تھوڑی سی پیتا ہوں، ارے خون تھوڑی پیتا ہوں

۔ تحریر: عبدالحنان چوہدری

آج۔(4)۔ اپریل قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی ہے۔ کون بھٹو جو روشنیاں بانٹتا تھا مگر تاریک راہوں میں مارا گیا کون بھٹو جس نے غریب کو حق کہنا لینا سکھایا کون بھٹو جس کے دل میں امت مسلمہ کا درد تھا وہ عظیم لیڈر جس نے اس ملک کو متفقہ آئین دیا کبھی صوبائیت و لسانیت پر سیاست نہیں کی جسے ہر گالی دی گئی مگر کبھی کسی نے کرپٹ نہیں کہا۔ یہ بھٹو ہی کی دور اندیشی تھی جو مستقبل کو خطرات کو بھانپ گئی ایٹمی پروگرام شروع کرکے مادر وطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی بنیادرکھی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو شروع دن سے ترقی کے دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتا تھا مگر عوام تھی کہ بھٹو کی راہ میں پلکیں بچھاتی تھی عالمی قوتوں کو ملت اسلامیہ کے روشن مستقبل کی بھنک پڑ چکی تھی پھر وہی ہوا بحیلہ مذہب بنام وطن اک آفت آن پڑی جو دیکھتے ہی دیکھتے میرے دیس سے روشنیاں کو دیس نکالا دے گئی وہ دن بھی آیا جب بھٹو تختہ دار پہ تھا امن رخصت ہوا چاہتاتھا اجالے کوچ کرچلے تھے تاریکیاں تھیں کہ بڑھتی ہی جارہی تھیں بھٹو خاموش تھا بے بس نہیں تھا زندگی کی مہلت لے سکتا تھا چند سال اور جی بھی سکتا تھا مگر کیا تھا پھر آج کوئی نہ کہتا بھٹو زندہ ہے آج گڑھی خدا بخش کے دامن میں میلہ کا سماں نہ ہوتا بھٹو کی قبر بھی اسکے حریف کی طرح چراغ کی ضیا سے محروم رہتا مگر وہ تو لیڈر تھا دلیر تھا موت کی کوٹھڑی میں کھڑا تھا چھت تھی کہ سرکو لگ رہی تھی لیٹتا تو ٹانگیں دیوار کو دھکا لگاتی تھیں سب سہتا تھا گھٹنے پہ کاغذ رکھ کے کچھ لکھتا رہتا گزرے کل کو یاد کرتا قوم پہ کیئے احسان دھرتی کو دنیا کی نظروں میں بنایا مقام یاد کرتا مگر لکھتا رہتا کیا لکھتا رہتا میں زندگی کی بھیک نہیں لونگا سانسیں وار دونگا دھرتی ماں سے عہد نبھاونگا ضمیر کا سودا نہیں کرونگا غریبوں کے خواب نہیں بیچوں گا میری بھی اک پنکی ہے میرے بھی دو لعل ہیں ہاں سنو ہاریو وہ بھی تم پہ میں وار دونگا مگر سنو تمھاری محبتیں مجھ پہ قرض ہیں میں اور میرا کنبہ کٹ جائیگا سنومزدور مگر وقت کے ہر فرعون سے ٹکرائیگا مگر سوچتا ہوں کہ میرا جرم کیا میرا جرم، آگہی میرا جرم، جرم شعور میرے دیس میں فاختہ گیت گاتی تھی امن کا سنگیت سناتی تھی پھر آفت کا پرکالا آیا جو فتنوں کا انبار لایا اندھیروں کا قبرستان لایا جس نے بنام مذہب جلا ڈالا منبر و محراب میں تو خیر تھوڑی پیتا تھا ارے خون تھوڑی پیتا تھا میرے دیس کے باسی شاداں تھے شمع فروزاں تھیں امید بہاراں تھیں یہ کس کی نظر لگی مسجد و مزار پہ خون کی ہولی چلی خون ہی خون تھا دل میں انجانا خوف تھا جاں بچانی مشکل تھی میں لکھتا رہتا تھا وہ دن بھی آئیگا تیرے اقتدار کو زوال آئیگا تو فضا میں بکھر جائیگا تیرا تخت و تاج تھل تیرا چہرہ سب پر عیاں ہوجائیگا یادرکھنا دنیا میرے نام کی تعظیم قرار کریگی اور سچ ہے بھٹو کی آج بھی تکریم کی جاتی ہے بھٹو کے نام پر جانیں قربان کرنے والے آج بھی زندہ ہیں آج بھی سیاسی بونے جو بھٹو کی گردراہ کو نہیں چھو سکتے وہ ایک سقوط ڈھاکہ کو ہی لیکر بیٹھے ہیں مگر شہید بھٹو اس ہجوم کو ایک قوم بنانا چاہتا تھا مگر روشنی کے دشمنوں نے راستہ روکا پھر بھی وہ اس قوم کو جینا سکھا گیا نوابوں جاگیرداروں سرمایہ داروں کے آگے سینہ تان کر کھڑا کرگیا قومیں پلوں اور سڑکوں کے بنانے سے نہیں بنتی عزم لگن جدوجہد دیانتداری اور تربیت سے بنتی ہے بھٹو کا جرم ہے کہ اس نے پل نہیں بنائے سڑکیں موٹر ویز نہیں بنائیں ہاں مگر سیاسی شعور دیا یہی اسکا جرم تھا بھٹو روز روز پیدا نہیں ہوتے اگر آج یہاں اسلامک ورلڈ بینک ہوتا ہماری معاشی ہوتی کہتی مگر امت مسلمہ کہاں کھڑی ہوتی مگر ہم ہمیشہ سستا سودا کرتے ہیں ضمیر کا سودا بھی ڈالروں میں کرتے ہیں تلخ سچائی یہی ہے کہ بھٹو جیسے لوگ ہمارے جیسے معاشروں میں سوٹ نہیں کرتے کیونکہ یہاں مکار عیار اور مخصوص طبقہ کے سیاہ و سفید پر جی حضور ی کیئے بغیر منزل مقصود کا حصول نا ممکن ہے بھٹو تو فیض کے ان اشعار کی مجسم تصویر تھا ۔

کرو کج جبیں سر پہ کفن میرے قاتلوں کو گمان نہ ہو

کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلادیا

جور کے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزرگئے

رہ یار ہم نے قدم قدم پہ تجھے یادگار بنا دیا۔

One Response to تھوڑی سی پیتا ہوں، ارے خون تھوڑی پیتا ہوں

  1. عبدالحنان چوہدری صاحب ذولفقار علی بھٹو ایک دلیر اور جہاندیدہ حکمران تھا اسے امریکہ نے مروادیا اور اپنے لوگوں سے۔۔۔۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *