تھا، تا کہ خزانے کو مسیحی مذہب کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ باپ نے وصیت کی تھی کہ وہ متعین وقت تک نہ لوٹا، تو بیٹے پر فرض

کھوکھلا وجود

  تحریر : معصومہ ارشاد سولنگی “کھوکھلا وجود ” “تم نے آخر ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟” یہ ایک جملہ اب تک اس کی سماعتوں میں گونج رہا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ایک سوال تھا یا کوئی ہتھوڑا جو اس کے دل و دماغ پر برس رہا تھا۔ وہ

کفن چور

سید میثاق علی جعفری / اسلام آباد …….کفن چور ……. اسے قبرستان میں کام کرتے چالیس سال ہو گئے تھے. اس شہر ِ خموشاں کی آبادی ملک کی آبادی کے ساتھ ساتھ دن بہ دن بڑ رہی تھی اسے مُردے ورثا کے ناموں کے حوالے سے یاد تھے… قبر کے سرکاری نرخ بڑھے مردےکے3500 روپے

میں جناح کا وارث ہوں

  کتاب:میں جناح کا وارث ہوں تبصرہ :معصومہ ارشاد رحیم سولنگی تو لاکھ چھین مجھ سے ہنسی میں پھر بھی مسکرائوں گا۔۔ اندھیروں سے نکل کر میں سورج بن کر جگمگائوں گا ہاتھوں میں پڑے ہیں چھالے پر دل میرا ہے موم کا کہ میں وارث ہوں معصومہ قائد کی اس قوم کا۔۔۔۔۔ ” میں

قصہ بابا جی کا

عنوان : قصہ بابا جی کا تحریر : تاج رحیم یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ میں اسی سال کا ہوں تو بوڑھا ہو گیا ۔ آپ میدانی علاقے کے رہنے والے لوگ اس عمر میں بوڑھے ہو جاتے ہیں ۔ ہم پہاڑوں کے باسی تو اس عمر میں پہنچ کر جوانی سے لطف اندوز ہوتے

عید بن بابل کے

نظم عید بن بابل کے عیدیں بھلا اب وہ عیدیں کہاں رہی ملکے مناتے تھے جو ہنسی خوشی عید توبن کے رہ گیا اب صرف اک تہوار ہے کے چھن گیا ہم سے بابل جیسی ہستی کا پیار ہے عیدیں تو وہ تھیں جن میں ساتھ سایہ تھا شفقت کا جیون کا لمحہ لمحہ ہوتا

سیاہ چہرہ

عنوان: سیاہ چہرہ تحریر: معصومہ ارشاد سولنگی سندھ یونیورسٹی، پاکستان “سیاہ چہرہ” اس کی سیاہ رنگت سے آئمہ کو ہمیشہ سے ہی چڑ تھی۔ اوپر سے جب وہ گھر سے نکلتی تو ایک بڑی سی چادر میں خود کو ڈھانپ لیاکرتی تھی جو کے آئمہ کو اور بھی عجیب لگتا تھا “ایسے صورت پر نقاب

خوابوں کی ادلا بدلی ۔۔۔

معصومہ ارشاد سولنگی خوابوں کی ادلا بدلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ دنوں سے کافی پریشان تھی، روز روز خود سے الجھ کر وہ بہت تنگ آچکی تھی۔ آج اس نے گویا یہ طے کر لیا تھا کے وہ اب اس جنگ کو اختتام پذیر کر کے ہی چھوڑے گی ۔اس نے اپنی ساری ہمت کو یکجا

میں اور مولانا

عنوان ۔۔۔۔۔میں اور مولانا تحریر۔۔۔۔احمر اکبر کل ظہر کی نماز کے بعد مولانا صاحب مسجد میں ہی موجود تھے میں بھی سنتوں سے فارغ ہوا تو مولوی صاحب کے پاس جا کر بیٹھ گیا نمازیوں کی تعداد کم ہوتی گئی میں نے مولوی صاحب سے پوچھا ۔حضور گرمی بہت ہے اور آج کل کے روزوں

افسانے محبت کے

افسانے محبت کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ افسانہ نگار: معظم شاہ اٹک ۔ پنجاب ۔ پاکستان افسانہ: تیرے نال جدوں ، یاریاں لایاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اچھی بھلی “مردہ زندگی” گزار رہا تھا کہ اسے عشق نے آن گھیرا ۔عشق بھی ایسا جو سر چڑھ جائے تو جان لے کر ہی ٹلتا ہے ۔ میں تو محبت کی قائل

ٹپکے کا ڈر

تحریر : معصومہ ارشاد سولنگی :::::::::::::::::::::::ٹپکے کا ڈر::::::::::::::::::::::: ” ایسا کرنے سے بہت سی زندگیاں برباد ہوجائیں گی شان!اور بدنامی ہوگی سو الگ۔۔۔” اک ان دیکھا ڈر تھا جو مسلسل اسے شان کی بات ماننے سے روک رہا تھا “اوہو دل! کچھ نہیں ہوتا۔ لوگوں کا تو کام ہی ہے باتیں بنانا، دو چار روز