وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے کہاہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے ٗ دلائل کیساتھ سپریم کورٹ میں جواب دینگے ٗ جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ نے سچ کی تلاش میں بھیجا تھا ٗ بد نیتی پر رپورٹ بنائی گئی جس میں افسانے اور رائی کا پہاڑ ہے ٗپیپلز پارٹی کی بد اخلاقی کی داستانیں ملک کے اندر اور باہر بکھری پڑی ہیں ٗ پی پی پی کو کرپشن بارے بات کر تے ہوئے اپنی چارپائی کے نیچے دیکھنا چاہئے،

(رپورٹ شھزادخلیل خان بڈانی)

وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے کہاہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے ٗ دلائل کیساتھ سپریم کورٹ میں جواب دینگے ٗ جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ نے سچ کی تلاش میں بھیجا تھا ٗ بد نیتی پر رپورٹ بنائی گئی جس میں افسانے اور رائی کا پہاڑ ہے ٗپیپلز پارٹی کی بد اخلاقی کی داستانیں ملک کے اندر اور باہر بکھری پڑی ہیں ٗ پی پی پی کو کرپشن بارے بات کر تے ہوئے اپنی چارپائی کے نیچے دیکھنا چاہئے،

عمران خان ٗ شیخ رشید ٗ اعتزاز سمیت خود ساختہ ترجمانوں کی تقاریر کا متن بھی منگوایا جائے ٗ عمران خان بھی اخلاقی جواز کے چاچے مامے بنے ہوئے ہیں ٗآپ نے کونسی بد اخلاقی نہیں کی ٗ کیا تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو گالیاں نہیں دیں ٗ وزیر اعظم نے بہت اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے ٗ اب ہمیں سیاسی اور قانونی جنگ لڑنے کی اجازت دیں ٗ عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کئے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ٗ ٗ موجودہ سازش کے ڈائریکٹر پاکستان سے باہر ٗ ادا کار پاکستان کے اندر ہیں ٗمرکزی کر دار عمران خان ادا کررہے ہیں ٗبعض سیاسی ادا کار کام کررہے ہیں ان کو جواب دینا ضروری ہے۔ منگل کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور بیرسٹر ظفر اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہاکہ ہماری پیاری جے آئی ٹی نے بہت الزامات عائد کئے ہیں کچھ جواب اسحاق ڈار نے دیا ہے اور باقی جواب سپریم کورٹ میں دینگے ۔سعد رفیق نے کہاکہ کسی بھی تحقیق یا تفتیش کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ کسی کو بلائیں تو اس کے خلاف مواد سامنے رکھیں اور جرح کریں یہاں الٹا معاملہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آپ کو سپریم کورٹ نے سچ کی تلاش کیلئے بھیجا گیا تھا آپ کا کام تھا کہ آپ نیک نیتی کیساتھ عدالتی احکامات کے مطابق پیشہ وارانہ کام کرتے ٗ یکطرفہ ٹریفک چلانا آپ کا کام نہیں تھا ٗآپ نے جانبدار ی سے کام لیا ٗ پارٹی بازی اور جانبداری آپ کا کام نہیں تھا ۔

سعد رفیق نے کہاکہ سپریم کورٹ میں پیش دستاویزات پر جے آئی ٹی نے کوئی سوال نہیں پوچھا اور جے آئی ٹی نے ایسی رپورٹ مرتب کی ہے جو افسانے ہیں ۔سعد رفیق نے کہاکہ مسلم لیگ سپریم کورٹ میں قانونی دفاع کریگی اور ثبوت بھی پیش کئے جائیں گے انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی نے بہت بھاگ دوڑ کی ہے ٗجہاں چٹھی لکھی ٗ فٹ جواب آگیا ٗ

بعض جگہ چٹھی بعد میں گئی اور جواب پہلے آگیا مجھے یہ تیاری دو ماہ کی نہیں لگتی ہے یہ تیاری سال کی لگتی ہے جنہوں نے کہانی بنانے کی کوشش کی ہے اور یہ بد نیتی پر رپورٹ بنائی گئی جس میں افسانے اور رائی کا پہاڑ ہے اس پر سپریم کورٹ میں دلائل کے ساتھ بات کرینگے ۔وزیر ریلوے نے کہاکہ وزیر اعظم کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے اس کی نئی کہانی نکالی گئی ہے اس کا دلائل کے ساتھ عدالت میں جواب دینگے ۔

وزیرریلوے نے کہاکہ پانا ما کا جوڈرامہ رچایا گیا ہے اس سازش کے ڈائریکٹر پاکستان سے باہر ہیں اور اس کے ادا کار پاکستان کے اندر ہیں مرکزی کر دار عمران خان ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آج کل اخلاقی جواز کا رونا رویا جارہا ہے اور یہ باتیں حضرت آصف علی زر داری کی جماعت کرررہی ہے جن کی اپنی بداخلاقی کی داستانیں ملک کے اندر اور باہر بکھری پڑی ہیں.

