گوشہ ادب

کھوکھلا وجود

  تحریر : معصومہ ارشاد سولنگی “کھوکھلا وجود ” “تم نے آخر ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟” یہ ایک جملہ اب تک اس کی سماعتوں میں گونج رہا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ایک سوال تھا یا کوئی ہتھوڑا جو اس کے دل و دماغ پر برس رہا تھا۔ وہ

کفن چور

سید میثاق علی جعفری / اسلام آباد …….کفن چور ……. اسے قبرستان میں کام کرتے چالیس سال ہو گئے تھے. اس شہر ِ خموشاں کی آبادی ملک کی آبادی کے ساتھ ساتھ دن بہ دن بڑ رہی تھی اسے مُردے ورثا کے ناموں کے حوالے سے یاد تھے… قبر کے سرکاری نرخ بڑھے مردےکے3500 روپے

میں جناح کا وارث ہوں

  کتاب:میں جناح کا وارث ہوں تبصرہ :معصومہ ارشاد رحیم سولنگی تو لاکھ چھین مجھ سے ہنسی میں پھر بھی مسکرائوں گا۔۔ اندھیروں سے نکل کر میں سورج بن کر جگمگائوں گا ہاتھوں میں پڑے ہیں چھالے پر دل میرا ہے موم کا کہ میں وارث ہوں معصومہ قائد کی اس قوم کا۔۔۔۔۔ ” میں

قصہ بابا جی کا

عنوان : قصہ بابا جی کا تحریر : تاج رحیم یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ میں اسی سال کا ہوں تو بوڑھا ہو گیا ۔ آپ میدانی علاقے کے رہنے والے لوگ اس عمر میں بوڑھے ہو جاتے ہیں ۔ ہم پہاڑوں کے باسی تو اس عمر میں پہنچ کر جوانی سے لطف اندوز ہوتے

عید بن بابل کے

نظم عید بن بابل کے عیدیں بھلا اب وہ عیدیں کہاں رہی ملکے مناتے تھے جو ہنسی خوشی عید توبن کے رہ گیا اب صرف اک تہوار ہے کے چھن گیا ہم سے بابل جیسی ہستی کا پیار ہے عیدیں تو وہ تھیں جن میں ساتھ سایہ تھا شفقت کا جیون کا لمحہ لمحہ ہوتا

سیاہ چہرہ

عنوان: سیاہ چہرہ تحریر: معصومہ ارشاد سولنگی سندھ یونیورسٹی، پاکستان “سیاہ چہرہ” اس کی سیاہ رنگت سے آئمہ کو ہمیشہ سے ہی چڑ تھی۔ اوپر سے جب وہ گھر سے نکلتی تو ایک بڑی سی چادر میں خود کو ڈھانپ لیاکرتی تھی جو کے آئمہ کو اور بھی عجیب لگتا تھا “ایسے صورت پر نقاب

خوابوں کی ادلا بدلی ۔۔۔

معصومہ ارشاد سولنگی خوابوں کی ادلا بدلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ دنوں سے کافی پریشان تھی، روز روز خود سے الجھ کر وہ بہت تنگ آچکی تھی۔ آج اس نے گویا یہ طے کر لیا تھا کے وہ اب اس جنگ کو اختتام پذیر کر کے ہی چھوڑے گی ۔اس نے اپنی ساری ہمت کو یکجا

میں اور مولانا

عنوان ۔۔۔۔۔میں اور مولانا تحریر۔۔۔۔احمر اکبر کل ظہر کی نماز کے بعد مولانا صاحب مسجد میں ہی موجود تھے میں بھی سنتوں سے فارغ ہوا تو مولوی صاحب کے پاس جا کر بیٹھ گیا نمازیوں کی تعداد کم ہوتی گئی میں نے مولوی صاحب سے پوچھا ۔حضور گرمی بہت ہے اور آج کل کے روزوں

افسانے محبت کے

افسانے محبت کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ افسانہ نگار: معظم شاہ اٹک ۔ پنجاب ۔ پاکستان افسانہ: تیرے نال جدوں ، یاریاں لایاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اچھی بھلی “مردہ زندگی” گزار رہا تھا کہ اسے عشق نے آن گھیرا ۔عشق بھی ایسا جو سر چڑھ جائے تو جان لے کر ہی ٹلتا ہے ۔ میں تو محبت کی قائل

ٹپکے کا ڈر

تحریر : معصومہ ارشاد سولنگی :::::::::::::::::::::::ٹپکے کا ڈر::::::::::::::::::::::: ” ایسا کرنے سے بہت سی زندگیاں برباد ہوجائیں گی شان!اور بدنامی ہوگی سو الگ۔۔۔” اک ان دیکھا ڈر تھا جو مسلسل اسے شان کی بات ماننے سے روک رہا تھا “اوہو دل! کچھ نہیں ہوتا۔ لوگوں کا تو کام ہی ہے باتیں بنانا، دو چار روز

سیرت آئمہ اربعہ: کی زندگی کی مکمل معلومات

. سیرت آئمہ اربعہ: ~~~~~~~~~~ ۱. حیات حضرت امام ابو حنیفہ مصنف محمد ابو زہرہ مصری مترجم غلام احمد حریری صفحات 771 https://archive.org/download/HayatImamAbuHanifa/Hayat-Imam-Abu-Hanifa.PDF ~~~~~~~~~~~ ۲. امام شافعی مجدد قرن ثانی عبد السبحان ناخدا ندوی مدنی https://archive.org/download/ImamShafieMajadadQarneSani/Imam-Shafie-Majadad-Qarne-Sani.pdf ~~~~~~~~~~~ ۳. حیات امام شافعی کامران اعظم سوہدروی https://archive.org/download/HayatImamShafi/Hayat-Imam-Shafi.PDF ~~~~~~~~~~~ ۴. امام احمد بن حنبل عہد و حیات محمد

شہزاد شاکر کے قلم سے

نظم ” کرلاٹ شاعر ….. شہزاد شاکر ……………………… رات ہنیری گلاں کردی چھت اُتے اسماناں تھلے وصل بنیرے بُلھاں اُتے ہاسے لا کے آکھاں دے وچ اکھاں پا کے مینوں اوہو ویکھی جاوے دل پرچاوے سامنے بہہ کے نظر نہ آوے نما نما ہسی جاوے تارے چمکاں ماری جاون تکی جاون مینوں ساڑن میں فر

رمضان مبارک

رمضان مبارک ہو ۔ سیٹھ صاحب کو موبائل پر میسج آیا اور سیٹھ صاحب نے اللہ کا شکر ادا کیا کیونکہ ان کی دس آٹے کی فیکٹریاں ہیں جن میں ناقص ترین گندم اور آٹا سٹاک ہو چکا تھا اب وہ رمضان بازار میں ہاتھوں ہاتھ بک جاے گا ۔۔۔۔ اللہ تیرا شکر ہے ۔تیرا