ہم ان کی فنکاری کو تسلیم کرتے ہیں کم از کم پیپلز پارٹی کو کرپشن بارے بات کر تے ہوئے اپنی چارپائی کے نیچے دیکھناچاہئے ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان بھی اخلاقی جواز کے چاچے مامے بنے ہوئے ہیںآپ نے کونسی بد اخلاقی چھوڑی ہے ٗ انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بنی گالہ سے چھلانگ لگاتے ہو اور نتھیا گلی چلے جاتے ہو اور اب نتھیا گلی سے شہروں میں آجائیں اور ہمارا مقابلہ کریں۔

انہوں نے کہاکہ کیا عمران خان نے قومی ادارہ الیکشن کو گالیاں نہیں دیں ۔وزیر ریلوے نے کہاکہ اسحاق ڈار نے علی ہجویری ٹرسٹ کے حوالے سے جو باتیں کی ہیں وہ میں نے ان کے منہ سے آج پہلی بار سنی ہیں اپنی صفائی دیتے ہوئے ہمارا اجر ضائع کرارہے ہیں ملائکہ نہیں ہم اپنی قبر کو ہر وقت یاد رکھتے ہیں سعد رفیق نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف نے اعلیٰ ظرفی کا بہت مظاہرہ کرلیا ہے۔

ہم نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ آپ اپنے دائر کار پر بات کر نے سے نہ روکیں اور ہمیں یہ جنگ سیاسی میدان میں اور قانونی ماہرین کو عدالت کو میں لڑنے دیں ۔سعد رفیق نے کہاکہ جے آئی ٹی نے کہانی در کہانی بنائی ہے ٗ کل کا دن گزر گیا اور اس کے بعد آج کا دن آیا کچھ لوگوں کو خیال تھا آج نہیں آئیگا ۔انہوں نے تحریک انصاف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ٹھمکے لگانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ کے پلے کچھ نہیں ٗ

آپ کی پارٹی کا فنڈنگ کیس چل رہا ہے ٗ الیکشن کمیشن کو گالیاں دیتے ہیں ٗکیا آپ آسمان سے اترے ہوئے ہیں ۔سعد رفیق نے کہاکہ سپریم کورٹ نے میری اور میرے ساتھیوں کی تقاریر کا متن منگوایا ہے انہوں نے کہاکہ میں تقریر کر نے سے نہیں ڈرونگا ٗتقریر نہیں کرونگا تو پھر سیاست نہیں کرونگا ہم نے خیرات میں سیاست نہیں کی ٗکسی ڈکٹیٹر شپ کیساتھ ہاتھ نہیں ملایا ٗعدلیہ بحالی تحریک میں بہاولپور اور میانوالی جیل میں بیٹھا ہوا تھا ٗ

میرا کوئی چاچا ماما نہیں تھا ایک نظریے کے تحت جنگ لڑی ٗ اس وقت وزیر اعظم نواز شریف کو دو ممالک کے وزرائے خارجہ کے ٹیلیفون آئے اور کہا آپ کی جان کو خطرہ ہے اور وزیر اعظم نے جان کی پرواہ کئے بغیر عدلیہ کی بحالی کی تحریک کیلئے نکلے اور پھر گوجرانوالہ پہنچے تو ججز بحال ہوئے سعد رفیق نے کہاکہ عمران خان صاحب اس روز پنڈی میں چھپے بیٹھے تھے ٗعمران کو پتہ نہیں تھا کہ تحریک چلتی کیسے ہے ۔

سعد رفیق نے کہاکہ میں نے اپنی ہر تقریر میں عدالت کے احترام کی بات کی ہے ٗعدالت کے سامنے سر جھکانے کی بات کی ہے ٗ یہ سر آمریت کے سامنے نہیں جھکا ٗ ہم عدالت کا احترام نہیں کریگا تو پھر کون کریگا ٗمیری اپیل ہے کہ معزز عدالت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ٗ اعتزاز احسن ٗ شیخ رشید سمیت خود ساختہ ترجمانوں کو ٹرانسکرپٹ بھی منگوائے انہوں نے کہاکہ عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کئے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔

سعد رفیق نے کہاکہ ایک لیڈر جھوٹ بول رہا ہے ٗکس کے بارے میں کہا گیا ٗ ایک دن چیف جسٹس کے ریمارکس سنے تھے کہ آپ کی بات سے فرق پڑتا ہے یہ باتیں کس کے بارے میں تھیں انہوں نے کہاکہ مخالفین ججزریمارکس کوتلوارکی طرح استعمال کرینگے توکیاہمیں یہاں سیاست نہیں کرنی۔سعد رفیق نے کہاکہ ہم نے سیاست کر نی ہے ٗ ہم نے لوگوں سے ووٹ لینے ہیں ٗ ہمیں مخالفین کا جواب دینا پڑتا ہے ۔

وفاقی وزیر بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ فیصلہ نہیں ہے رپورٹ اور عدالتی فیصلے میں فرق کر ناچاہیے انہوں نے کہاکہ ایسی رپورٹیں تو روزانہ آتی ہیں اور عمران خان کے خلاف ایسی رپورٹیں بہت ہیں انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ ان کی اپنی رائے اور خواہشات ہیں انہوں نے کہاکہ آپ یتیم خانوں کو امداد دینے کو ٹیکس چوری کہتے ہو ۔ایک سوال پر سعد رفیق نے کہاکہ ایٹمی دھماکوں کے فیصلوں کے وقت بھی معلوم تھا خمیازہ بھگتنا پڑے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *